سبق کا خلاصہ

اس ڈرامے میں یہ بتایا گیا ہے کہ بادشاہ سلامت کو شاہی دعوت کے لئے مچھلیوں کی ضرورت تھی۔ اس نے وزیر اعظم سے کہا کہ بنا مچھلی کے تو شاہی دعوت میں کوئی مزہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم بولا کہ بادشاہ سلامت میں نے چاروں طرف یہ اعلان کروا دیا ہے کہ جو کوئی بھی مچھلی لے کر آئے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک مچھیرا سنہری اور تازہ مچھلیاں لے کر داخل ہوا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اس نے کہا بتاؤ تم کیا انعام چاہتے ہو؟ مچھیرے نے کہا کہ بادشاہ سلامت میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے سو کوڑے لگوائے۔

یہ سن کر بادشاہ اور دیگر لوگ بڑے تعجب میں ہوئے۔ لیکن بادشاہ کو اپنا وعدہ پورا کرنا تھا، چنانچہ اس نے کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ جب پچاس کوڑے لگ چکے تو مچھوارے نے بادشاہ سلامت سے کہا کہ پچاس کوڑے دربان کولگنے چاہیے۔۔۔ جس نے دربار میں داخل ہوتے ہوئے مجھ سے کہا تھا کہ بادشاہ جو کچھ بھی انعام دینگے اس میں سے آدھا مجھے دینا۔ بادشاہ نے دربان کو بلایا اور اسے پچاس کوڑے زور سے لگوائے اور اس کو نوکری سے نکال دیا۔اور مچھوارے کو اشرفیوں کی تھیلی انعام میں دی۔

سوچیے اور بتائیے۔

سوال: بادشاہ کو مچھلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جواب: بادشاہ کو مچھلی کی ضرورت شاہی دعوت کے لئے پیش آئی۔

سوال: مچھیرے نے مچھلی کا انعام کیا مانگا۔؟

جواب: مچھیرے نے مچھلی کا انعام سو کوڑے مانگا۔

سوال: عالم پناہ کس کے لیے کہا گیا ہے؟

جواب: عالم پناہ بادشاہ کے لیے کہا گیا ہے۔

سوال: مچھیرے کے انعام میں کون برابر کا شریک تھا؟

جواب: مچھیرے کے انعام میں دربان برابر کا شریک تھا۔

سوال: بادشاہ نے آخر میں مچھیرے کو کیا انعام دیا؟

جواب: بادشاہ نے آخر میں مچھیرے کو اشرفیوں کی تھیلی انعام میں دی۔

سوال نمبر 2: ٹوکری کی جمع ٹوکریاں۔ اسی طرح نیچے دے ہوئے الفاظ میں "اں” لگا کر جمع بنائیے۔

واحدجمع
اشرفیاشرفیاں
نوکرینوکریاں
مچھلیمچھلیاں
خوشیخوشیاں
تھیلیتھیلیاں

سوال نمبر 3: نیچے دیئے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

عقل ماری جاناحامد نے ناصر سے کہا کہ تمہاری عقل ماری گئی ہے کیا۔
منھ مانگا انعام پانابادشاہ نے وزیر کو منھ مانگا انعام دیا۔
جان کی امان پانابادشاہ نے مچھوارے کو جان کی امان دی۔

سوال نمبر 4: تازہ مچھلی میں لفظ "تازہ” صفت ہے۔ آپ اس سبق سے مچھلی کی کچھ اور صفتیں تلاش کیجے۔

عمدہ مچھلی
سنہری مچھلی

عملی کام

اس ڈرامے کے سبھی کرداروں کے نام لکھیے۔

بادشاہ سلامت
وزیراعظم
داروغہ
مچھیرا
دربان
سپاہی
جلاد