لاکھوں قاریوں کے دلوں پر راج کرنے والی  اردو ادب کی مشہور و معروف مصفنہ فرحت اشتیاق کا تعلق پاکستان سے ہے۔ فرحت اشیاق اسکرپٹ رائٹر ہیں۔ کراچی میں پیدا ہونے والی  مصنفہ نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی ہی سے حاصل کی۔ ان کے بچپن کا بیشتر حصہ باہر کے ممالک میں گزرا ہے۔ انھوں نے خواتیں کے ادبی جریدوں میں لکھنے کا آغاز کیا اور بہت مقبولیت حاصل کی۔ اس کے بعد ٹیلی وژن کے لیے متعدد ڈرامے لکھے جن میں "ہمسفر” ایک سنگ میل کی حیثیت سے منظر عام پر آیا۔ ان کی تصانیف میں "بن روئے آنسو، ہم سفر، متاع جان ہے تو، دیار دل” جیسے ناول شامل ہیں۔

مشہور کردار

  • میمونہ : خرد کی والدہ۔
  • خرد احسان : میمونہ کی بیٹی۔
  • بصیرت حسین : میمونہ کے بھائی۔
  • فریدہ بیگم : بصیرت حسین کی شریکِ حیات۔
  • اشعر حسین : بصیرت حسین اور فریدہ بیگم کا بیٹا۔
  • سمونا : بصیرت حسین اور فریدہ بیگم کی بڑی بیٹی۔
  • خضر عالم : یاسمین کا بیٹا اور خرد کا یونیورسٹی فیلو۔
  • یاسمین : زرینہ کی نند۔
  • زرینہ : اشعر کی خالہ۔
  • سارہ : زرینہ کی بیٹی۔
  • سامعہ : خرد کی دوست۔
  • ندرت : خرد کی دوست۔
  • حماد سعید :  خضر کا دوست اور سامعہ کا شوہر۔
  • نور افزا : ملازمہ۔
  • جمال: ملازمہ کا پوتا۔
  • بتولہ خالہ : خرد کے والد کی منہ بولی بہن۔
  • افشین : خرد کی دوست۔
  • حریم اشعر : اشعر اور خرد کی بیٹی۔

ناول ہمسفر کا خلاصہ

فرحت اشتیاق کے قلم سے لکھا گیا شاہکار "ہم سفر” ایک ایسا ناول ہے جس میں خود غرضی، انا اور غلط فہمی رشتوں میں دراڑیں پیدا کردیتی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار خرد اور اشعر ہیں جن کی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ لیکن صبر، ہمت، برداشت اور محبت سے وہ لوگ ہر مصیبت کو خیرآباد کہہ کر آخر میں خوش گوار ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ 

خرد جو کہ ناول کا پہلا مرکزی کردار ہے اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوتی ہے۔ والد کا سایہ سر سے اٹھتے ہی اسے اس کی والدہ اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے، خرد کو یتیمی کا دکھ تو ہوتا ہے لیکن اس کے سر پر آسمان اس وقت ٹوٹتا ہے جب اس کی والدہ میمونہ بیگم کے کینسر کی تشخیص ہوجاتی ہے اور بیماری لاسٹ اسٹیچ پر بھی پہنچ چکی ہوتی ہے۔ مناسب علاج وقت پر نہ ہوپانے کے باعث میمونہ بیگم کی طبیعت دن بہ دن خراب ہونے لگتی ہے اور اب وہ ہمہ وقت خرد کی جانب سے پریشان رہتی ہیں۔ چونکہ خرد کا میمونہ بیگم کے علاوہ کوئی نہیں تھا اس لیے میمونہ بیگم اپنے بھائی بصیرت حسین سے رابطہ کرتی ہیں۔

بصیرت حسین شہر کے معروف بزنس مین جب اپنی بہن کی بیماری کے متعلق سنتے ہیں اور اپنی بہن کی خراب حالت دیکھتے ہیں تو انھیں اپنی لاپرواہی پر سخت شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے بزنس میں اس قدر مصروف ہوچکے تھے کہ وہ اپنی بیوہ بہن اور یتیم بھانجی کو یکسر فراموش کرچکے تھے۔ میمونہ بیگم کی پریشانی کے متعلق سن کر بصیرت حسین کو اپنی لاپرواہی کا ازالہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ خرد کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے اپنے بیٹے اشعر سے خرد کا نکاح کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

