• باب نمبر 01:ناول
  • مصنف کا نام:پریم چند
  • سبق کا نام:بیوہ

ناول بیوہ کا خلاصہ:

پریم چند کا ناول "بیوہ” ان کے مختصر ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔دیے گئے سبق میں مکمل ناول کی بجائے اس ناول کے ابتدائی نو ابواب شامل ہیں۔ناول بیوہ کا مرکزی خیال ہندو مذہب اور سماج میں بیوگی کے مسئلے کو بیان کرتا ہے۔ناول کی کہانی کے بنیادی کرداروں میں امرت رائے،دان ناتھ،پدری پرشاد،پریما،کملا،پورنا اور سمترا وغیرہ شامل ہیں۔

کہانی کا مرکزی کردار امرت رائے ہے جس کی شادی پدری پرشاد کی بیٹی سے ہوئی ہوتی ہے مگر زچکی کے دوران بچے اور ماں دونوں کی وفات واقع ہو جاتی ہے۔پدری پرشاد جو کہ امرت رائے کے چال چلن اور فطرت کو بہت پسند کرتے ہوتے ہیں وہ اپنی دوسری بیٹی پریما کا رشتہ امرت رائے سے طے کر دیتے ہیں۔ پریما بھی امرت رائے کو اپنے دل میں بسائے ہوئے ہے۔ دوسری طرف امرت رائے کا دوست دان ناتھ بھی پریما سے حد درجہ زیادہ محبت کرتا ہےمگر اپنے دوست سے دوستی میں وہ اس محبت کو دل میں دبائے ہوئے ہے۔

امرت رائے سے رشتے سے قبل پدری پرشاد کے سامنے پریما کے حق میں دان ناتھ ہی سب سے مضبوط امیدوار تھا۔مگر امرت رائے آریہ سماج تحریک کے تحت ہونے والے ایک جلسے میں ایک تقریر میں بیوہ عورتوں کے حقوق میں تقریر سننے کے بعد یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے ایک کنواری عورت سے شادی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے بلکہ اسے کسی بیوہ عورت سے شادی کرنی چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ وہ پریما سے شادی سے انکار کر دیتا ہے۔

پریما امرت رائے سے شدید محبت کرتی ہے مگر ساتھ ہی اس کے عظیم مقصد اور فیصلے کا احترام کرتے ہوئے امرت رائے کے انکار پر سر جھکا لیتی ہے۔ امرت رائے کے انکار اور بیوہ عورت سے شادی کی بات پر بدری پرشاد اور اس کی بیوی دیوکی سخت برہم ہوتے ہیں اور اس کے اس عمل کو ہندو مذہب کے بھی خلاف گردانتے ہیں کیونکہ ہندو مت میں بیوہ عورت کی دوسری شادی کا کوئی نظریہ موجود نہیں ہے۔ مگر کملا جو کہ بدری پرشاد کا بیٹا ہے وہ کملا کے اس فیصلے کو سراہتا ہے۔

کملا پرشاد فطرتاً ایک کنجوس کردار ہے مگر وہ عیاش پسند اور بری صحبت کا شکار نہیں ہے اس میں بس ایک ہی برائی ہے کہ وہ سینما بہت زیادہ دیکھتا ہے۔ دوسری جانب اس کی بیوی سمترا اس کے مزاج کے برعکس ہے اس کا مزاج بہت شاہانہ ہے اور کملا اور سمترا کی بالکل بھی نہیں نبھتی ہے۔امرت رائے کا دوست دان ناتھ ایک نہایت سلجھا ہوا انسان ہے اور ایک بہت اچھا دوست بھی ہے۔

امرت رائے کے انکار کے بعد پدری پرشاد پریما کی رضامندی کے بعد اپنی بیٹی کا رشتہ اس سے طے کرنا چاہتے ہیں مگر دان ناتھ کو ایک ہی فکر لاحق ہے کہ ایسا کر کے وہ اپنے دوست کے حق پر ڈاکہ تو نہیں ڈال رہا ہے۔جب کہ امرت رائے زبردستی ایک خط دان ناتھ کی جانب سے تحریر کرکے اور اس کے دستخط کروا کر بدری پرشاد کو بھیج دیتا ہے کہ وہ پریما سے شادی کا خواہشمند ہے۔

