منشی پریم چند کی افسانہ نگاری پر نوٹ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

افسانہ گلی ڈنڈا کا خلاصہ

گلی ڈنڈا منشی پریم چند کا مقبول ترین افسانہ ہے۔ اس میں انہوں نے دو دوستوں کی کہانی بتائی ہے۔ جو ایک ساتھ گلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے اور ساتھ ہی انھوں نے گلی ڈنڈے کی خوبیاں گنوائی ہیں کہ کس طرح یہ کھیل انگریزی کھیلوں سے منفرد ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ اس کے لیے نہ تو کسی نٹ، بلے یا بڑے میدان کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی دوسرے کھیلوں جیسے کرکٹ ہاکی وغیرہ کی طرح ٹیم کی ضرورت پڑتی ہے۔

گلی ڈنڈے کے لئے صرف دو آدمی بھی ہوں تو یہ کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ بچپن کی یادوں میں گلی ڈنڈا ہی سب سے شیریں اور خوبصورت یاد ہے۔ وہ صبح سویرے گھر سے نکلنا، وہ پدنا پدانا ، وہ لڑائی جھگڑے جس میں چھوت چھات غریب امیر میں کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔۔۔۔۔

گلی ڈنڈا میں مصنف کے علاوہ اس کا دوست گیا بھی تھا جو مصنف سے عمر میں دو تین سال بڑا تھا دبلا پتلا اور لمبا تھا۔ وہ گلی ڈنڈے کا ماہر تھا اور گلی ڈنڈا کلب کا چیمپئن تھا۔ ایک دن مصنف اور گیا دونوں کھیل رہے تھے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ میں پد رہا تھا اور وہ پدا رہا تھا۔ عجیب و غریب بات یہ ہے کہ پدانے میں دن بھر مست رہ سکتے ہیں، پدنا ایک منٹ بھی سہا نہیں جاتا۔ پدتے پدتے میں تھک گیا اور گلا چھڑانے کے لیے سب چالیں چلیں جو ایسے موقع پر خلاف قانون ہوتے ہوئے بھی قابل معافی تھیں۔ لیکن گیا اپنے داؤں کے بغیر آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتا تھا۔ میں گھر کی طرف بھاگا۔ گیا نے مجھے ایک ڈنڈا مارا اور میں ایک تھانے دار کا بیٹا ہوتے ہوئے بھی گیا سے پٹ گیا۔

انہی دنوں میرے والد صاحب کا وہاں سے تبادلہ ہو گیا۔ بیس سال گزر گئے انجینئرنگ کرنے کے بعد ضلعوں کا دورہ کرتے ہوئے اس قصبے میں پہنچا۔ لیکن اب وہاں کا منظر بالکل تبدیل ہو چکا تھا۔ چنانچہ میں قصبے کی سیر کے لئے نکلا تو اچانک میں نے دو تین لڑکوں کو گلی ڈنڈا کھیلتے دیکھا۔ ایک لمحے کیلئے میں اپنے آپ کو بالکل بھول گیا کہ میں ایک بڑا افسر ہوں۔

میں نے ایک لڑکے سے پوچھا کہ گیا نام کا کوئی آدمی یہاں رہتا ہے؟ وہ لڑکا دوڑتا ہوا گیا اور جلد ہی وہ اپنے ساتھ ایک کالے دیو کو لے آیا۔ میں نے گیا سے پوچھا گیا مجھے پہچانتے ہو۔۔۔تو گیا نے جھک کر سلام کیا ہاں مالک! بھلا پہچانوں گا کیوں نہیں۔ میں نے پوچھا کہ اب بھی گلی ڈنڈا کھیلتے ہو؟ اس نے کہا گلی ڈنڈا کیا کھیلوں گا سرکار اب تو پیٹ کے دھندے سے چھٹی نہیں ملتی۔۔۔۔

میں نے گیا سے کہا کہ چلو آج ہم اور تم کھیلتے ہیں۔ تم پدانا اور میں پدونگا۔۔۔ تمہارا ایک داؤں میرے اوپر ہے۔ وہ آج لے لو۔ گیا بڑی مشکل سے راضی ہوا گاڑی میں بیٹھ کر ہم بستی سے دور نکل گئے۔ اور ہم نے گلی ڈنڈا کھیلنا شروع کیا۔ میں نے گلی رکھ کر اچھالی اور گلی گیا کے سامنے سے نکل گئی۔

یہ وہی گیا تھا جس کے ہاتھوں میں گلی آپ ہی آپ پہنچ جاتی تھی لیکن آج گلیوں کو اس سے وہ محبت نہیں رہی تھی۔ میں پدانے کے لیےطرح طرح کے فریب کر رہا تھا۔گیا کی باری آنی چاہیے تھی۔ لیکن گیا سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں بولتا تھا۔ مجھے گیا کی سادگی پر رحم آنے لگا میں نے اسے دعوت دی۔ گیا نے پدانا شروع کیا۔ضلع انجینئر ہو جانے کی وجہ سے مجھے گلی ڈنڈا کھیلنے کی بالکل عادت نہیں رہی تھی۔

بہرحال ہم کھیل ختم کرکے گاڑی میں بیٹھے۔ گیا نے کہا کی کل گلی ڈنڈے کا میچ ہوگا میں اگلے دن میچ دیکھنے کے لیے نکلا۔ تو وہاں دس آدمیوں کا گروہ تھا۔ میچ شروع ہوا آج میں گیا کے کھیل کو دیکھ کر دھنگ رہ گیا کہ کل وہ کس جھجھک کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ آج وہ بالکل بھی نہ تھی۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ کل وہ میرے ساتھ کھیل نہیں رہا تھا بلکہ کھلا رہا تھا۔۔۔۔

اب میں افسر ہوگیا۔ بچپن میں میں اس کا ساتھی تھا اس لیے کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ یہ عہدہ پا کر اب میں خود اس کے رحم کے قابل ہوں اور اب وہ مجھے اپنا ساتھی نہیں سمجھتا ہے۔ وہ بڑا ہو گیا ہے اور میں چھوٹا رہ گیا یعنی اب میں اس کے لئے افسر ہو گیا ہوں اور ہم دونوں سماج کی طبقاتی کشمکش کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