Advertisement

کہانی کا مختصر خلاصہ

کنواں بیچا ہے کنوین کا پانی نہیں۔ یہ کہانی عادل اسیر دہلوی کی ہے۔ کہانی کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔ ایک شخص بہت چالاک اور ہوشیار تھا۔ وہ اپنی عقل کا ہمیشہ غلط استعمال کرتا تھا اور بہت خود غرض قسم کا آدمی تھا۔ اس کے پاس ایک کنواں تھا ، وہ اس کنویں سے کسی کو بھی پانی نہیں لینے دیتا تھا۔ اسے لوگ سمجھاتے تھے کہ اگر اس کنویں سے کسی کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔۔۔اللہ تمہیں اس کا بہترین بدلہ دیگا۔

Advertisement

لیکن اس پر کسی کا اثر نہیں ہوتا تھا۔ پھر ایک سخی اور خدا ترس آدمی نے اس کنویں کو خرید لیا اور خدا کی مخلوق کے لئے وقف کر دیا۔ اس خود غرض اور لالچی انسان نے کنویں کی قیمت دوگنی وصول کی لیکن دوسرے دن کیا دیکھتے ہیں کہ وہ لالچی آدمی کنویں کے پاس بیٹھا ہے اور کسی کو پانی نہیں لینے دیتا۔ لوگوں نے یہ بات اس سخی آدمی تک پہنچائی۔ اس نے خود غرض انسان سے پوچھا اب تمہارا کیا کام ہے ؟ یہ کنواں تو میں نے خرید لیا ہے۔ لیکن وہ بد خصلت آدمی کہنے لگا کہ میں نے تمہیں کنواں بیچا ہے کنویں کا پانی نہیں اس لئے کنویں کا پانی میرا ہے۔ میں جو چاہے اس کا کروں۔

Advertisement

سخی آدمی نے بھی اسی کی زبان میں جواب دیا کہ اگر پانی تمہارا ہے تو کنواں میرا ہے تم اپنا پانی لے جاؤ ورنہ تمہارا پانی رکھنے کے لئے میں کرایہ لوں گا۔اب وہ چالاک آدمی گھبرا گیا اور کہنے لگا کہ پانی تو اللہ کا ہے مجھے معاف کرو۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔

Advertisement

سوچیے اور بتائیے۔

سوال: کنویں کا مالک کیسا آدمی تھا ؟

جواب: کنویں کا مالک ایک خود غرض اور نہایت کنجوس قسم کا آدمی تھا۔

سوال: آس پاس کے لوگ کنویں کے مالک کو کیا سمجھاتے تھے ؟

جواب: آس پاس کے لوگ کنویں کے مالک کو یہ سمجھاتے تھے کہ یہ کنواں تم اپنے ساتھ نہیں لے جاؤگے۔ اگر اس سے کسی کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو اللہ تمہیں اس کا اجر دیگا۔

Advertisement

سوال: خدا ترس آدمی نے کنواں کیوں خریدا ؟

جواب: خدا ترس آدمی نے کنواں اس لئے خریدا کیونکہ اس کا مالک اس سے کسی کو پانی نہیں لینے دیتا تھا۔چنانچہ خدا ترس آدمی نے کنواں خرید کر اللہ کی مخلوق کے لئے وقف کر دیا۔

سوال: کنویں کے مالک نے لوگوں کو پانی پینے سے کیوں روک دیا ؟

جواب: کنویں کے مالک نے لوگوں کو پانی پینے سے اس لئے روک دیا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ کنویں کا پانی میرا ہے۔ اس لئے جس کو چاہو پانی لینے سے منع کرو۔

Advertisement

سوال: کنویں کے پانی کے بارے میں کنجوس نے سخی سے کیا جرح کی ؟

جواب: کنویں کے پانی کے بارے میں کنجوس نے سخی سے یہ جرح کی کہ میں نے کنواں تمہیں ضرور بیچا ہے لیکن اس کا پانی نہیں۔ معاہدے میں پانی کا کہیں ذکر نہیں تھا۔

نیچے دے ہوئے جملوں کو واقعات کی ترتیب سے لکھیے۔

  • 1. ایک خدا ترس آدمی نے کنواں خرید کر اللہ کی مخلوق کے لے وقف کر دیا۔
  • 2. ایک شخص بہت چالاک اور ہوشیار تھا۔
  • 3. بھائی ٹھیک کہتے ہو پانی تو خدا کا ہے۔ مجھ سے غلطی ہوئی معاف کر دو۔
  • 4. اپنی عقل کا وہ ہمیشہ غلط استعمال کرتا تھا۔
  • 5. کنواں میں خرید چکا ہوں اور تمہیں اس کی پوری قیمت بھی ادا کی جا چکی ہے۔

واقعات کی ترتیب

  • 1۔ایک شخص بہت چالاک اور ہوشیار تھا۔
  • 2۔ اپنی عقل کا وہ ہمیشہ غلط استعمال کرتا تھا۔
  • 3۔ ایک خدا ترس آدمی نے کنواں خرید کر اللہ کی مخلوق کے لے وقف کر دیا۔
  • 4۔ کنواں میں خرید چکا ہوں اور تمہیں اس کی پوری قیمت بھی ادا کی جا چکی ہے۔
  • 5۔ بھائی ٹھیک کہتے ہو پانی تو خدا کا ہے۔ مجھ سے غلطی ہوئی معاف کر دو۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں میں مذکر اور مؤنث پہچانیے۔

مذکرکنواں, شخص, مقصد, بھائی
مؤنثپانی, قیمت, فطرت, مصیبت

نیچے دیے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے۔

کنجوسسخی
غلطصحیح
خریدفروخت
نیکبد
فائدہنقصان
Advertisement

Advertisement

Advertisement