پریما جو پہلے کسی اور سے شادی سے پس و پیش سے کام لے رہی ہوتی ہے وہ امرت رائے کے ہاتھ کا تحریر کردہ خط دیکھ کر دان ناتھ سے شادی کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ناول میں ایک اور اہم کردار پورنا کا بھی ہے جو کہ ایک پنڈت کی بیوہ ہے۔ پورنا پریما کی عزیز دوست ہے جسے جوانی میں ہی بیوگی کا دکھ مل جاتا ہے اس کی شادی کو ابھی دو سال ہی ہوتے ہیں کہ اس کا محبوب شوہر گنگا اشنان کے دوران کنول کے پھولوں کی خاطر تیراکی کر کے کافی دور نکل جاتا ہے اور یہی پھول اور کنارے سے دوری اس کی موت کا سبب بنتے ہیں۔

پورنا بیوگی کی چادر اوڑھ لینے کے بعد بدری پرشاد ،کملا اور پریما کی ایما پر بدری پرشاد کے گھر آ کر رہنے لگ جاتی ہے۔اس کی بیوگی اور بے پناہ حسن اور انتہائی سمجھداری اس کی وہ خوبیاں ہیں جن کے باعث کملا اس کی جانب راغب ہونے لگ جاتا ہے۔

ناول کا قصہ جاری ہے مگر درسی کتاب میں نو ابواب ہی موجود ہونے کے باعث کہانی کا خلاصہ بھی انہی ابواب تک پیش کیا گیا ہے۔

سوالات:

سوال نمبر 01: پریم چند کی ناول نگاری کی خصوصیات پر ایک تنقیدی مضمون لکھیے۔

پریم چند کا شمار اردو ادب کے اہم اور نمایاں ترین ناول نگاروں میں کیا جاتا ہے۔پریم چند نے اردو ادب کو بازار حسن،نرملا،بیوہ،گئودان،میدان عمل،سوز وطن اور غبن وغیرہ جیسے کئی شہرہ آفاق ناولوں سے نوازا ہے۔پریم چند کی ناول نگاری کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے اپنی تحریروں کے ذریعے دیہی زندگی اور اس کے مسائل کی عکاسی کو ممکن بناتے ہوئے کسان کو بطور ہیرو کے پیش کیا۔ان کے ناولوں میں دیہات کی زندگی اور کسانوں پر ہونے والے مظالم،مہاجن و پروہت کی چیرہ دستیوں کے شکار کرداروں کا بیان ملتا ہے۔

پریم چند کے ناولوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے معاشرے میں موجود سماجی ناانصافی اور نا برابری کو اپنے ناول میں باقاعدہ موضوع بنا کر پیش کیا۔خود ہندو ہونے کی بنیاد پر ہندوؤں کی معاشرتی نابرابری،چھوت چھات وغیرہ کے نظام سے گہری واقفیت کی بنا پر انھوں نے اس برائی کا اظہار کھل کر کیا۔ان کے ناولوں میں اخلاقیات کا گہرا درس بھی موجود ہے۔ان۔کے ناولوں کے موضوعات عورتوں اور بیواؤں کے حقوق بیان کررہے ہیں۔

پریم چند کی ناول نگاری کی سب سے بڑی خصوصیت حقیقت نگاری ہے۔پریم چند نے جس حقیقت کی تصویر کشی کی ہے وہ کتابوں سے نہیں بلکہ اصل زندگی سے لی گئی ہے۔ان کے ناولوں کی کہانیاں ہندوستان کے غریب طبقے کے مسائل اور حالات کو بیان کرتی ہیں۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ پریم چند کے ناول سماجی حقیقت نگاری کے بہترین عکاس ہیں۔

پریم چند کے ناولوں میں سادگی کا عنصر پایا جاتا ہے۔وہ کہانی کو زندگی کے اصلی اور حقیقی انداز میں سیدھے سادھے انداز میں پیش کرتے ہیں اور ان کی سادگی کا ہی وصف قاری کو ان کی تحریر کی جانب زیادہ متوجہ کرتا ہے۔ان کے ناولوں کی تحریر سادہ،بے تکلف اور فطری ہے ابتدا میں اس میں جو عربی یا فارسی کے الفاظ کا بیان ملتا تھا رفتہ رفتہ وہ خامی دور ہو کر ان کی تحریر رواں اور سلیس اردو میں بدل گئی۔

پریم چند کے ناولوں میں پلاٹ نگاری پر خصوصی توجہ دکھا ئی دیتی ہے۔ان کے تمام ناولوں میں فن ناول نگاری کے مطالبات موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے کمزور ناول بھی پلاٹ کے لحاظ سے اعلی نمونے کے ہیں۔پریم چند کے ناولوں کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے تمام ناولوں کے کردار ان کی فنکارانہ مہارت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ان کی تحریروں کے کردار جامد نہیں بلکہ خود کو حالات و واقعات کے مطابق ڈھالتے دکھائی دیتے ہیں وہ عام انسانوں میں سے ایسے کرداروں کا انتخاب کرتے ہیں کہ قاری ایک بار بڑھ لے تو بمشکل ہی ان کرداروں کو بھلا پاتا ہے۔

