Advertisement
  • کتاب”دور پاس”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر12: کہانی
  • سبق کا نام: بے وقوف کہیں کے

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ایک راجا کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک راجا تھا۔جس کا نام راجا بھوج تھا۔ایک دفعہ راجا کی معمالے کی وجہ سے سخت پریشان تھا اور بے چینی محسوس کر رہا تھا۔اسی بے چینی کے سبب راجا بھوج بے خیالی میں رانی کے کمرے میں چلے گئے۔

راجا بھوج جب اچانک سے رانی کے کمرے میں جا پہنچے تو رانی اس وقت اپنی سہیلی سے گفتگو کر رہی تھی۔ راجا بے خیالی میں رانی اور اس کی سہیلی کے بیچ جا کھڑے ہوئے۔راجا کو رانی کے اتنے قریب دیکھ کر رانی کی سہیلی شرما کر وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ راجا کے اس عمل سے رانی نے نا گواری میں راجا کو ‘بے وقوف کہیں کے’ بول کر اپنی ناگواری کا اظہار کیا۔

رانی کی کہی ہوئی بات کا راجہ پر یہ اثر ہوا کہ وہ رانی کے پاس سے سیدھے محل کے تخت پر چلے گئے اور اس بات کو سوچنے لگے کہ رانی نے ایسا کیوں کہا جتنا سوچتے جاتے اسی قدر الجھن بڑھتی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ راجا نے ہر ایک کے سامنے یہی جملہ دہرانا شروع کر دیا۔ راجا یہ جملہ اسی قدر بلند آواز میں بولتا کہ اگلے بندے کو سنائی بھی دیتا۔

Advertisement

دن بدن راجا کی الجھن بڑھتی جا رہی تھی۔جس کے سبب درباریوں نے راجا کے بارے میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ راجا کا دماغ چل گیا ہے یا راجا پر سنک سوار ہوگئ ہے۔راج کے دماغ پر گرمی چڑھ گئی ہے۔ غرض سب راجا کی دماغی حالت پر شک کرنے لگے۔ اسی طرح ایک روز راجا کے درباری شاعر کالی داس آئے لوگ متفکر ہوئے کہ کیا راجا کا لی داس کو بھی پہی کہے گا۔

راجا نے کالی داس کے سامنے بھی یہی بات دہرائی جس پر کالی داس نے اول تو راجا کو غور سے دیکھا پھر لوگوں کو دیکھنے کے بعد کچھ سوچنے لگا اور راجا سے یوں گویا ہوا کہ راجا جی مجھے معاف کرو اور مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو انصاف کرنا گزری باتوں کی فکر مت کرو اور جب دو لوگ آپس میں کوئی بات کر رہے ہوں تو ان کے درمیان میں کبھی بھول کر بھی مت جاؤ تو راجا کو ‘ بے وقوف کہیں کے’ کہے جانے کا سارا معاملہ سمجھ آ گیا۔ وہ کالی داس کی بات سے بہت خوش ہوئے۔

سوچیے اور بتایئے:-

راجا بھوج بےخیالی میں کہاں پہنچ گئے؟

راجا بھوج بے خیالی میں رانی کے کمرے میں چلے گئے۔

رانی کی سہیلی اچانک کمرے سے کیوں بھاگ کھڑی ہوئی؟

راجا بھوج جب اچانک سے رانی کے کمرے میں جا پہنچے تو رانی اس وقت اپنی سہیلی سے گفتگو کر رہی تھی۔ راجا بے خیالی میں رانی اور اس کی سہیلی کے بیچ جا کھڑے ہوئے۔راجا کو رانی کے اتنے قریب دیکھ کر رانی کی سہیلی شرما کر وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔

رانی نے اپنی ناگواری کا اظہار راجا سے کس طرح کیا؟

رانی نے نا گواری میں راجا کو ‘بے وقوف کہیں کے’ بول کر اپنی ناگواری کا اظہار کیا۔

رانی کی کہی ہوئی بات کا راجا پر کیا اثر ہوا؟

رانی کی کہی ہوئی بات کا راجہ پر یہ اثر ہوا کہ وہ رانی کے پاس سے سیدھے محل کے تخت پر چلے گئے اور اس بات کو سوچنے لگے کہ رانی نے ایسا کیوں کہا جتنا سوچتے جاتے اسی قدر الجھن بڑھتی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ راجا نے ہر ایک کے سامنے یہی جملہ دہرانا شروع کر دیا۔

درباریوں نے راجا کے بارے میں کیا کہنا شروع کردیا؟

درباریوں نے راجا کے بارے میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ راجا کا دماغ چل گیا ہے یا راجا پر سنک سوار ہوگئ ہے۔راج کے دماغ پر گرمی چڑھ گئی ہے۔ غرض سب راجا کی دماغی حالت پر شک کرنے لگے۔

کالی داس کی کس بات سے راجا کی سمجھ میں ساری بات آ گئی؟

کا لی داس نے جب راجا کی بات کے جواب میں کہا کہ جب دو لوگ آپس میں کوئی بات کر رہے ہوں تو ان کے درمیان میں کبھی بھول کر بھی مت جاؤ تو راجا کو ‘ بے وقوف کہیں کے’ کہے جانے کا سارا معاملہ سمجھ آ گیا۔

نیچے دی ہوئی خالی جگہوں کو بھرئیے:-

  • یہ سوچتے سوچتے وہ بے خیالی میں رانی کمرے چلے گئے۔
  • راجا بھوج محل کے آداب کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔
  • ایسی ناگوار بات سن لینے کے بعد وہ رانی کے پاس نہیں رکے۔
  • اس طرح سارے درباری راجا کی دماغی حالت پر شک کرنے لگے۔
  • کالی داس راجا بھوج کے دربار کے سب سے بڑے شاعر تھے۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

قریبمیرا سکول میرے گھر سے قریب ہے۔
الجھنآپ کسی الجھن میں معلوم ہوتے ہیں۔
بھیدکائنات میں قدرت کے بہت سے بھید پوشیدہ ہیں۔
شاعرعلامہ محمد اقبال پاکستان کے قومی شاعر ہیں۔
خوش نتیجے کے روز تمام بچے بہت خوش تھے۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کی جمع بنا کر لکھیے:

واحدجمع
خیالخیالات
موقعمواقع
اطلاعاطلاعات
حالتحالات
شاعرشعراء
احساناحسانات
فکرافکار

سبق میں لفظ "فکرمند” استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں فکر کرنے والا۔آپ بھی نیچے دیے ہوئے لفظوں کے آخر میں’مند’ لگا کر لفظ بنائیے اور ان کے معنی لکھیے:

الفاظمعنی
ضرورت ضرورت مند=جس کی کوئی ضرورت ہو۔
حاجت حاجت مند= جس کی کوئی حاجت ہو۔
عقل عقل مند= عقل رکھنے والا۔
غیرت غیرت مند= غیرت رکھنے والا۔
دولت دولت مند= دولت رکھنے والا۔
درد درد مند= دوسروں کے درد کا احساس کرنے والا۔

سبق میں لفظ سنجیدہ استعمال ہوا ہے۔یہ صفت ہے۔ اس سے لفظ ‘سنجیدگی’ بنا ہےجو اسم ہے۔ اسی طرح نیچے دیے ہوئے لفظوں کو اسم میں بدل کر لکھیے۔

اسمصفت
زندہزندگی
شرمندہشرمندگی
بندہبندگی
شائستہشائستگی
شگفتہشگفتگی