Advertisement

سفرنامہ دیار حبیب کا خلاصہ:

دیار حبیب مصنفہ "صالحہ عابد حسین” کا سفر نامہ ہے جو انھوں نے مقدس سفر حج بیت اللہ کے حوالے سے تحریر کیا ہے۔مصنفہ لکھتی ہیں کہ مجھے ہمیشہ سے ہی بہت شوق تھا کہ میں حج یا کم سے کم عمرہ کی نیت سے اس مقدس مقام پر جا سکوں۔ لیکن جب تک وہاں سے بلاوا نہیں آتا تب تک انسان کی سب کوششیں بھی نا کام جاتی ہیں۔

جب میرے بھائی اور بھابی زیارت کے لیے گئے تب بھی بہت جی چاہا لیکن میرا بلاوا نہ آیا لیکن جب شوہرکا آپریشن ہوا تو اس کے بعد وہ ملیشیا اور انڈونیشیا جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔مگر میں نے جب حج پر جانے کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے حامی بھر لی۔ یوں حکم خداوندی اور شوہر کی رضامندی کے بعد میری زیارت کے لیے جانے کی یہ آرزو بر آئی۔

میں اس قدر خوش تھی کہ خوشی بیان سے باہر تھی۔ جانے سے قبل میں نے عزیزوں کو خط لکھ کر معافی بھی طلب کی۔ میرے دونوں بھائیوں کی طبیعت کچھ خراب تھی اس کے باوجود وہ میرے جانے کو لے کر فکر مند تھے۔تاریخ سفر طے ہوئی اور جانے کی تیاریاں مکمل ہوئیں۔ہمارے ساتھ ہی ماسٹر عبدالحق اور ان کی بیوی بھی جا رہی تھیں۔حج کمیٹی کے دفتر سے تمام کا م ہو جانے کے بعد بھائی کے گھر گئے کھانا کھایا۔

Advertisement

روانگی کے وقت بہت سے لوگ اپنے پیاروں کو الوادع کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔اپنے بھائی سے ملتے وقت میں رونے لگی۔ہوائی جہاز پر خوب افراتفری کا سماں تھا۔لوگوں نے بڑے بڑے کنستروں میں گھی اور دیگر سامان بھرا ہوا تھا۔برقعے سنبھالے عورتیں جو کبھی شاذ ہی ٹرین میں بیٹھی تھیں، جہاز میں موجود تھیں۔

ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت کے بعد طیارہ جدہ پہنچا۔سعودی عرب میں ساتھ کتا بیں لانے پر پابندی عائد تھی۔میں کچھ وضائف کی کتابیں لائی تھی۔جو کسٹم والوں سے کی آنکھ سے بچا کر محفوظ کر لیں۔ جدہ سے ایک طویل سفر طے کر کے مدینہ پہنچے۔ ہوٹل پہنچنے کے بعد صبح سویرے مسجد نبوی تہجد کی نماز کے لیے پہنچے۔مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہی اور وہاں پر مؤذن کی باوقار آواز میں آذان سن کر اپنی خوش بختی پر آنکھیں بھر آئیں۔ بے حد وسیع اور شاندار مسجد عبادت گزاروں سے بھری ہوئی تھی۔

حضرت محمد صلی و علیہ و سلم کے روضہ مبارک کی جالیوں کر سامنے کھڑے پہلے پہل تو محسوس ہوا کہ اب دنیا میں اور کیا چاہئے۔دل۔چاہتا تھا کہ روضہ اقدس کی جالیوں کو آنکھوں سے لگا کر آنسوؤں سے تر کر دوں۔یہاں خوب عبادت کرنے اور دعائیں پڑھیں۔ ایک دن ملک صاحب کے ساتھ ہم مسجد قبا کی زیارت کےلیے گئے۔یہ وہ پہلی مسجد تھی جہاں آپ صلی علیہ وسلم نے مدینہ میں داخل ہوکر نماز ادا کی تھی۔یہ مسجد بھی زائرین کے لیے نہایت اہم تھی۔

میں نے یہاں بیٹھ کر منبر کو اپنے ہاتھوں سے چھوا اور سیڑھی کو بوسہ دیا۔اس منبر پر بیٹھ کر آپ صلی و علیہ وسلم خطبہ فرماتے تھے۔ یہ منبر بھلے وہ نہ تھا لیکن جگہ تو وہی تھی۔مسجد قبا میں بہت سکون کی عبادت ہو پائی تھی۔ یہی سے تو دنیائے اسلام میں وحدانیت کی تعلیم پھیلی تھی۔ مصنفہ نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ اس مبارک سفر کی داستان کو رقم کیا ہے۔

سوالات:

سوال نمبر01:دیار حبیب صلی و علیہ وسلم میں مصنفہ کے حاضر ہونے کی آرزو کس طرح پوری ہوئی؟

مصنفہ کے شوہر کا جب آپریشن ہوا تو اس کے بعد وہ ملیشیا اور انڈونیشیا جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔مگر مصنفہ نے جب حج پر جانے کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے حامی بھر لی۔ یوں حکم خداوندی اور شوہر کی رضامندی کے بعد مصنفہ کی یہ آرزو بر آئی۔

سوال نمبر02:مصنفہ نے ہوائی جہاز کے اندر کا کیا منظر بیان کیا ہے؟

ہوائی جہاز پر خوب افراتفری کا سماں تھا۔لوگوں نے بڑے بڑے کنستروں میں گھی اور دیگر سامان بھرا ہوا تھا۔برقعے سنبھالے عورتیں جو کبھی شاذ ہی ٹرین میں بیٹھی تھیں۔جہاز میں موجود تھیں۔

سوال نمبر03:مسجد نبوی میں داخل ہونے کے بعد مصنفہ پر کیا کیفیت طاری ہوئی؟

مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہی اور وہاں پر مؤذن کی باوقار آواز میں آذان سن کر اپنی خوش بختی پر آنکھیں بھر آئیں۔ بے حد وسیع اور شاندار مسجد عبادت گزاروں سے بھری ہوئی تھی۔حضرت محمد صلی و علیہ و سلم کے روضہ مبارک کی جالیوں کر سامنے کھڑے پہلے پہل تو محسوس ہوا کہ اب دنیا میں اور کیا چاہئے۔دل۔چاہتا تھا کہ روضہ اقدس کی جالیوں کو آنکھوں سے لگا کر آنسوؤں سے تر کر دوں۔

سوال نمبر04:مسجد قباء کے بارے میں مصنفہ نے کن خیالات کا اظہار کیا ہے؟

مسجد قبا کے ذکر کرتے ہوئے مصنفہ لکھتی ہیں کہ ایک دن ملک صاحب کے ساتھ ہم مسجد قبا کی زیارت کےلیے گئے۔یہ وہ پہلی مسجد تھی جہاں آپ صلی علیہ وسلم نے مدینہ میں داخل ہوکر نماز ادا کی تھی۔یہ مسجد بھی زائرین کے لیے نہایت اہم تھی۔میں نے یہاں بیٹھ کر منبر کو اپنے ہاتھوں سے چھوا اور سیڑھی کو بوسہ دیا۔اس منبر پر بیٹھ کر آپ صلی و علیہ وسلم خطبہ فرماتے تھے۔ یہ منبر بھلے وہ نہ تھا لیکن جگہ تو وہی تھی۔مسجد قبا میں بہت سکون کی عبادت ہو پائی تھی۔