• ناول : فردوسِ بریں
  • مصنف : عبدالحلیم شرر

تعارفِ مصنف

عبدالحلیم شرر 1860ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام تفضل حسین تھا۔ آپ کی شادی 1879ء میں اپنے ماموں کی بیٹی سے ہوئی۔ آپ کی تصنیفی زندگی کا آغاز 1881ء سے ہوا۔ آپ کا یہ قول بہت مشہور ہے :
”علوم کے اعتبار سے لکھنؤ ہندوستان کا بخارا اور قرطبہ اور اقصائے مشرق کا نیشا پور تھا“
زیرِ موضوع ناول ”فردوسِ بریں“ کو شرر نے 1899ء میں حیدرآباد میں مکمل کیا۔آپ کا انتقال 1926ء میں لکھنؤ میں ہوا۔

ناول فردوسِ بریں کا خلاصہ

ناول کا آغاز "پریوں کا غول” نامی پہلے باب سے ہوتا ہے جس میں ۶۵۱ھ کا زمانہ دکھایا جاتا ہے۔ مصنف نے ناول کے آغاز میں ایک خوف ناک نقشہ کھینچا ہے جو ایک کچی سڑک کے متعلق ہے جسے حاجیوں کے لیے خاصا اندیشہ ناک بتایا گیا ہے۔

کہانی کے آغاز میں اس راستے پر سے ناول کے مرکزی کردار حسین اور اس کی منظورِ نظر زمرد کو دکھایا جاتا ہے جو گھر سے حج کرنے کی نیت سے نکل پڑتے ہیں اور وہیں جاکر ان کا نکاح کرنے کا ارادہ بھی ہوتا ہے۔حسین اور زمرد ایک دوسرے کے ساتھ چلتے جاتے ہیں کہ ایک جگہ آکر زمرد بہتی نہر کے ساتھ جاکر اپنے مرحوم بھائی موسیٰ کی قبر پر جاکر فاتحہ خوانی کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ پہلے پہل حسین اسے منع کرتا ہے کہ وہ علاقہ پریوں کا ہے اور سنا ہے کہ وہاں سے زندہ کوئی آج تک واپس نہیں آیا اور پھر تمھیں راستے کا کیا معلوم۔ لیکن زمرد ضد کرتی ہے کہ وہ یعقوب سے راستہ اچھی طرح پوچھ کر آئی ہے۔

حسین دریافت کرتا ہے موسیٰ کی قبر یہاں کیسے بنی تو وہ بتاتی ہے کہ موسیٰ اور یعقوب یہاں آئے تھے جہاں پریوں کا ایک غول اتر آیا تھا اور چونکہ یعقوب تو غش کھا کر گر پڑا تو بچا رہا لیکن موسیٰ نے ایک پری کا ہاتھ پکڑنے کی جسارت کی اس لیے مارا گیا۔ زمرد اسے بتاتی ہے کہ وہ فقط اس کے ساتھ اس لیے آئی ہے کہ بھائی کی قبر پر جا کر دو آنسو بہائے اور پھر حج ادا کرنے کو چل دے۔ آخر کار حسین کو زمرد کی ماننی پڑتی ہے اور وہ دونوں بہتی نہر کے ساتھ چلتے چلے جاتے ہیں۔

 وہ لوگ آگے بڑھتے ہیں اور کچھ دور جا کر دیکھتے ہیں ایک نہایت تاریک گھاٹی ہے جہاں سے نہر تو گزر گئی لیکن کسی انسان کا یہاں سے گزرنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔ یہ دیکھتے ہی زمرد چیخ اٹھتی ہے کہ یہی دوسری نشانی ہے.۔ وہ دونوں اپنے گدھے وہیں چھوڑ کر اس گھاٹی کو پار کرنے کی کوشش  کرتے ہیں لیکن گھڑی دو گھڑی کی محنت کے بعد وہ گھاٹی ختم ہوجاتی ہے اور سامنے ایک خوبصورت جہاں آباد ہوتا ہے۔ زمرد ہر طرف دوڑ کر دیکھتی ہے اور ایک پتھر کے سامنے رک جاتی ہے جس کے سامنے بنی چٹان پر اس کے بھائی موسیٰ کا نام لکھا ہوتا ہے۔ زمرد وہاں فاتحہ کرتے کرتے زار و قطار رونے لگتی ہے اور حسین سے کہتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے میری موت کا وقت قریب ہوا چاہتا ہے  اگر میں مر جاؤں تو مجھے یہیں بھائی کے ساتھ دفنا دینا۔ جواب میں حسین کہتا ہے میں تمھارے ساتھ ہی مر جاؤں گا اور یہ وصیت پوری ہوئی تو کسی اور کے ہاتھوں ہوگی۔۔۔جس کے ہاتھوں وہ نصیحت پوری ہو میں چاہتا ہوں وہ تمھارے ساتھ مجھے بھی دفن کردے۔

