تعارفِ مصنف

چاند گرہن کے مصنف انتظار حسین ہیں۔ انتظار حسین اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلوب اور بدلتے لہجوں کے باعث وقت کے افسانہ نگاروں کے لیے بڑا چیلنج تھے۔ ان کی اہمیت یوں بھی ہے کہ انہوں نے داستانوی فضا، اس کی کردار نگاری اور اسلوب کا اپنے عصری تقاضوں کے تحت برتاؤ کرنا چاہا۔ ان کی تحریروں کو پڑھ کر حیرت کا ایک ریلا سا آتا ہے جس کی بنا پر ان کے سنجیدہ قارئین کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں۔ ان کی خود ساختہ صورت حال حقیقت سے بہت دور ہے۔ اس طرح کی صورت حال تخیل کے حوالے سے  یورپ  میں سامنے آئی۔

ناول کا خلاصہ

چاند گرہن دراصل آزادی کے دوران در پیش حالات کے گرد گھومتا ہوا ناول ہے کہ کیسے اس وقت لوگوں کو اپنی جان و مال کے لالے پڑے رہتے تھے۔ چاند گرہن میں مصنف نے اس وقت کے لوگوں کی پریشانیوں کی عکاسی اپنے ناول کے فرضی کرداروں کی ذریعے بخوبی کی ہے۔

ناول میں بوجی ایک پرانے عقیدوں کی پیروکار خاتون تھیں، جہاں کوئی شک ان کے دل میں آتا منتیں ماننے لگتیں، درباروں کی حاضریاں دی جاتیں۔ بوجی کو اپنی قسمت اور اپنے گھر والوں سے بڑے گلے تھے۔ بوجی ہر کسی کو  بتاتی ہے کہ ان کے ابا اللہ والے تھے ورنہ دلی کے مغل بادشاہ ان سے بہت خوش تھے اور ان کو انعام میں ایک پروانہ بھی بھیجا، مگر ابا جی سے وہ کھو گیا۔ بوجی کو لگتا تھا کہ ضرور اس میں کسی ریاست کا اختیار ابا جی کو ملا تھا۔ اگر ابا جی وہ سنبھال لیتے تو وہ آج کسی ریاست کی رانی ہوتی۔ اور ابا تو ابا ان کے میاں بھی سادھو نکلے، جتنا ان کے ابا سے دلی کے بادشاہ خوش تھے اس سے کہیں زیادہ انگریز ان کے میاں سے خوش تھے مگر ان کو اس کا فائدہ نہ ہوسکا کیونکہ انگریزوں نے انعام میں صرف خطاب پر ٹرخایا تھا۔

مگر چلو ان کی زندگی کے بعد ان کا کمایا ہوا ان کی بیوہ بوجی اور یتیم  بیٹے کو پال رہا تھا۔  بوجی کو اپنے بیٹے سبطین سے بڑی امیدیں تھیں۔ مگر قسمت کی مار یہاں بھی پڑی اور بیٹا بھی کسی کام کا نہ نکلا، باپ نے چلو خطاب لے کر عزت تو کمائی مگر سبطین وہ عزت بھی گوانے کو تیار پھرتا تھا۔ بوجی کہتی کسی کا ایک بگڑتا ہوگا، دو بگڑتے ہوں گے ، مگر ہمارا تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

سبطین کالج میں گیا تو اس کی فیاض خان سے مدبھیڑ ہوئی اور دونوں کی اچھی جمنے لگی۔ دونوں پر ایک دوسرے کا خوب رنگ چڑھا، بوجی کہتی تھیں سبطین کو بگاڑنے میں سب ہاتھ  فیاض خان کا ہی ہے اور فیاض خان کے گھر والے سبطین کو ذمہ دار مانتے۔

سبطین اور فیاض دونوں ہی نرے جنونی تھے، جس کام کو ٹھان لیتے کرکے ہی دم لیتے۔ آوارہ گردی کرنے پر آتے تو مہینوں مہینوں سیریں کرتے۔ اچھی سے اچھی، شرمناک سے شرمناک ہر جگہ پر پہنچ جاتے کوئی کونا نہ چھوڑتے اور پڑھنے پر آتے تو ہفتوں ہفتوں کمرے بند کیے آدھی آدھی راتوں تک پڑھتے چلے جاتے۔