بصیرت حسین اپنی بہن اور بھانجی کو اپنے گھر لے آتے ہیں۔ بصیرت حسین اپنی شریکِ حیات فریدہ بیگم اور بیٹے اشعر کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی دونوں بیٹیوں کی شادی ہوچکی تھی۔ ان کی بڑی بیٹی سمونا شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی اور چھوٹی بیٹی اسلام آباد میں قیام پذیر تھی۔ اشعر حسین نے چھ سال امریکہ میں رہ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اور وہ چار سال قبل ڈگری لے کر واپس آیا اور بصیرت حسین کے کاروبار کو آگے بڑھانے میں ان کی مدد کرنے لگا۔
اشعر کی والدہ اس کی شادی کرنا چاہتی تھیں لیکن اشعر نے کسی لڑکی کے لیے اب تک ہاں نہیں کی تھی، مگر اپنے باپ کا لاچار چہرہ دیکھ کر وہ اپنی اس کزن سے شادی کے لیے راضی ہوگیا جس کے نام تک سے وہ واقف نہیں تھا۔ خرد کے نکاح کے فوراً بعد میمونہ بیگم خالق حقیقی سے جاملیں۔ میمونہ بیگم کی وفات کے ایک ماہ بعد بصیرت حسین نے خرد اور اشعر کا ولیمہ کردیا۔ دونوں ایک ماہ سے نکاح کے خوبصورت بندھن میں بندھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے یکسر انجان تھے۔ کہیں نہ کہیں وہ دونوں ایک دوسرے کو اس مقدس رشتے میں قبول نہیں کر پارہے تھے۔ دونوں ہی قسمت کے اس فیصلے پر حیران تھے اور خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ چکے تھے۔

شادی کو کچھ وقت گزرنے کے بعد اشعر کو اس رشتے سے کوفت محسوس ہونے لگی۔ وہ خرد کی ہر وقت کی خاموشی سے تنگ ہوگیا تھا۔ اشعر کو یوں محسوس ہوتا جیسے اس کی بیوی گونگی ہے جو اسے سارا دن مخاطب بھی نہیں کرتی ہے۔ اشعر نے اپنے باپ کی وجہ سے شادی تو کرلی تھی لیکن اب وہ اس رشتے سے بیزار ہوچکا تھا۔ اشعر کے حساب سے اس کی بیوی کم تر ذہنی سطح کی حامل تھی، اس کی یہ سوچ اس دن تک قائم رہی جس دن اتفاق سے اس نے خرد اور بصیرت حسین کی باتیں سن لیں، بصیرت حسین خرد سے پوچھ رہے تھے آیا وہ اس شادی سے خوش ہے یا نہیں۔ بصیرت حسین کے سوال کے جواب میں خرد کا جواب سن کر جہاں بصیرت حسین کو حیرانگی ہوئی وہیں اشعر کے لیے بھی خرد نے سوچ کے نئے دروازے کھول دیے۔ جس روز سے اشعر نے سنا کہ خرد اس لیے اس رشتے سے خوش نہیں کیوں کہ خرد کے مطابق اسے زبردستی کسی کے سر پر مسلط کردیا گیا ہے اور یہ بات اس کی عزت نفس پر گراں گزر رہی ہے، اشعر خرد پر نظر رکھنے لگا اور جلد ہی اس پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ خرد اپنے ماموں اور سسر یعنی بصیرت حسین سے خاصی بےتکلف ہے۔ جب کہ اشعر کی والدہ فریدہ بیگم تو اپنی ہی مصروفیات میں مگن رہتی تھیں۔ اشعر نے یہ بھی دیکھا کہ خرد باتوں
میں مشغول ہوتی لیکن اشعر کو دیکھتے ہی خاموش ہوجاتی۔ اشعر کو خرد کا نظر انداز کرنا کھلنے لگا تھا۔ وہ ایک خوش شکل مرد تھا اور کئی لڑکیاں اس کی توجہ کی منتظر رہتی تھیں اور وہیں اس کی بیوی اسے اہمیت ہی نہیں دیتی تھی۔