زمرد اسے بتاتی ہے کہ جب بھائی کا انتقال ہوا تب وہ میرے خواب میں آئے، وہ اسی وادی میں کھڑے مجھے کہہ رہے تھے میری قبر پر آکر فاتحہ کرو اور میں تمھیں اس لیے لائی کہ مجھے تم سے زیادہ عزیز کوئی نہیں ، میں تمھارے پہلو میں جان دینا چاہتی ہوں۔ وہ باتیں کررہے ہوتے ہیں کہ دونوں کو اپنے قریب روشنی بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ جوں ہی وہ روشنی قریب آتی ہے وہ خوبصورت حسین و جمیل عورتوں کا غول ہوتا ہے، یہ دیکھتے ہی ان دونوں کے منہ سے بے اختیار "پریاں” نکل جاتا ہے اور دونوں ہی غش کھا کر گر پڑتے ہیں۔ یہاں پہلے باب کا اختتام اور دوسرے باب کا آغاز ہوتا ہے۔

دوسرے باب کے آغاز میں جوں ہی حسین کو ہوش آتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ زمرد وہاں موجود نہیں اور اس چٹان پر موسیٰ کے ساتھ زمرد کا نام بھی لکھا ہوا ہے، ساتھ ہی ساتھ موسیٰ کی قبر میں بھی کچھ تبدیلی ہے اور پتھروں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ وہ پہلے پہل سوچتا ہے خود بھی یہیں دفن ہوجائے لیکن مرنے والوں کی بےحرمتی کا خیال کرتے ہوئے وہیں سکونت اختیار کرلیتا ہے اور اپنی موت کا انتظار کرنے لگتا ہے کہ اپنی معشوقہ سے مل سکے۔ وہ وہاں چھ ماہ تک انتظار کرتا ہے لیکن وہاں کوئی پریاں نہیں آتی ہیں۔

ایک روز وہ سو کر اٹھتا ہے تو زمرد کی قبر پر ایک کاغذ پڑا ملتا ہے جس میں زمرد اسے لکھتی ہے کہ تیری موت کا وقت نہیں آیا اس لیے پریاں تجھ سے اپنا باغ خالی نہیں کرواسکتیں اور نہ ہی خود اب وہاں آسکتیں ہیں۔ میں یہاں اس جہاں میں بہت خوش ہوں لیکن افسوس کہ تو نے میری وصیت پر عمل نہیں کیا اور میرے کردار پر لگے داغ کو صاف بھی نہیں کیا۔

حسین اس خط کو پڑھ کر سوچتا ہے کہ زمرد کی وصیت پوری کروں لیکن پھر خیال آتا ہے کہ میری بات کا کون یقین کرے گا اور کیوں کرے گا، بہتر یہی ہے یہیں اسی جگہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دوں۔  اب وہ دوبارہ زمرد کے خط کا انتظار کرنے لگتا ہے اور ایک ماہ بعد اسے ایک اور خط ملتا ہے۔ اب کے خط میں زمرد اسے یہاں سے نکل کر کوہِ جودی میں جانے کا کہتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ وہاں چالیس دن رہنا ہے اور چوتھے دن وہ کچھ کھا پی سکتا ہے۔ وہ اسے کہتی ہے ان چالیس دن تجھے یہی خیال کرنا ہے کہ تجھے وہ مرشد ملیں جن سے ملنے تو اس غار سے نکل کر جائے گا۔ مزید کہتی ہے کہ چالیس دن بعد تو اس غار سے نکل کر سر زمین شام جانا اور وہاں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے جنازوں کے درمیان بیٹھ کر چالیس دن تک چلہ کاٹنا پھر وہاں سے نکل کر شہر حلب کو جانا۔