دونوں نے عملی زندگی کا آغاز بڑھی ہوئی حجامت سے کیا جسے دیکھ کر لوگ سو سو باتیں کرتے۔ گھر خبر پہنچی تو گھر والوں نے سر پیٹ لیا۔بوجی تو اس دن کو روتی تھی جب اس نے اپنے لونڈے کو کالج بھیجا تھا۔ پہلے تو انہوں نے بڑی کوشش کی چھپانے کی مگر بڑے بال دور سے ہی نظر میں آجاتے۔ لوگ کہتے سبطین اور اس کا دوست مذہب سے پھر گئے ہیں۔ دونوں پہلے دہرپہ کہلائے گئے پھر فلسفی مشہور ہوئے، پھر شاعر کہے گئے، پھر شرابی کہلائے، پھر رنڈی بازی کا خطاب ملا اور بلاآخر قومی لیڈر پر ان کی تان ٹوٹی۔ انہوں نے حیات و کائنات کے مسلوں پر غور کرنا شروع کیا۔ یہ میدان ایسا ہے کہ آدمی ذرا یہاں سے چوک جائے تو شاعری کی سرحد پر جا پہنچا۔ دونوں ہی اپنی چوک سے مطمئن تھے مگر اچانک شاعری چھوڑ چھاڑ کر نثر پر آرہے۔ انہیں خیال آیا اہلِ قلم بننا کون سا کمال ہے۔ جوگی ، مستانہ ، اور مست شباب ، رسالوں کے افسانہ نگار بھی اہلِ قلم ہی تو کہلائے جاتے ہیں۔

اور قلم کو قلمبند میں در کر تماشہ بینی کو نکل پڑے۔ ہر کوٹھے پر پہنچے، ہر مجرے میں شریک ہوئے، جلد ہی اس سے اکتا گئے کہ باوا آدم کے زمانے سے لوگ ایک ہی طرح کی پٹی پٹائی چیز رپیٹ کر رہے ہیں اور پھر کبھی بازار کا رخ نہ کیا۔

پھر یکایک ان پر قوم کی اصلاح کا بھوت سوار ہوا اور یہی وہ موڑ تھا جہاں ان کے راستے جدا ہوئے، ورنہ اب تک قدم سے قدم ملائے چلے آرہے تھے۔سبطین خرد کی گتھیاں سلجھانے لگا، جبکہ فیاض نے ایک مجذوب کی حیثیت اختیار کر لی۔

سبطین پہلے ڈاکٹر ہوا اور ڈاکٹر سے پروفیسر بنا۔ وہاں کے قابل اور بن ٹھن کر آنے والے پروفیسر اس پر نکتہ چینیاں کرتے مگر سبطین جیسے سادے اور بکھرے حال کے شخض کی قابلیت سے متاثر ہوکر ان کو اپنا ہیرو ماننے لگے اور سبطین نے بھی قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور ایک انگریری اخبار بھی نکالا مگر وہ چل نہ سکا اور جلد بند ہوگیا۔

دوسری طرف فیاض نے آئی سی ایس کا امتحان پاس کرلیا ، اس کا خیال تھا کے کلیکڑری کر کے لوگوں میں بیداری پیدا کرے گا۔  ان کو بنگالی مسلمانوں سے بڑی امیدیں تھی مگر بے سود، پتہ چلا کہ بنگالی مسلمان تو مولانا محمد علی کے ساتھ رخصت ہوگئے تھے۔ فیاض نے اپنا تبادلہ کلکتہ سے جنوبی ہند کروالیا۔ مگر وہاں بھی کام نہ بن سکا الٹا ان کی کلیکٹری کی جان پر بن آئی اور انہوں نے استغفہ دے دیا اور لاہور جا پہنچے۔

فیاض خان کے سر میں ایک سودا سمایا ہوا تھا جس کی خاطر وہ بستی بستی گھوما اور شہر شہر کی خاک چھانی۔ کلکتہ، کلکتہ سے جنوبی ہند ، جنوبی ہند سے پنجاب ، پنجاب سے لاہور ، لاہور سےعلی گڑھ ، علی گڑھ سے دلی ، فیاض خان تو سچ میں اپنے زمانے کا سر سید احمد بننے پر تلا ہوا تھا۔
سبطین کی ذات سے اور کسی کو فائدہ ہوا یا نہیں مگر رفیا نے اپنی سیاسی بصرت کے لیے سبطین کی علمیت اور سوجھ بوجھ کا بڑا فائدہ لیا۔

