تعارف

آپ کی ولادت ۱۹ مارچ ۱۹۵۰ء کو اورنگ آباد دکن میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید نور الوحید نقشبندی اور والدہ کا نام غوثیہ بیگم تھا۔ سید نورالحسنین کا تعلق ایک متوسط خاندان سے ہے۔آپ کے والد آصف شاہی سلطنت میں جاگیر دار تھے جبکہ آپ کی والدہ کا تعلق بھی ایک جاگیردار گھرانے سے تھا۔ آپ کا نسبی تعلق مشہور بزرگ حضرت سید شاہ قمرالدین حسینی نقشبندی ؒ خانوادہ سے ہے۔

تعلیم

آپ نے ابتدائی تعلیم تعلقہ کنڑ ضلع اورنگ آباد کے مقامی مکتب سے حاصل کی۔ بعد میں میٹرک تک کی تعلیم مولانا آزاد ہائی اسکول اورنگ آباد سے حاصل کی اور گریجویشن مولانا آزاد کالج و پنڈت نہرو کالج اورنگ آباد سے کیا۔ آپ نے پوسٹ گریجویشن کی ڈگری مراٹھواڑہ یونیورسٹی اورنگ آباد سے حاصل کی۔ نورالحسنین نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بطور استاد معین العلوم ہائی اسکول اورنگ آباد میں کچھ سالوں تک تدرسی خدمات انجام دیں۔

افسانہ نگاری اور ناول نگاری

سید نورالحسنین نقشبندی قلمی نام نور الحسنین بھارت کے مشہور افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ نورالحسنین اُردو ادب کا ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی ڈگر پر چلتے ہوئے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ وہ ادب کے ہر میدان کے غازی ہیں۔ افسانہ لکھا تو جدیدیت کی انگلی تھامی مگر اپنی ڈگر آپ قائم کی، ناول لکھے تو پہلے ہی ناول’’آہنکار‘‘ سے اپنی شناخت میں چار چاند لگادئیے اور ثانی پریم چند کہلائے، مگر نورالحسنین کو یہ پسند نہیں آیا اس لیے اُن کا دوسرا ناول منظرِ عام پر آیا ’’ایوانوں کے خوابیدہ چراغ‘‘ روایت سے ہٹ کر ،اَن چھوئے موضوع پر ناول لکھ ڈالا۔ اس ناول پر اُردو ادب کے ناقد عش عش کر اُٹھے۔ ایسا اچھوتا موضوع جس پر کسی نے اپنی قلم کو جنبش نہیں دی تھی۔

تیسرا ناول ’’چاند ہم سے باتیں کرتا ہے‘‘ جو کہ حال ہی میں زیور طبع سے آراستہ ہوا ہے اس ناول کے ذریعے نورالحسنین ناقدین کا امتحان لینا چاہتے ہیں۔ اس ناول میں نورالحسنین نے ناول کے اجزائے ترکیبی سے بغاوت کی اور ناول کو نئی وسعتیں عطا کی۔

نورالحسنین نے صرف افسانے اور ناول ہی نہیں لکھے بلکہ خاکہ نگاری بھی کی اور تنقید میں بھی اپنے جوہر دکھلائے۔ اُن کی تنقید پراب تک دو کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ اور خاکہ نگاری پر ایک کتاب ’’خوش بیانیاں‘‘ کے عنوان سے داد و تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرامے ،فیچرز، ریڈیائی ڈراموں پر ’’انسان امر ہے‘‘ کتاب بھی قارئین سے داد و تحسین حاصل کرچکی ہے۔

نورالحسنین بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں۔اُن کے افسانے کا مطالعہ کرنے پر قاری داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ نہایت دلچسپ انداز میں اپنے افسانے کا تانا بانا بُنتے ہیں۔ اُن کے افسانے میں پلاٹ ،کردار، اسلوب اور منظرنگاری سب کچھ بہت ہی عمدہ ہوتی ہے جسے پڑھ کر قاری اُس ماحول کو اپنے سامنے چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے۔ کیونکہ نورالحسنین اپنے ہر افسانے کے کردار میں خود جیتے ہیں۔

ڈرامہ نگاری

’’کھل جا سم سم‘‘ نورالحسنین کا ایک بہترین ڈرامہ ہے۔ یہ سوشل میڈیا اور آج کی نوجوان نسل کو مدِنظر رکھ کر رقم کیا گیا ہے۔ آج کی نوجوان نسل سے اخلاقی قدریں عنقا ہوگئیں ہیں۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے۔ سوشل میڈیا کا ہماری یہ نوجوان نسل بے دریغ استعمال ہی نہیں کررہی ہے بلکہ غلط استعمال کررہی ہے۔کس طرح سے نوجوان ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ جھوٹے محبت کے دعوے ہورہے ہیں۔ اس کے پس منظر میں کیا کچھ گل نہیں کھلائے جارہے ہیں۔ اس پر نورالحسنین نے اس ڈرامے کے توسط سے بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ سرپرست اور سماج کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

نورالحسنین نے اپنی ڈرامہ نگاری کے ذریعے سے سماجی اصلاح ،اخلاقی فکر وسوچ، تہذیب وتمدن ، قومی یکجہتی ، گنگا جمنی تہذیب ، بھائی چارگی جیسے اقدار کو پروان چڑھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ وہ ماضی کی تاریکی میں بھٹکتے ہیں تو وہیں سے مستقبل کی نوید بھی سناتے ہیں۔ وہ مٹتی اخلاقی قدروں کے نوحہ گر بھی ہیں مگر اخلاقی قدروں کو پروان چڑھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

اُن کے افسانوں کی طرح وہ ڈراموں میں بھی خود جیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اُن کے ڈراموں کا مرکزی خیال محبت ہے۔ وہ دنیا کو محبت کا درس دینا چاہتے ہیں اور محبت کے ذریعے سے ہی درج بالا تمام اقدار کا درس بھی دیتے نظر آتے ہیں۔

انھیں مہاراشڑا اردو ساہتیہ اکیڈمی سے کئی کتابوں پر انعام حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ مہاراشڑا اردو ساہتیہ اکیڈمی سے اسٹیٹ لیول کا انعام ’’شاہ سراج اورنگ آبادی‘‘ بھی حاصل ہوا۔اترپردیش اردو اکادمی سے تین مرتبہ فکشن کا بڑا ایوارڈ اور ایک مرتبہ افسانہ ’سمٹتے دائرے‘ پر انعام حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ کئی انعامات حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ آپ کے کئی ناول اور افسانوں پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور سینٹرل یونی ورسٹی حیدرآباد ، ڈاکٹر بھیم صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی سمیت کئی جامعات کے طلبہ نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ہیں۔

تصانیف

آپ کی مشہور تصانیف میں آہنکار(ناول)، عالمگر ادب۔ ایوانوں کے خوابیدہ چراغ، چاند ہم سے باتیں کرتا ہے(ناول)، گڈومیاں، مور رقص تماشائی، سمٹتے دائرے شامل ہیں۔

Advertisements