وہ کہتی ہے وہاں تو ایک مسجد میں جانا جہاں تجھے شریف علی وجودی ملیں گے تو ان کی خدمت کرنا اور ایک سال تک ان کی خدمت کرنے کے بعد کوئی موقع ضرور آئے گا جب وہ جوش میں آکر انسان کو ملاء اعلی کی سیر کروانے کا دعویٰ کریں گے تب تو ان سے اپنی خواہش کا اظہار کرنا۔ وہ بے شک تیری خواہش منظور کریں گے لیکن تو ان کا ہر حکم بجا لانا چاہے تجھے وہ سمجھ آئے یا نہ آئے پھر ہی تو مجھ سے مل سکے گا۔

وہ اسی دن وہاں سے نکل گیا اور دو ماہ بعد اس غار میں پہنچا وہاں چلہ پورا کر کے تین ماہ بعد وہ شہرِ خلیل پہنچا جہاں انبیاء کے جنازوں کے پاس بہت سی دشواریوں کے بعد پہنچ کر اس نے چلہ کاٹا۔ وہاں سے چالیس دن بعد نکلا کہ اب حلب کی راہ لے لے لیکن لوگوں نے اسے دیکھ لیا اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔ پھر باطنیوں نے شہر خلیل کے حکمران کا قتل کردیا اور وہاں حملہ بھی کردیا۔ اس اب افراتفری میں حسین وہاں سے نکل آیا اور کچھ دن بعد حلب جا پہنچا، وہاں وہ شیخ سے ملا اور ان کی خدمت کرتے اسے بارہ ماہ گزر گئے۔

ایک روز وہ شیخ کی محفل میں بیٹھا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی گستاخی کی وجہ سے شیخ جوش میں دعویٰ کرتے ہیں  کہ وہ انسان کو ملاء  اعلی کی سیر کرواسکتے ہیں۔ پس یہیں حسین شیخ کے پاؤں میں سر رکھ کر گڑگڑاتا ہے کہ میری تمنا پوری کردیں ، مجھے زمرد سے ملنا ہے۔ شیخ اسے کہتا ہے کہ اس سے پہلے تجھے اپنے چچا یعنی امام نجم الدین نیشا پوری کا قتل کرنا ہوگا جن کا تو مرید بھی ہے۔ یہ سنتے ہی حسین بےہوش ہو کر گر پڑتا ہے اور دوسرا باب بھی اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

یہاں ناول کے تیسرے باب کا آغاز ہوتا ہے اور حسین ہوش میں آکر بہت کچھ سوچ کر شیخ سے رخصت ہو کر اپنے چچا کا قتل کرنے کے ارادے سے سفر شروع کردیتا ہے۔ شیخ اسے خنجر بھی دیتے ہیں کہ جب موقع ملے اس کا استعمال کرنا اور امام کا قتل کر ڈالنا۔ چار ماہ کے سفر کے بعد وہ اپنے چچا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ چچا شفقت سے پیش آتے ہیں، زمرد کی موت کا سن کر انھیں یقین نہیں آتا۔ حسین امام کی خدمت کرتا ہے اور ان کا بھروسہ حاصل کرلیتا ہے۔ ان دنوں امام بیمار پڑ جاتے ہیں تب حسین موقع دیکھ کر ایک رات ان کا قتل کر وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ وہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے تو شیخ اسے سینے سے لگالیتے ہیں۔