علن کی دوکان پر اپنے ہر بیان میں کہتا "اپنے سپو میاں کہہ رہے تھے” وہی سب کے اعتراض رفع ہوجاتے ، سبطین کی عملیت کے قائل تو سبھی تھے۔ علن اور رفیا کی بحث میں اکثر کالے خان بھی شامل ہوتا ، کالے خان کون تھا کوئی نہیں جانتا تھا، اس کا آگے پیچھے کا کسی کو معلوم نہ تھا، مگر وہ محلوں کی زندگی کے لیے ضروری تھا۔ کالے خان کو پٹھان بننے میں کسی دقعت کا سامنا نہ ہوا۔ کالے خان اپنے رنگ کی وجہ سے پہلے کلو بنا پھر کلوا اور پھر کالے کہلانے لگا۔ کالے خان فوج میں بھرتی ہونے کے بعد ایک محاذ پر لڑکر آیا تو اس کے ساتھ دو انعام تھے، موچھیں اور پٹھانی۔ اس نے بڑی کوشش کی پٹھانی زبان بولنے کی مگر کوشش بے سود ہی رہی۔ کالے خان کو شہرت علن کی دکان سے ہی ملی تھی۔

حالات دن بدن بدتر ہورہے تھے۔ علن کہتا لڑائیاں ہوں گی یہاں مگر کالے اور رفیا نہ مانتے اس کی۔ ادھر بوجی عجیب و غریب خواب دیکھتی اور مزار پر دیا جلا دیتی، سبطین کے سمجھانے کا اس کو اثر نہ ہوتا۔ فیاض خان ڈائری میں اپنے دن کے احوال لکھتا۔

فیاض خان کہتا ہے کہ دلی اور علی گڑھ کے نوجوانوں میں صرف اردو بولنے کا فرق ہے۔ دلی شہر کے لوگ تعریف کرتے ہیں مگر اسے وہاں وحشت ہوتی ہے، اسے دلی کے کتوں کا رونا بڑا درد ناک لگتا تھا۔ فیاض خان نے جہاں جہاں وقت گزارا وہاں کا احوال لکھتا گیا۔

ادھر پرانے خیالات کی ماری بوجی ڈری سہمی گھر پر بیاں کی تقریب رکھتی ہیں جہاں تقریباً سبھی اپنے درد ہی روئے جاتے ہیں۔ نمبردار نے کملہ پڑھنے اور سیکھانے کی تحریک سبطین کی مخالفت کے باوجود زور و شور سے جاری رکھی۔

فساد شروع ہوئے اور آگ کی طرح پھلتے چلے گئے اور ہر طرف خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی۔ ہر طرف شور شرابہ، گولیوں کی بوچھاڑ اور آگ برساتے منظر نظر آتے۔ کچھ لوگ پرانے قعلے میں پناہ گزین تھے، وہاں گاڑی آتی اور آدمی بھر کر اسٹیشن لے جاتی اور اسٹیشن سے لوگ پاکستان آتے۔ گاڑیوں پر اکثر حملوں کی خبریں بھی ملتی رہتی تھیں۔ یہ سب گاڑی میں سوار ہوئے فیاض خان، سبطین  بوجی، علن، رفیا، کالے خان، حق صاحب، نمبردار، نوابن، پاکستان کی طرف روانہ ہوئے۔ راہ میں انھوں نے بڑی خولناکی دیکھی۔ خون خرابہ ، اجاڑ کھیت ، ہڈیاں ، بکھرے ڈھانچے اور مزید تباہیاں، بلآخر طویل سفر کے بعد وہ لوگ پاکستان آ ہی گئے۔

پاکستان آکر بھی ہر چند مسائل نے ان کا دامن گھیرے رکھا۔ سبطین نئی نئی سکیمیں بتاتا اور اس کے ساتھ لوگ شامل رہتے۔ علن اور رفیا نے کچھ سیخیں لی اور ایک پتھر کو ٹھکانا کیے اپنا کام شروع کر دیا۔ وہ لوگ کباب لگانے لگے، مگر وہ دوکان والی رونق یہاں کہاں آتی، تبھی خبر آئی کہ ہندوں نے کالے خان کو مار دیا ہے جو کشمیر گیا تھا۔

کالے خان کی موت کا فیاض خان نے بڑا اثر لیا اور بے دل سا ہو گیا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کالے خان جیسا معمولی شخص یوں موت پر پھٹ پڑے گا۔ چاند کو گرہن لگ چکا تھا، فیاض خان کو لگتا اس کا جسم پتھر کا ہوچلا ہے۔ وہ گہنا رہا ہے اور دھیرے دھیرے اس کی روح بھی گہنا رہی ہے۔

از تحریرحادی خان