کچھ ہی دنوں بعد اشعر پر ایک خوش گوار راز فاش ہوا۔ اس نے محسوس کیا کہ خرد اسے چوری چھپے دیکھتی تھی اور اکثر جب وہ بصیرت حسین کے ساتھ  کارڈ کھیلتے ہوئے جیتتا تھا تو خرد بھی خوشی محسوس کرتی۔
خرد کی باتیں سننے اور اس پر نظر رکھنے کے بعد اشعر خرد کے قریب ہونے لگا اور اشعر کی کوششوں سے خرد اور اشعر کے درمیان تکلف کی دیوار آہستہ آہستہ گرنے لگی۔ اشعر نے خرد پر اپنی پسندیدگی کو ظاہر کردیا اور اسے یونی ورسٹی میں ماسٹرز کرنے کے لیے داخلہ دلا دیا۔ یہاں سے ان دونوں کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ دونوں اپنی خوشیوں میں مگن آنے والے وقت سے بےخبر تھے۔ خرد اور اشعر کی زندگی ایک بہترین ڈگر پر چل رہی تھی جب اچانک بصیرت حسین بیمار پڑگئے۔ خرد اور فریدہ بیگم کے دن رات بصیرت حسین کی خدمت کرنے میں گزرنے لگے۔ اپنی بگڑتی طبیعت کے پیشِ نظر بصیرت حسین نے اپنے بیٹے کو بلوا کر اسے اپنی ماں، بہنوں اور بیوی کا خیال رکھنے کا کہا اور اپنی ذمہ داریاں اسے سونپ دی۔ بصیرت حسین نے اشعر کو  نصیحت کی وہ بصیرت حسین کی طرح مصروف ہو کر اپنے رشتوں سے منہ نہ موڑے بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلے۔

اس واقعے کے چند روز بعد ہی بصیرت حسین کا انتقال ہوگیا اور تمام ذمہ داریاں اشعر کے سر پر آن پڑی۔ اشعر نے اپنی والدہ اور خرد کو اس صدمے سے نکالنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہوگیا۔ بصیرت حسین کے انتقال کے بعد خرد فریدہ بیگم سے قریب ہوتی گئی اور ساتھ ہی اس نے یونی ورسٹی جانا بھی شروع کردیا۔  یونی ورسٹی میں خرد کی ملاقات ندرت اور سامعہ سے ہوتی ہے۔ ان تینوں کے گروپ میں ایک لڑکا حماد سعید بھی شامل ہوتا ہے جو سامعہ کا کزن ہوتا ہے اور جس سے سامعہ کا نکاح ہوچکا ہوتا ہے۔ حماد کے توسط سے خضر عالم کی ملاقات خرد سے ہوتی ہے تاکہ خرد خضر کی پڑھائی میں مدد کرسکے۔ خضر اشعر کی خالہ زرینہ بیگم کی نند یاسمین کا بیٹا بھی ہوتا ہے اس لیے اشعر اور فریدہ بیگم بھی خضر عالم کو جانتے ہیں جس کے والدین کویت میں رہتے ہیں اور وہ پڑھائی کے سلسلے میں پاکستان میں قیام پذیر ہوتا ہے۔

اشعر اپنے کاروبار کے سلسلے میں کسی دوسرے ملک جاتا ہے اور واپسی پر اسے پتا چلتا ہے کہ خضر عالم کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور خرد نے اس کو خون دیا ہے کیونکہ دونوں کا بلڈ گروپ او نیگٹیو تھا۔ خرد اور اشعر کی شادی کو ایک سال گزر جاتا ہے اور اس دوران اکثر خضر کے چکر اشعر کے گھر میں لگنے لگتے ہیں۔ خضر کی باتیں اور خرد کی جانب اٹھتی نظریں اشعر کو کئی قسم کے شک و شبہات میں ڈال دیتی ہیں۔ اشعر کی بیگانگی کی وجہ سے اشعر اور خرد کے رشتے میں کھٹاس پیدا ہوجاتی ہے اور اشعر اسی ناراضگی کے ساتھ بزنس کے سلسلے میں دبئی روانہ ہوجاتا ہے۔ اشعر جاتے وقت خرد کی خراب طبیعت کے باعث فریدہ بیگم کو تاکید کرتا ہے کہ وہ خرد کو ہسپتال لے جائیں۔ ہسپتال سے آنے کے بعد فریدہ بیگم اشعر کو بتاتی ہیں کہ کم خوراک اور امتحانوں کی پریشانی کے باعث خرد کمزور ہوگئی ہے اور ڈاکٹر نے اس کا خیال رکھنے کی خاص تاکید کی ہے۔ اشعر کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ خرد سے بات کر کے اسے منالیتا ہے۔ خرد پریگنینٹ ہوتی ہے لیکن چونکہ وہ اشعر کو واپسی پر سرپرائز دینا چاہتی ہے، سو خاموش رہتی ہے اور فریدہ بیگم کو بھی اس بات کا ذکر اشعر کے سامنے کرنے سے منع کردیتی ہے۔