شیخ اسے ایک خط دے کر شہر اصفہان روانہ کرتے ہیں۔ حسین اصفہان پہنچ کر وہ خط کاظم جنوبی کے حوالے کرتا ہے جو بظاہر ایک فقیر نظر آتا ہے۔ کاظم جنوبی اسے رات میں  شیخ الجب (طورِ معنی) کے پاس لے جاتا ہے، وہاں وہ ایک جام پی کر بےہوش ہوجاتا ہے۔ وہ جب ہوش میں آتا ہے خود کو ایک نئی جگہ پر پاتا ہے اور پھر بےہوش ہوجاتا ہے۔ آخر وہ ہوش میں آتا ہے تو اسے تین دن ایک وظیفہ کرنے کا کہا جاتا ہے لیکن بغیر پانی پیے اور حسین زمرد کے شوق میں تین دن پیاسا یہ وظیفہ کرتا رہتا ہے۔ تین روز بعد وہ ایک جام پیتا ہے جہاں وہ پھر بےہوش ہوجاتا ہے اور یہیں تیسرے باب کا اختتام اور ناول کے چوتھے باب کا آغاز ہوتا ہے۔

چوتھے باب کے آغاز میں حسین کو ہوش آتا ہے۔ ایک حور اسے زمرد کا پتہ دیتی ہے وہ زمرد کے پاس چلا جاتا ہے۔ زمرد اس کا استقبال کرتی ہے اور دونوں اپنے محل میں چلے جاتے ہیں۔ حسین وہاں کچھ دن زمرد کی صحبت میں گزارتا ہے کہ زمرد اسے بتاتی ہے اب اس کے واپس جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے اور وہ کوشش کرے کہ اس مرتبہ جیسے یہاں پہنچا ویسے ہی دوبارہ یہاں آئے لیکن اگر ہر طرف سے مایوس ہوجائے تو دوبارہ  کوہ طالقان میں زمرد کی قبر پر آ بیٹھے اور اگر وہ وہاں اس کی قبر پر ایک ماہ کا وقت گزارے گا تب ہی زمرد اسے کوئی اور تدبیر بتاسکے گی۔ اتنا کہنا ہوتا ہے کہ وہاں حوریں آجاتی ہیں اور وہ سب لالہ زار جا پہنچتے ہیں۔ وہاں زمرد حسین کو ایک جام پلاتی ہے جس کے بعد وہ بےہوش ہوجاتا ہے اور یہاں چوتھے باب کا  اختتام اور پانچویں باب کا آغاز ہوتا ہے۔

اس باب کے آغاز میں حسین دوبارہ اس شخص سے درخواست کرتا ہے جو اسے فردوس بریں کے دروازے پر ملا تھا کہ اسے یہیں رہنا ہے لیکن وہ اسے ایک جام پلا کر بیہوش کردیتا ہے۔ پھر حسین شیخ الجب کی خدمت میں پہنچ کر ہوش میں آتا ہے، وہ ان سے درخواست کرتا ہے لیکن وہ اسے دوبارہ اپنے مرشد شیخ علی وجودی کے پاس جانے کا کہتا ہے۔ وہ اس غاز سے باہر کاظم جنوبی کو اپنا منتظر پاتا ہے اور پھر شہرِ اصفہان پہنچ کر حسین اس سے رخصت لے کر دوبارہ حلب کی طرف روانہ ہوتا ہے۔

حسین شیخ کی خدمت میں حاضر ہو کر دوبارہ وہاں جانے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں یہ اب امام قائم قیامت کی دستیگری سے ہی ممکن ہے۔ شیخ اسے کہتا ہے اس سے پہلے تجھے ایک امتحان دینا ہوگا اور شہرِ دمشق جاکر امام نصر بن احمد کو جو ہم باطنین کے خلاف وعظ کرتا ہے، قتل کرنا ہوگا۔ حسین شیخ سے اجازت لے کر دمشق جاتا ہے اور امام کو ایک ماہ میں قتل کر واپس آجاتا ہے۔ حسین شیخ سے کہتا ہے میں جہاں گیا میرے ہم مذہب مجھے پہچا لیتے تھے تب اسے پتہ چلا اس کے سر پر حور کے بوسے کا نشان ہے جس سے اس کے ہم مذہب لوگ اسے پہچان لیتے ہیں۔ اب کہ وہ شیخ سے اجازت لے کر ۲۰ صفر کو امام قائم قیامت کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے نکلتا ہے اور ستائیس رمضان کو وہاں شیخ نے آکر اس کی سفارش کرنی ہوتی ہے۔ حسین قلعہ الموت کے پھاٹک پر پہنچتا ہے کہ ناول کے پانچویں باب کا اختتام ہوجاتا ہے اور چھٹے باب کا آغاز ہوتا ہے۔

