• کتاب”دور پاس” برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر02:کہانی
  • سبق کا نام: تین مچھلیاں

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ایک تالاب میں رہنے والی تین مچھلیوں کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔ ان مچھلیوں کی عادات یوں تھیں کہ پہلی مچھلی کو کوئی الجھن ہوتی تو اسے فوراً حل کرنے کی کوشش کرتی تھی اور کسی کا انتظار نہیں کرتی تھی۔جبکہ دوسری ہوشیار تھی اور وقت پر پڑنے والی مشکل کا سامنا کر لیتی جبکہ تیسی مچھلی کی عادت تھی کہ جب جو ہونا ہے وہ ہو کے رہے گا۔

یوں ایک روز وہاں ایک شکاری آیا۔تینوں مچھلیوں نے اس کی گفتگو سنی۔پہلی مچھلی فورا ساتھ والے تالا ب میں چلی گئی۔ دوسرے دن شکاری جال لے کر آ پہنچا۔دوسری مچھلی نے خود کو مرا ہوا ظاہر کر کے اپنی جان بچا لی۔تیسری مچھلی نے نہ بروقت کچھ کیا اور نہ کوئی ترکیب سوچی یہی وجہ ہے کہ وہ جال میں پھنس گئی۔یوں وہ مچھلی شکار بن گئی۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

پہلی مچھلی الجھن کے وقت کیا کرتی تھی ؟

پہلی مچھلی کو کوئی الجھن ہوتی تو اسے فوراً حل کرنے کی کوشش کرتی تھی اور کسی کا انتظار نہیں کرتی تھی۔

دوسری مچھلی نے اپنی جان کس طرح بچائی؟

دوسری مچھلی نے خود کو مرا ہوا ظاہر کر کے اپنی جان بچا لی۔

تیسری مچھلی جال میں کیوں پھنسی؟

تیسری مچھلی نے نہ بروقت کچھ کیا اور نہ کوئی ترکیب سوچی یہی وجہ ہے کہ وہ جال میں پھنس گئی۔

آپ کو کس مچھلی کی سوچ اچھی لگی؟

مجھے پہلی مچھلی کی سوچ اچھی لگی کہ اسے کوئی مشکل درپیش آتی تو وہ اسے فوراً حل کونے کی کوشش کرتی تھی۔

خالی جگہ بھریں:

  • ایک تالاب میں تین مچھلیاں رہتی تھیں۔
  • دوسری مچھلی بھی ہوشیار تھی۔
  • اس تالاب میں بہت اچھی چھلیاں ہیں۔انھیں پکڑنا چاہیے۔
  • اس نے کوئی پریشانی ظاہر نہیں کی۔
  • تیسری مچھلی نے کچھ سوچا نہ کیا وہ جال میں پھنس گئی۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے :

الجھنبےروزگاری مجھے مسلسل الجھن کا شکار کیے رکھتی ہے۔
جالشکاری پرندوں کے لیے جال بچھاتے ہیں۔
ہوشیارعلی پڑھائی میں بہت ہوشیار ہے۔
موقعچور نے موقع دیکھتے ہی گھر کا صفایا کر دیا۔
مچھلیمچھلی میری مرغوب غذا ہے۔

ملا کر لکھیے:

م+چھ+ل+ی+ا+ں=مچھلیاں
ہ+و+ش+ی+ا+ر=ہوشیار
م+و+ق+ع=موقع
د+ے+کھ+ا=دیکھا
پ+ہ+ن+چ+ے=پہنچے
پ+ر+ی+ش+ا+ن=پریشان

عملی کام:اس کہانی سے آپ نے کیا سیکھا؟ چند جملوں میں لکھیے.

اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو بھر پور ہمت، ہوشیاری اور حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے کسی بھی کام کا بروقت فیصلہ کرنا چاہیے۔