مجموعی طور پر پریم چند کی ناول نگاری میں سماجی حقیقت نگاری،پلاٹ کی پختگی،کردارنگاری اور موضوعات کی رنگا رنگی وغیرہ جیسی تمام صفات بدرجہ اتم موجود ہیں۔

سوال نمبر 02: ناول "بیوہ” کے اہم کردار کون سے ہیں اور پریم چند ان کی عکاسی میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں؟

ناول "بیوہ” میں امرت رائے، دان ناتھ،پریما،بدری پرشاد، کملا پرشاد،سمترا، دیوکی اور پورنا کے کردار موجود ہیں۔ ناول میں موجود تقریباً سبھی کردار اہمیت کے حامل ہیں اور کسی نہ کسی طور کہانی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔لیکن ناول کے وہ کردار جن جو کہانی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ امرت رائے کا کرادر ہے جو ناول میں پیش کیے جانے والے بنیادی اور مرکزی خیال کے روح رواں ہیں۔

اس کے ساتھ پورنا جو کہ ایک بیوہ عورت کا کردار ہے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ کردار ہندو معاشرے میں ایک بیوہ عورت کی زندگی کا بھر پور عکاس ہےکہ ہندو دھرم کی ایک بیوہ کو معاشرے میں کن مشکالت کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور اپنی عصمت کی حفاظت کے لیے کون سے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے یہ کرادر اس کا عکاس دکھائی دیتا ہے۔

پریم چند نے ناول میں موجود ہر کردار کی عکاسی اس کے کرادر کے مطابق نہایت بھرپور طور سے کی ہے۔ پریما کا کرادر ایک مکمل پرتی ورتا عورت کا عکاس ہونے کے ساتھ بہتر مقاصد کے حصول کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا ساتھ دینے والا کرادر ہے۔ کملا اور سمترا کا کردار بھی ان کی کہانی اور ایک دوسرے کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور مزاج میں مطابقت نہ ہونے کو پورے طور پر پیش کر رہا ہے۔

دان ناتھ کا کردار ایک بہترین اور مخلص دوست کے تمام خصائص کو بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔مجموعی طور پر پریم چند نے کہانی کے مطابق تمام کرداروں کو نہ صرف نہایت خوبصورتی سے بنا ہے بلکہ ان کی مدد سے ناول کے قصے کو بھی احسن طریقے سے پیش کیا ہے۔پریم چند نے کہانی کے تمام کرداروں کو ان کے حالات کی مطابقت سے نہایت خوبصورتی سے ڈھلتے ہوئے دکھانے کے ساتھ ان کی حرکات و سکنات اور انداز گفتگو یعنی ان کے مکالمات وغیرہ کے ذریعے قاری تک ان کرداروں کی نفسیاتی و ذہنی کیفیات کو پہنچانے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی ہے۔

سوال نمبر 03: ناول "بیوہ” کے ذریعے پریم چند ہمیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ وضاحت کیجئے۔

پریم چند کے ناول "بیوہ” کا مرکزی خیال ہندو معاشرے میں بیوہ عورتوں کے مسائل اور ان مسائل کے تدارک کےلئے حل کو ایک کہانی کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ اس ناول کے ذریعے پریم چند نے ہندو مذہب میں موجود خیال کہ بیوہ کو شادی کا کوئی حق نہیں ہے کی نفی کرتے ہوئے اس بات کے حق میں بات کی ہے کہ بیوہ عورتوں کو اپنایا جا نا چاہیئے۔اس خیال کو پیش کرنے کے لئے ناول نگار نے اس قصے میں پورنا جیسے کردار کی تخلیق کرکے ان تمام حقائق اور مسائل کو بے پردہ کیا ہے جو ایک بیوہ عورت کو بیوگی کے بعد سماج میں قدم قدم پر پیش آتے ہیں۔ بیوہ عورت کی معاشرے میں اسی قدر اہمیت باقی رہ جاتی ہے کہ ہر مرد اسے اپنے لیے ایک آسان حدف مقرر کر لیتا ہے دوسری جانب ناول نگار نے یہ حل بھی پیش کیا ہے کہ اگر رنڈوا مرد ہی کنواری لڑکی کی بجائے بیوہ عورت سے دوسری شادی کا ارادہ باندھ لیں تو بہت سے مسائل کا خاتمہ ممکن ہے۔