اب کے حسین امام قائم قیامت سے درخواست کرتا ہے لیکن امام قائم اپنے ایک مرید دیدار کو جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہے تب حسین کی گستاخی کے باعث اسے اپنے قلعے سے نکال دیتا ہے۔  اب کے وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر دوبارہ زمرد کی قبر پر پہنچ جاتا ہے۔ ایک روز اسے زمرد کے دو خط ملتے ہیں وہ پہلا خط پڑھتا ہے تو زمرد اسے نصیحت کرتی ہے کہ دوسرا جو خط بند ہے اسے بند رکھ اور شہرِ قراقرم جاؤ اور یہ خط بلغان خاتون کو تنہائی میں دے دینا اور ان کی ہر بات کی پیروی کرنا۔ یہ پڑھتے ہی حسین شہر قراقرم جانے کا ارادہ کرتا ہے۔ وہاں پہنچ کر وہ بہت ماہ انتظار کرتا ہے اور ایک روز بلغان خاتون سے تنہائی میں مل کر انھیں وہ خط دے دیتا ہے۔

بلغان خاتون خط پڑھتی ہیں جس میں زمرد اسے بتاتی ہے کہ اس کے باپ کا قتل جس نے کیا ہے زمرد اسے بلغان خاتون کے سامنے لاسکتی ہے اور بلغان کو ۲۷ رمضان کو زمرد کی قبر پر چار آدمیوں سمیت آنا ہوگا، اس کے علاوہ ضروری ہے کہ بڑا تاتاری لشکر  اس کے قریب ہی ہو۔ اس خط کو پڑھنے کے بعد بلغان خاتون حسین کو بلا کر اسے کہتی ہیں کہ وہ اسے کچھ دن میں زمرد کی قبر پر لے جائے۔ اگلی صبح وہ ایک سانڈی سوار کو ایک خط دے کر کسی طرف روانہ کرتی ہے اور اب اسے اپنے بھائی اور شہنشاہ ترکستان منقو خان کی اجازت درکار ہوتی ہے، لیکن وہ فی الوقت اجازت حاصل کرنے میں تردد کا شکار ہوتی ہے۔ یہیں پر چھٹا باب اختتام پذیر  ہوتا ہے اور ناول کے ساتویں باب کا آغاز ہوتا ہے۔

اس باب میں بلغان خاتون اپنے بھائی سے اجازت طلب کرتی ہے اور بہت بحث و تکرار کے بعد یہ طے پاتا ہے کہ وہ طوبیٰ خان کے لشکر کے ساتھ اپنا لشکر لے کر جائے گی کیوں کہ طوبیٰ خان (بلغان خاتون کے بھائی کا بیٹا) کو بھی اسی راستے سے کچھ آگے کی طرف جانا ہے۔
وہ لوگ دو دن بعد نکلے اور بلغان خاتون اپنے پانچ سو آدمیوں کا لشکر لے کر وہیں رک گئی جہاں ناول کے ابتداء میں زمرد اور حسین کو پایا گیا تھا۔ البتہ طوبیٰ خان اپنے لشکر سمیت اپنی منزل کی جانب بڑھ گیا۔ بلغان خاتون وہاں ۱۸ رمضان کو پہنچیں اور ۲۷ تاریخ تک وہیں انتظار کرنے لگیں۔ ۲۷ تاریخ کو وہ کسی کا انتظار کرنے لگیں لیکن جوں ہی وقت گزرتا گیا چار سپاہیوں سمیت حسین کے ساتھ زمرد کی قبر پر جاکر وہاں کے پتھر ہٹانے لگیں۔ وہاں سے ایک خط ملا جسے انھوں نے پڑھا  اور ایک سپاہی کو واپس بھیج دیا اور باقی سب کے ساتھ آگے بڑھتی گئیں۔

