افسانے کا خلاصہ:

میں،وہ شفیع جاوید کا افسانہ ہے۔جس کی کہانی ایک نوجوان اور ضیعف آدمی کے گرد گھومتی ہے۔نوجوان روز صبح سیر کی غرض سے آتا ہے اور سیر سے فراغت پانے کے بعد پلیٹ فارم پر بیٹھ کر اخبار کا مطالعہ کرتا ہے۔وہیں ایک بوڑھا شخص جس کا جسم جکھا ہوا ہے، دایاں کندھا نیچے جکھا ہوا ہے تجسس سے بیٹھا پلیٹ فارم پر ہر آتی جاتی ٹرین کو دیکھتا ہے۔ اس کی نگاہیں مسلسل پٹنہ جنگشن کو دیکھتی رہتی ہیں۔جیسے شاید وہ کسی کے انتظار میں ہوں۔

نوجوان روز یہ منظر دیکھتا ہےمگر اس سے کچھ پوچھتا نہیں ہے۔ روزانہ یہ بوڑھا سٹیشن پر موجود ایک پان والے سے پوچھتا ہے کہ آرہ کی ٹرین کب آئے گی۔ اور روز ایک ہی جواب پا کر کہ ٹرین جا چکی ہے کل آنا وہ بوڑھا چلا جاتا ہے۔روز کئی ٹرینیں آتی ہیں جن میں کبھی ڈیلکس،راجدھانی وغیرہ ہوتی ہیں۔ایک روز وہ نوجوان اس بو ڑھے سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ آج راجدھانی جو کہ شاہی ٹرین ہے، لیٹ ہے بابا۔

پہلی بار بوڑھے نے نوجوان کی جانب مسکرا کر دیکھا۔نوجوان کو اس کی مسکراہٹ بہت گہری اور بوڑھی معلوم ہوئی۔جیسے ہی نوجوان اور بوڑھے شخص کی گفتگو کا آغاز ہوا نوجوان نے بوڑھے شخص سے پوچھا کہ وہ روزانہ یہاں کس لیے آتا ہے۔بوڑھے نے جواب دیا کہ میں اپنے لیے آتا ہوں۔نوجوان کے نہ سمجھنے پر اسے اپنے اندر کی کہانی بتانے لگ جاتا ہے۔کہ میں اپنے جیون کا تیرتھ یاتری ہوں اور جو میری منزل ہے میں اس کو پہنچ نہیں پایا ہوں یا میں راستہ بھٹک گیا ہوں۔نوجوان کے پھر بھی نہ سمجھ پانے پر اس نے اسے بتایا کہ تم نے ابھی زندگی دیکھی ہی کہاں ہے؟ اس زندگی کے بہت زیادہ امتحان ہیں۔

اس دوران بزرگ نوجوان کو اپنی زندگی کے کئی طرح کے تجربات بتاتا ہے کہ اس کے چہرے او ر آنکھوں نے جتنی زندگی کی بہاریں دیکھی ہیں وہ سب تجربات اس نوجوانوں کے پاس نہیں ہیں۔نہ تو اس نے کبھی کڑی دھوپ میں سائیکل کو پنکچر لگوایا ہے اور نہ ہی لالٹین کے شیشے کو راکھ سے صاف کیا اور نہ ہی ٹوٹے شیشے کو پرانے پوسٹ کارڈ سے چپکا کر جوڑا ہے۔تم نے تو بجلی آنے سے پہلے کی شانتی دیکھی ہی نہیں ہے۔بوڑھا مسلسل بولتا جا رہا تھا کہ تم نے اعصاب زدہ زندگی گزاری ہے۔تم نے وہ زندگی جی ہی کہاں ہے جہاں پانی کوئی دوسرا پیے اور پیاس تمہاری مٹے۔

