خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ تشریح

0
(۳) خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ( صحیح بخاری : حدیث نمبر ۵۰۲۷)

ترجمہ:

تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اسے (دوسروں کو ) سکھایا۔

تشریح:

قرآن حکیم ، کلام الہی ہے جس کا موضوع انسان ہے۔ یہ کتاب محض نماز روزے کی تعلیمات پر مشتمل نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں خواہ دنیاوی ہوں یا اُخروی، معاشی ہوں یا معاشرتی، سیاسی ہوں یا سائنسی سب کے بارے میں تا ابد رہنمائی رکھتی ہے۔ ہم آخرت میں بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ہم اپنی دنیاوی زندگی کو قرآنی تعلیمات کے سانچے میں نہیں ڈھال لیتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید پڑھیں ، سمجھیں اور عملی زندگی میں اس کی پیروی کریں۔ نیز دوسروں تک اس کا پیغام پہنچائیں اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب دیں۔

(۴) مَنْ صَلَّى عَلَى مَرَّةً فَتحَ اللهُ لَهُ بَابًا مِنَ الْعَافِيةِ (مسند احمد حديث نمبر:۷۵۶۱)

ترجمہ:

جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا، اللہ تعالی نے اس کے لیے عافیت کا ایک دروازہ کھول دیا۔

تشریح:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محسن انسانیت ہیں۔ آپ ﷺ نے بنی نوع انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کا راستہ دکھایا، اپنی زندگی اور عمل سے ہمارے لیے اسوۂ حسنہ پیش کیا ، انسان پر حضور ﷺ کے احسانات کا تقاضا ہے کہ ہر چیز سے بڑھ کر آپﷺسے محبت کی جائے جس کی عملی شکل یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور محبت وعقیدت کے اظہار کے طور پر آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجا جائے ۔ قرآن حکیم میں سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے۔ ”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیﷺ پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو! تم بھی اُن پر درود وسلام بھیجا کرو۔“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ پر درود بھیجنے کی ہمیں اللہ کی طرف سے بھی تاکید ہے۔ درود بھیجنے کا صلہ نبیﷺ نے خود اس حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجنے کے بدلے میں اللہ تعالی اس شخص کے لیے عافیت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