Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر08:کہانی
  • مصنف کا نام: ڈاکٹر ذاکر حسین
  • سبق کا نام :چھدو

خلاصہ سبق:

اس سبق میں مصنف نے “چھدو” نامی ایک شریر بچے کی کہانی کو بیان کیا ہے۔چھدو ایک چھوٹا سا لڑکا تھا وہ جب بھی کسی کو کوئی کام کرتے دیکھتا تو جھٹ سے کہتا کہ میں بھی یہ کروں گا۔گھوڑے پہ کسی سوار کو جاتا دیکھے تو اس کی سواری کی خواہش ظاہر کرتا ہے پرندے کو اڑتا دیکھے تو اڑنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔

ایک دفعہ چھدو گھر پہ اکیکا تھا کہ ایک سفید براق گھوڑا آیا۔گھوڑا چھدو کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا اور اس پر سنہرا خوبصورت زین کسا ہوا تھا۔اس نے اپنے اگکے دونوں پاؤں موڑ کر گھٹنوں کے بل جھک کر چھدو کو اپنے اوپر سوار ہونے کی دعوت دی۔چھدو اس پر بیٹھ کر کئی جگہوں پہ گھوم سکتا تھا اس لیے وہ بہت خوش تھا۔

Advertisement

چھدو اس گھوڑے پر سوار ہو گیا۔چھدو گھوڑے پر سوار ہو کر میدان،اونچے پہاڑوں ،جنگل ،ہرے بھرے کھیتوں اور ریت کی دیواروں سے گزرا۔ریت کی دیوار کے آگے سمندر تھا۔ ریت کی دیوار سے گھوڑے کا گزرنا دشوار ہو گیا۔کیوں کہ ریت کی دیوار بہت بڑی تھی جس میں گھوڑا دھنس گیا۔چھدو گھوڑے سے گرا اور لڑکھتا ہوا سمندر میں جا گرا۔جہاں اسے ایک سنہری مچھلی نے تھام لیا۔

Advertisement

چھدو نے سنہری مچھلی کی پیٹھ پہ بیٹھ کر سمندر کی سیر کی۔ یہاں کشتی میں اس کا باپ اسے ڈھونڈتا پھر رہا تھا مگر چھدو مچھلی پہ بیٹھے سمندر کی تہہ میں اتر گیا اور نیچے ایک خوبصورت دنیا دیکھی۔جب اس کا دم گھٹنے لگا تو وہ سطح پہ واپس آیا۔پانی سے سر نکالتے ہی چھدو کے سامنے کچھ کالا کچھ سفید ایک بڑا سا پرندہ آیا۔جس نے اپنی چونچ سے اٹھا کر چھدو کو اپنے اوپر بٹھا لیا۔

Advertisement

یہ پرندہ چھدو کو آسمان کی وسعتوں میں لے گیا۔ جہاں اسے ایک سیاہ عورت ملی۔کالے کپڑے پہنے ہوئے عورت رات تھی۔ وہ آسمان سے زمین کی جانب جا رہی تھی۔پرندے نے آسمان پر جانے سے انکار کیا تو اس نے چھدو کو نرم بادلوں کے حوالے کر دیا۔بادل کی گود میں آتے چھدو پر دو گرم بوندیں گریں۔جو کہ اس کی ماں کے آنسو تھے۔بادل نے چھدو کو بتایا کہ یہ گرم بوندیں تمھاری ماں کے آنسو ہیں جو تمھیں ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے تھک گئی ہے اور ایک جگہ بیٹھی رو رہی ہے۔

میں پاس سے گزرا تو یہ گرم آنسو لے آیا۔ماں کے آنسوؤں کا خیال آتے ہی چھدو کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور اس نے اپنی ماں کے پاس جانے کی خواہش ظاہر کی۔بادل پوری تیزی سے اسے زمین کی جانب اتار گیا۔چھدو نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں چنبیلی کی شاخیں ہٹا رہی ہے اور خوشی سے چلا رہی ہے کہ یہ دیکھو میرا چھدو۔ اسی وقت سورج نکلا اور اس کی روشنی میں چھدو کا چہرہ دمک رہا تھا۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

چھدو کس قسم کا لڑکا تھا؟

چھدو ایک چھوٹا سا لڑکا تھا وہ جب بھی کسی کو کوئی کام کرتے دیکھتا تو جھٹ سے کہتا کہ میں بھی یہ کروں گا۔

گھوڑے سے مل کر چھدو کیوں خوش ہوا؟

گھوڑا چھدو کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا اور اس پر سنہرا خوبصورت زین کسا ہوا تھا۔اس نے اپنے اگکے دونوں پاؤں موڑ کر گھٹنوں کے بل جھک کر چھدو کو اپنے اوپر سوار ہونے کی دعوت دی۔چھدو اس پر بیٹھ کر کئی جگہوں پہ گھوم سکتا تھا اس لیے وہ بہت خوش تھا۔

Advertisement

چھدو گھوڑے پر سوار ہوکر کہاں کہاں سے گز را؟

چھدو گھوڑے پر سوار ہو کر میدان،اونچے پہاڑوں ،جنگل ،ہرے بھرے کھیتوں اور ریت کی دیواروں سے گزرا۔

گھوڑے کے لیے ریت پر چلنا کیوں دشوار تھا؟

گھوڑے کا ریت پہ چلنا اس لیے دشوار تھا کہ ریت کی دیوار بہت بڑی تھی جس میں گھوڑا دھنس گیا۔

