Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر03: مضمون
  • سبق کا نام: لوک گیت

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ہندوستانی لوک گیتوں کے متعلق اہم معلومات کو بیان کیا گیا ہے۔لوک گیت سے مراد وہ گیت ہیں جو عوام میں بہت مقبول ہوتے ہیں اور جنھیں اکثر عوام ہی گاتے ہیں۔ یہ چھپی کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں۔ ان کے بارے میں کم ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کس کے لکھے گئے ہیں۔ یہ گیت زیادہ تر لوگوں کی زبان پر ہوتے ہیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتے ہیں۔

Advertisement

ان گیتوں میں عوامی زندگی کی منظر کشی ہوتی ہے۔لوک گیت کے موضوعات میں ان میں عام زندگی کی جھلک پائی جاتی ہے۔ کھیت،کھلیان، ندی نالے، پنکھٹ ،کنویں ،تالاب ، میلوں ٹھیلوں اور پیدائش سے موت تک کی چیزوں کا ذکر موجود ہوتا ہے۔ یہ گیت ایسے سریلے ہوتے ہیں کہ آپ ان کے پورے بول نہ بھی سمجھ پائیں تو بھی لطف دیتے ہیں اور ان کے اپنائیت پیار اور سادگی کی وجہ سے باآسانی یاد ہو جاتے ہیں۔ انھیں گانے بجانے کے لیے باقاعدہ علم کی ضرورت نہیں۔

Advertisement

انھیں گانے کے کیے ایک سارنگی ،بانسری ،ایکتا ،گھڑا،ڈھول یا ڈھولک ہی کافی ہوتی ہے۔ یہ بغیر ساز کے بھی گائے جا سکتے ہیں۔ بارہ ماسہ اس کی مشہور شکل ہے۔لوک گیتوں میں دیہات اور قصبات کی سماجی زندگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اگر شادی کا گھر ہو تو گھر کی سجاوٹ ، دلہا دلہن ،مہمانوں کی سج دھج ، باراتیوں کے ناز نخرے، رت جگے ،سہرے ،منتیں رخصتی ،مہندی ابٹن وغیرہ اور موسموں کی بات ہو تو برسات کا بیان ،بجلی،مور ،کوا ،کوئل جانداروں کا ذکر ہو تو گائے،بھینس ،بکری وغیرہ غرض تمام چیزوں کا ذکر لوک گیتوں میں آتا ہے۔جہاں لوک گیت ہیں وہاں زندگی سے پیار ہے۔

جاڑوں کی رت میں الاؤ کے آس پاس بیٹھے ہوۓ بچپن کے ساتھی کسی جانے پہچانے گیت میں سوئے ہوئے سپنے جگاتے ہیں۔ چاندنی راتوں میں بچپن کی سکھیاں چوڑیوں کی کھنک اور پائلوں کی جھنکار سے ان گیتوں میں چار چاند لگاتی ہیں۔لوک۔گیت تو ہر زبان میں ہوتے ہیں لیکن عوام میں شمالی ہندوستان کی برج بھاشا، اودھی اور بھوج پوری کے گیت اور راجستھانی لوک گیت بہت مقبول ہیں۔ ان میں ہماری تہذیب رچی بسی ہے۔ ٹی وی اور فلموں نے انھیں بہت رواج دیا۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

لوک گیت کسے کہتے ہیں؟

لوک گیت سے مراد وہ گیت ہیں جو عوام میں بہت مقبول ہوتے ہیں اور جنھیں اکثر عوام ہی گاتے ہیں۔ یہ چھپی کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں۔ ان کے بارے میں کم ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کس کے لکھے گئے ہیں۔ یہ گیت زیادہ تر لوگوں کی زبان پر ہوتے ہیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتے ہیں۔

لوک گیتوں کے موضوعات کیا ہوتے ہیں؟

لوک گیت کے موضوعات میں ان میں عام زندگی کی جھلک پائی جاتی ہے۔ کھیت،کھلیان، ندی نالے، پنکھٹ ،کنویں ،تالاب ، میلوں ٹھیلوں اور پیدائش سے موت تک کی چیزوں کا ذکر موجود ہوتا ہے۔

Advertisement

لوک گیتوں میں دیہات اور قصبات کی سماجی زندگی سے تعلق رکھنے والی کن باتوں کو پیش کیا جا تا ہے؟

لوک گیتوں میں دیہات اور قصبات کی سماجی زندگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اگر شادی کا گھر ہو تو گھر کی سجاوٹ ، دلہا دلہن ،مہمانوں کی سج دھج ، باراتیوں کے ناز نخرے، رت جگے ،سہرے ،منتیں رخصتی ،مہندی ابٹن وغیرہ اور موسموں کی بات ہو تو برسات کا بیان ،بجلی،مور ،کوا ،کوئل جانداروں کا ذکر ہو تو گائے،بھینس ،بکری وغیرہ غرض تمام چیزوں کا ذکر لوک گیتوں میں آتا ہے۔

عوام میں کہاں کہاں کے لوک گیت زیادہ مقبول ہیں؟

عوام میں شمالی ہندوستان کی برج بھاشا، اودھی اور بھوج پوری کے گیت اور راجستھانی لوک گیت بہت مقبول ہیں۔

Advertisement

خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے بھریے:

الاؤ ،پیار ،گیت ،کھنک ، بچپن ،جگاتے، لوک گیت ،جھنکار ، سکھیاں۔

  • جہاں لوک گیت ہیں وہاں زندگی سے پیار ہے۔ جاڑوں کی رت میں الاؤ کے آس پاس بیٹھے ہوۓ بچپن کے ساتھی کسی جانے پہچانے گیت میں سوئے ہوئے سپنے جگاتے ہیں۔ چاندنی راتوں میں بچپن کی سکھیاں چوڑیوں کی کھنک اور پائلوں کی جھنکار سے ان گیتوں میں چار چاند لگاتی ہیں۔

نیچے دیے گئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

منظر کشیاحمد نے تصویر میں پہاڑ کی منظر کشی کی۔
کوششکوشش اور مسلسل محنت سے انسان ناممکن کو ممکن بنا لیتا ہے۔
چارچاند لگانااحمد کی آمد نے محفل کو چار چاند لگا دیے۔
خوشی سے جھومنااول آنے پر احمد خوشی سے جھومنے لگا۔
سجاوٹشادی ہال کی سجاوٹ بہت منفرد انداز میں کی گئی تھی۔

اس سبق میں جذبات، قصبات لفظ آۓ ہیں یہ جذبہ اور قصبہ کی جمع ہیں۔ آپ نیچے لکھے الفاظ کے واحد بنائیے۔

واحدجمع
خیالخیالات
خطرہخطرات
سوالسوالات
جوابجوابات
مقاممقامات
عمارتعمارات

نیچے لکھے ہوۓ لفظوں کے جوڑ ملائیے :

الفب
تالتلیا
رتجگے
باغبغیچہ
نازنخرے
چھیڑچھاڑ
سجدھج

Advertisement