سب باتیں سننے کے بعد نوجوان دوبارہ ہمت کڑی کرکے پوچھتا ہے کہ بابا آپ ہیں کون؟ تب بوڑھا خود کو بلوریں شیشے میں قید مچھلی بتاتا ہے جسے شیشے کے اندر بس مقید کیا گیا ہوتا ہے۔ جسے باہر کے لوگ تو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں مگر اسے بھلا باہر کیا دکھائی دینا ہے۔وقت گزر گیا وہ نوجوان اپنی آواز کو بوڑھا محسوس کرنے لگا۔جب اس نے پان والے سے دریافت کیا کہ آرہ جانے والی ٹرین کب آئے گی اور وہی جواب پا کر کہ بابا کل آنا۔افسانہ نگار نے کہانی کا جس طرح سے اختتام کیا اس سے "وہ ،میں” میں ایک تعلق سا بن گیا کہ کہانی کے اختتام تک آتے آتے وہ خود ہی میں بن جاتا ہے۔اور افسانے کا ایک کردار بھی بن گیا۔

سوالات۔

سوال نمبر 1: اس افسانے کا عنوان "میں،وہ” کیوں رکھا گیاہے؟پانچ جملوں میں لکھیے۔

کہانی میں موجود نوجوان کردار ہی آخر میں بابا کا کردار بن جاتا ہے۔نوجوان اور بزرگ کے کرداروں سے کہانی کو بیان کرتے ہوئے "میں،وہ” کے عنوان سے کہانی میں معنی خیزی پیدا کی گئی ہے۔افسانے میں ایک ہی کردار کے ارتقا کو میں اور وہ کا عنوان دے کر جوانی سے بڑھاپے کی جانب زندگی کا ارتقا دکھایا گیا ہے۔”میں اور وہ کے عنوان سے پلیٹ فارم پر موجود نوجوان اور بزرگ کے درمیان اجنبیت کو بیان کرنے کے لئے بھی اس عنوان کو چنا گیا ہے۔

سوال نمبر 2:’تم نے زندگی کہاں دیکھی ہے بیٹا،تم کیا سمجھ پاؤگے؟’اس جملے کے ذریعے بوڑھا شخص کیا کہنا چاہتا ہے؟

اس جملے کے ذریعے بوڑھا شخص نوجوان کو زندگی کے ان تجربات کا نچوڑ بتانا چاہ رہا ہے جو اس بوڑھے شخص کی زندگی میں وقت کے تسلسل کی دین ہیں۔

سوال نمبر 3:”اب موت نہیں ،زندگی مایوس کرتی ہے” اس جملے کی وضاحت افسانے کے سیاق وسباق میں کیجیے۔

افسانے کے تناظر میں ‘اب موت نہیں زندگی مایوس جرتی ہے’ سے مراد ہے کہ موت کی تو ایک اٹل حقیقت ہےمگر زندگی نے جس طرح اپنا انداز اور رنگ ڈھنگ بدلا ہے وہ تکلیف دہ ہے اور یہ بدلاؤ کہانی کے کردار کو مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

سوال نمبر 4: بوڑھے کے کردار کی تصویر کشی اس افسانے میں کس طرح کی گئی ہے؟

بوڑھے کا کردار یوں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ضعیف آدمی ہے جس کا جسم جھکا ہوا ،ہلکا خم کھایا ہوا،داہنا کاندھا کچھ نیچے اور بایاں ہاتھ کبھی سیدھا کبھی کمر پر رکھا ہوا۔یہ بوڑھا روز صبح پلیٹ فارم پر بیٹھا منتظر نظروں سے آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھتا رہتا ہے۔اس کی نگاہیں کسی کی کھوج میں رہتی ہیں۔وہ کھوج گزرتے وقت کی کھوج ہے۔

عملی کام۔

سوال: اس افسانے(میں،وہ) کا پلاٹ اپنے لفظوں میں لکھیے۔

یہ افسانہ اکہرے پلاٹ کا حامل ہے۔جس میں افسانہ نگار دوسرے کردار کے قصے کو کچھ اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ انجام کے وقت وہ خود بھی افسانے کا حصہ بن جاتا ہے۔اکہرے پلاٹ کا حامل ہونے اور ایک ہی کردار کی کہانی ہونے کے باعث افسانے کا پلاٹ منتشر معلوم نہیں ہوتا ہے بلکہ کہانی کو ڈرامائی تشکیل دے کے نہایت خوبصورتی سے بنا گیا ہے۔