اشعر خرد کو سرپرائز دینے کے لیے بنا بتائے دبئی سے واپس آجاتا ہے لیکن اشعر کی واپسی پر خرد یونی ورسٹی میں موجود ہوتی ہے۔ اشعر خرد کو یونی ورسٹی سے لینے کے لیے نکلتا ہے کہ فریدہ بیگم اسے پہلے خضر کے گھر چلنے کا کہتی ہیں تاکہ خضر کو کچھ سامان دے سکیں۔ خضر کے گھر پہنچ کر وہاں اشعر اور فریدہ بیگم وہاں خرد کو موجود پاتے ہیں جس پر اشعر حیران ہوجاتا ہے جب کہ فریدہ بیگم واویلا مچادیتی ہیں۔ خرد خضر کو اپنی ذات کی گواہی دینے کا بولتی ہے تو خضر بھی اپنی محبت کی تاویلیں پیش کرنے لگتا ہے۔ اشعر خرد کی بات پر یقین نہیں کرتا اور اسے وہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

جب خرد خضر سے اس جھوٹ کی وجہ پوچھتی ہے تو وہ اسے بتاتا ہے کہ فریدہ بیگم نے اس کو یہ سب کرنے کا کہا تھا اور اس کے بدلے وہ خضر کو امریکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے والی ہیں۔ تب خرد کو سمجھ آتا ہے کہ فریدہ بیگم نے اس کو اشعر کی زندگی سے نکالنے کے لیے یہ جال بچھایا تھا اور کس طرح وہ ایک ماں ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے خرد کو اپنے قریب کرتی رہیں اور ساتھ ہی اشعر کو بھی دھیرے دھیرے شک میں ڈالتی رہیں۔ فریدہ بیگم ایک غریب لڑکی کو اپنی بہو بنانے پر راضی نہیں تھیں اور اس لیے انہوں نے خرد کو کبھی بھی اپنی بہو تسلیم نہیں کیا بلکہ وہ اشعر اور خرد کے رشتے میں دراڑیں ڈالتی رہیں۔

فریدہ بیگم نے ہی زرینہ بیگم کی مدد سے یہ جال بچھایا جس میں انھوں نے خضر عالم کو بھی شامل کرلیا اور خرد کو یہ کہہ کر خضر کے گھر بھجوایا کہ آج خضر کے گھر خضر کی پسند ماہین آنے والی ہے اس لیے خرد خضر کی کچھ مدد کردے اور پھر فریدہ بیگم اشعر کو وہاں لے گئیں۔ انھوں نے اس کام میں اپنی بہن کو بھی شامل کرلیا اور زرینہ بیگم اپنی بیٹی سارہ کے لیے فریدہ بیگم کی مدد کرنے لگیں۔ سارہ اشعر کو پسند کرتی تھی لیکن اس کی شادی خرد سے ہوگئی اور سارہ اب بھی اشعر کی توجہ کی منتظر تھی۔

خرد واپس اپنے گھر آتی ہے اور فریدہ بیگم سے اس سازش کی وجہ دریافت کرتی ہے لیکن فریدہ بیگم اسے باتیں سنا کر گھر سے نکل جانے کا کہتی ہیں۔ وہ ان کو اپنے ہونے والے بچے کا واسطہ دیتی ہے مگر وہ اس کو چیلنج کرتی ہیں کہ اگر وہ اپنی پوری زندگی میں یہ ثابت کر سکے کہ یہ بچہ اشعر کا ہے اور اشعر اس بات کا یقین کر لے تو وہ ہار مان لیں گی۔ فریدہ بیگم خرد کی بہت منتوں کے بعد خرد کو ایک گھنٹے کا وقت دیتی ہیں کہ وہ یہیں اشعر کا انتظار کرلے۔ ایک گھنٹے کے گزر جانے کے باوجود جب اشعر کی واپسی کے آثار نظر نہیں آتے تو خرد اشعر کے نام ایک خط لکھ کر نور افزا کو دیتی ہے اور التجا کرتی ہے کہ وہ یہ خط اشعر تک پہنچا دیں۔ نور کا پوتا جمال خرد کو دوسرے شہر جانے کے لیے گاڑی میں بٹھا آتا ہے۔ اس صدمے سے اشعر بری طرح بیمار ہو جاتا ہے اور گھر آکر جب خرد کو ڈھونڈتا ہے تو فریدہ بیگم اس کو بتاتی ہیں کہ خرد گھر چھوڑ کر بھاگ گئی ہے۔ خرد کا کوئی سہارا نہیں ہوتا اس لیے وہ ابا کی منہ بولی بہن بتولہ خالہ کے پاس چلی جاتی ہے جو اس کو بالکل ایک ماں کی طرح سمیٹ لیتی ہیں۔

