Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

تعارف مصنفہ

پروین شاکر کا شمار اردو کی مشہور خواتین شاعرات میں ہوتا ہے۔ آپ 1952ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں اور 1994ء میں ایک کار حادثے میں ان کا انتقال ہوا۔ انگریزی ،لسانیات اور بینک ایڈمنسٹریشن میں ایم اے کیا۔ان کی شاعری میں مرد کے حوالے سے عورت کے احساسات اور جذباتی مطالبات کی لطیف ترجمانی ملتی ہے۔

Advertisement

ان کی شاعری نہ تو آہ و زاری والی روایتی عشقیہ شاعری ہے اور نہ کُھل کھیلنے والی رومانی شاعری۔ جذبہ و احساس کی شدّت اور اس کا سادہ لیکن فنکارانہ بیان پروین شاکر کی شاعری کا خاصہ ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام “خوشبو” 1976ء میں منظر عام پر آیا۔ جبکہ دیگر شعری مجموعوں میں “صد برگ”، “خود کلامی ” اور “افکار” شامل ہیں۔ “ماہ تمام” کے نام سے ان کا کلیات شائع ہوا۔ 1990ء میں آپ کو پاکستانی اعزاز “نشان امتیاز” سے نوازا گیا۔ ان کی شاعری میں نسوانی احساسات و جذبات کی بھرپور عکاسی موجود ہے۔

Advertisement

غزل کی تشریح:

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے

یہ شعر پروین شاکر کی غزل سے لیا گیا ہے اس شعر میں شاعرہ کہتی ہیں کہ جب بارش برسی تو اس نے بہار کو دعوت دی جس کی وجہ سے پھولوں کے تن چاک ہوے یعنی وہ کھل اٹھے۔برستی بارش میں جب یہ پھول بھیگے اس کی وجہ سے ان میں بھی موسم کی سی سختی و سفاکی آ گئی۔

Advertisement
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

اس شعر میں شاعرہ کہتی ہیں کہ بادل کا کام ہے بارش برسانا جبکہ زمین پر موجود مخلوق ہمیشہ بارش کی چاہ کرتی ہے۔ اب بادلوں کو کون خبر دے کہ اس بارش کی چاہت میں نہ جانے کتنے بلند وبالا درخت ان بادلوں کے برسنے کی شدت کی وجہ سے ختم ہو گئے یعنی خاک میں مل گئے۔

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

اس شعر میں پروین شاکر کہتی ہیں کہ جگنو ایک ایسا کیڑا ہے جو ہمیشہ صرف اندھیرے میں جگمگاتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر ہمارے دور کے بچوں میں نہ جانے کیسی ضد اور چالاکی در آئی ہے کہ وہ اسے دن کے وقت دیکھنے اور پرکھنے کی ضد کرتے ہیں۔

Advertisement
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے

اس شعر میں شاعرہ کہتی ہیں کہ موسم کی تبدیلی نے گھاس کو بھی بہادر بنا دیا کہ جیسے ہی اس نے سورج کی چمک کو دیکھا تو سورج کی چمک اور تپش پا کر یہ گھاس بے باک ہوگئی اور اپنے اوپر سے برف کی چادر ہٹا کر باہر جھانکنے لگی۔

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

اس شعر میں شاعرہ کہتی ہیں کہ بارش کے برسنے کی وجہ سے جب جل تھل ہوا تو بستی میں پانی کے اندر رہنے والی جتنی مخلوق تھی انھیں یوں محسوس ہوا کہ گویا دریا نے اپنا رخ بدل کر ان کی بستی کو پانی سے لبریز کردیا ہے تو وہ سب بھی پھر سے تیرنے لگے۔ یعنی وقت اور حالات کا بدلاؤ ہر انسان جو بھی وقت کا بہاؤ سمجھا دیتا ہے۔

Advertisement
جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

اس شعر میں شاعرہ کہتی ہیں کہ جب کبھی کسی غریب شہر وہاں کے باسیوں سے بات چیت ہوئی تو ان کی تکالیف نے ہمیشہ مجھے غم زدہ کیا اور یہی نہیں بلکہ اس وقت چلنے والی شام کی ہواؤں میں بھی یہ اداسی اور نمناکی محسوس کی جا سکتی ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:مطلعے میں شاعرہ نے کیا بات کہنا چاہی ہے؟

اس شعر میں شاعرہ کہتی ہیں کہ جب بارش برسی تو اس نے بہار کودعوت دی جس کی وجہ سے پھولوں کے تن چاک ہوے یعنی وہ کھل اٹھے۔برستی بارش میں جب یہ پھول بھیگے اس کی وجہ سے ان میں بھی موسم کی سی سختی و سفاکی آ گئی۔

Advertisement

سوال نمبر02:درج ذیل تراکیب اضافی ہے یا ترکیب توصیفی؟
غریبِ شہر،ہوائے شام

ذیل میں دی گئی تراکیب میں ” غریب شہر” اضافی و توصیفی جبکہ ” ہوائے شام” اضافی ترکیب ہے۔

سوال نمبر03:اس غزل کی خوبیاں بیان کیجیے؟

اس غزل کی خوبی اس کا انداز بیان ہے کہ شاعرہ نے موسم کی تبدیلی کو نہایت خوبصورتی سے اور شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے۔اس میں موسمی تبدیلیوں کا بیان نہایت اچھوتا ہے۔

Advertisement
Advertisement