ایک مقام پر پہنچ کر ایک پتلی گلی میں داخل ہونے سے پہلے خاتون نے دوسرے سپاہی کو بھی کچھ کہہ کر واپس بھیج دیا اور پھر آگے بڑھی۔ اس گلی میں ایک کھڑکی تھی جسے کھول کر بلغان خاتون نے اپنے سپاہی اور حسین کے کپڑے نکالے اور پھر بہت سی مشکلات طے کر کے فردوسں بریں جا پہنچیں۔ اس جگہ کو دیکھ کر حسین حیراں ہوگیا۔ وہاں انھیں زمرد ملی جو حسین کو اپنے محل میں چھوڑ آئی اور خود بلغان خاتون کی خدمت میں حاضر ہوگئی۔ یہاں پہنچ کر خاتون اپنے آخری سپاہی کو بھی واپس بھیج چکی تھیں۔ بلغان خاتون کو زمرد اس قلعے کا راستہ سمجھا کر جہاں اسے حملہ کرنا ہے، اسے اپنی کمک کا انتظار اور آرام کرنے کا مشورہ  دے کر ایک محل میں چھوڑ، حسین کے پاس چلی آتی ہے۔

یہاں سے آٹھویں باب کا آغاز ہوتا ہے۔  اب کہ حسین پر حقیقت کھلتی ہے کہ حسین اور زمرد نے جن پریوں کو دیکھا تھا وہ دراصل پریاں نہیں اس مصنوعی جنت کی حوریں تھیں اور زمرد کو بھی وہ پکڑ کر یہاں لے آئی تھیں اور وہ پہلا خط اس لیے لکھوایا گیا کہ تاکہ حسین وادی خالی کردے اور جاکر سب کو پریوں کا قصہ سنائے۔ پھر بھی حسین وہاں سے نہ ہٹا تو زمرد کے غلطی سے بتانے پر کہ امان نجم الدین حسین کے چچا و مرشد ہیں خیال کیا گیا کہ حسین سے ہی ان کا قتل کروایا جائے اور پھر حسین کو زمرد ہر حقیقت بتاتی جاتی ہے کہ یہ سب فریب تھا اور زمرد کی مجبوری بھی۔

وہ اسے بتاتی ہے اس کے سر پر جو نشان ہے وہ لوہے کا ہے اور وہ ہر شخص کے سر پر بناتے ہیں جو اس باطینہ کے مذہب کو مان لیتا ہے تاکہ لوگ اسے پہچان سکیں۔ ایک ایک کر کے زمرد حسین کو خود پر ہوئے  ظلم اور تمام حالات بتاتی گئی کہ اچانک باہر عجیب سا شور ہوا اور دونوں باہر کی جانب بھاگے۔

یہاں آٹھویں باب کا اختتام اور نویں باب کا آغاز ہوا جہاں بلغان خاتون اب اپنے باپ کے قتل کا بدلہ چاہتی تھی۔ بلغان خاتون کو معلوم پڑتا ہے کہ ہلاکو خان بھی اپنے لشکر کے ساتھ آن پہنچا ہے۔  ہلاکو خان کے علاوہ وہاں اب طوبیٰ خان بھی اپنی فوج کے ساتھ دوسرے راستے سے پہنچنے والا ہوتا ہے، اب کہ وہ لوگ قلعے پر حملہ کردیتے ہیں۔ حسین نے بھی وہاں کاظم جنوبی کا قتل کیا، ساتھ ہی طورِ معنی کو بھی قتل کر ڈالا۔ پھر وہ شیخ علی وجودی کو  ڈھونڈ نکالتا ہے اور اسے بھی مار ڈالتا ہے۔ اب کہ خورشاہ کو جوں ہی ہلاکو خان کے سامنے لایا گیا حسین نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن خورشاہ کی جان بخش دی جاتی ہے اور اسے ترکستان جانے کا حکم دے کر جلا وطن کردیا جاتا ہے۔ یہاں پر بلغان خاتون حسین اور زمرد کا نکاح کرواتی ہیں، وہ دونوں حج ادا کرنے جاتے ہیں، وہاں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ واپسی پر کچھ دن اپنے شہر آمِل میں گزارنے کے بعد ہمیشہ کے لیے بلغان خاتون کی خدمت میں حاضر ہوکر وہاں اپنی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
یوں یہ نو ابواب پر مشتمل ایک بہترین ناول کا اختتام ہوتا ہے۔

Hadi KhanWritten By
Advertisements