Advertisement

چھدو نے سمندر کی سیر کیسے کی؟

چھدو نے سنہری مچھلی کی پیٹھ پہ بیٹھ کر سمندر کی سیر کی۔

کالے کپڑے پہنے ہوئے عورت کون تھی اور کہاں جارہی تھی؟

کالے کپڑے پہنے ہوئے عورت رات تھی۔ وہ آسمان سے زمین کی جانب جا رہی تھی۔

Advertisement

پانی سے سر نکالتے ہی چھدو کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟

پانی سے سر نکالتے ہی چھدو کے سامنے کچھ کالا کچھ سفید ایک بڑا سا پرندہ آیا۔جس نے اپنی چونچ سے اٹھا کر چھدو کو اپنے اوپر بٹھا لیا۔

پرندے کے رخ موڑتے ہی چھد وکو گود میں کس نے اٹھا لیا؟

پرندے کے رخ موڑتے ہی بادل نے چھدو کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔

Advertisement

دو گرم گرم بوندیں کس کو کہا گیا ہے؟

دو گرم گرم بوندیں ماں کے آنسوؤں کو کہا گیا ہے۔

بادل نے چھدو کو آنسو کے بارے میں کیا بتایا؟

بادل نے چھدو کو بتایا کہ یہ گرم بوندیں تمھاری ماں کے آنسو ہیں جو تمھیں ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے تھک گئی ہے اور ایک جگہ بیٹھی رو رہی ہے۔میں پاس سے گزرا تو یہ گرم آنسو لے آیا۔

Advertisement

چھدو کی روتے روتے ہچکی کیوں بندھ گئی اور اس نے کیا خواہش ظاہر کی ؟

ماں کے آنسوؤں کا خیال آتے ہی چھدو کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور اس نے اپنی ماں کے پاس جانے کی خواہش ظاہر کی۔

چھدو نے آنکھیں کھولیں تو اس نے کیا دیکھا؟

چھدو نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں چنبیلی کی شاخیں ہٹا رہی ہے اور خوشی سے چلا رہی ہے کہ یہ دیکھو میرا چھدو۔

Advertisement

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

تالابتالاب میں مچھلیاں تیر رہی تھیں۔
خوب صورتچھدو نے ایک خوبصورت گھوڑا دیکھا۔
سوارچھدو سفید براق گھوڑے پر سوار ہو گیا۔
رخگھوڑے نے اپنا رخ جنگل کی طرف موڑا۔
پرندهایک بڑا پرندہ چھدو کے سامنے آیا۔
درکارمجھے آپ کی اجازت درکار ہے۔
پہراجیل کے باہر کڑا پہرا موجود تھا۔
چوڑاچکلا احمد چوڑا چکلا تنومند نوجوان ہے۔

کالم الف سے کالم ب کو ملا کر محاورے مکمل کیجیے۔

الفب
سرپٹدوڑنا
بانچھیںکھلنا
آنکھیںبند ہونا
موچھیںمارنا
خوشی سےپھولے نہ سمانا
سسکیاںبندھنا

نیچے دیے ہوئے جملوں کو کہانی کی ترتیب سے لکھیے۔

کوئی چڑ یا پھر سے اڑتی تو یہ کہتا ” میں بھی اڑونگا۔“
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا اس کا نام تھا چھد و۔
چھد وتو مارے خوشی کے پھولا نہ سماتا تھا۔
گھوڑے پر ایک سنہرا خوب صورت زین کسا ہوا تھا۔ سمندر میں گر کر یہ ڈبکیاں کھانے لگے۔
گھوڑے نے کہا اب مجھ سے نہیں چلا جاتا۔
اس کا سارا چوڑا چکلا چہرہ اس مسکراہٹ سے دمکنے لگا۔
ماں دونوں ہاتھوں سے پھیلی کی شاخیں ہٹا رہی تھی۔

صحیح ترتیب:

  • ایک چھوٹا سا لڑکا تھا اس کا نام تھا چھد و۔
  • کوئی چڑ یا پھر سے اڑتی تو یہ کہتا ” میں بھی اڑونگا۔“
  • گھوڑے پر ایک سنہرا خوب صورت زین کسا ہوا تھا۔
  • چھد وتو مارے خوشی کے پھولا نہ سماتا تھا۔
  • گھوڑے نے کہا اب مجھ سے نہیں چلا جاتا۔
  • سمندر میں گر کر یہ ڈبکیاں کھانے لگے۔
  • ماں دونوں ہاتھوں سے پھیلی کی شاخیں ہٹا رہی تھی ۔
  • اس کا سارا چوڑا چکلا چہرہ اس مسکراہٹ سے دمکنے لگا۔

عملی کام:اس سبق میں مناظر فطرت کا اظہار جگہ جگہ مختلف انداز سے کیا گیا ہے، جیسے کھیتی لہلہا رہی تھی ، لال نیلے پھول کھلے ہوئے تھے، سمندر لہریں مار رہا تھا۔ اسی طرح آپ بھی کم از کم پانچ فقرے لکھیے۔

Advertisement
  • ستارے خوب کھلکھلا کر ہنسے۔
  • وہاں طرح طرح کی سیپیاں تھیں۔
  • جنگل ختم ہوا تو ہرے ہرے کھیت آئے۔
  • خوبصورت پھول کھلے ہوئے تھے۔
  • بلند و بالا پہاڑ دکھائی دے رہے تھے۔
Advertisement