خرد کی ڈلیوری پری میچور ہوتی ہے۔ ساتویں مہینے میں اس کا سیزیرین کرنا پڑتا ہے۔ اپنی بیٹی کی پیدائش سے پہلے خرد اشعر سے رابطہ کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کرتی ہے لیکن اشعر اس کی بات کبھی نہیں سنتا۔ حریم کی پیدائش کے بعد خرد فیصلہ کرلیتی ہے کہ وہ کبھی اشعر سے رابطہ نہیں کرے گی۔  خرد ایک اسکول میں پڑھانا شروع کردیتی ہے اور وہاں اس کی ملاقات افشین سے ہوتی ہے جو اسے مخلص دوست کے روپ میں ملتی ہے۔ افشین خرد کو ایک کمپنی میں جاب دلوادیتی ہے۔زندگی بہتر ہونے لگتی ہے۔ خرد اپنی بیٹی کو ہر آسائش مہیا کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے مستقبل کے لیے بھی پیسہ جمع کرتی ہے۔ مگر چار سال کی حریم اچانک بیمار پڑجاتی ہے اور اس کے مختلف ٹیسٹ کروانے سے پتا چلتا ہے کہ اس کے دل میں پیدائشی مسئلہ ہے جس کا علاج اوپن ہارٹ سرجری ہے۔ علاج کے لیے بہت سارے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جب خرد ہر طرف سے مایوس ہو جاتی ہے تو افشین اس کو اشعر سے مدد مانگنے کا مشورہ دیتی ہے۔

خرد اپنی خوداری اور انا کو پس پشت ڈال کر اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے اشعر کے آفس جاتی ہے۔  اشعر اس سے بات نہیں کرنا چاہتا مگر وہ کہتی ہے اس کو دس منٹ چاہیے۔ پھر خرد اشعر کو اس کی بیٹی اور اس کی بیماری کے متعلق بتاتی ہے اور یہ بھی کہہ دیتی ہے کہ اگر اس کو حریم کے اپنی بیٹی ہونے پر شک ہے تو وہ ڈی این اے ٹیسٹ کروا سکتا ہے اور ساری ریپورٹ ٹیبل پر رکھ کر چلی جاتی ہے، مگر اشعر وہیں گم صم رہ جاتا ہے۔ ایک دن اچانک اشعر حریم سے ٹکرا جاتا ہے اور اسے پہچان لیتا ہے۔ اشعر حریم کو اپنے اپارٹمنٹ لے آتا ہے، خرد بھی اس کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ بھی خاموشی سے اشعر کے ساتھ آجاتی ہے۔ حریم کے ساتھ رہتے ہوئے اشعر کو اس چار سال کی دوری کا دکھ ہوتا ہے اور اس کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں اشعر کو حسرت میں مبتلا کردیتی ہیں۔ وہ اس کی ہر خواہش پوری کرتا ہے۔  حریم کی سرجری بھی کامیاب ہو جاتی ہے۔ خرد اور حریم کے ساتھ رہتے ہوۓ اشعر کو لگتا ہے کہ  خرد غلط نہیں تھی۔ اس کو سمجھ نہیں آتا وہ کس سے پوچھے اس کو سمجھ نہیں آتی۔ وہ خرد اور حریم کو ڈنر پر لے جاتا ہے وہاں سارہ اشعر اور خرد کو دیکھ لیتی ہے۔ سارہ کو لگتا تھا اشعر کبھی نا کبھی اس کو قبول کر لے گا۔ اس لیے اشعر کے ساتھ خرد اور اس کی بیٹی کو دیکھ  سارہ غصے سے خرد سے بدتمیزی کرتی ہے جس پر اشعر اس کو بے عزت کرتا ہے۔

اشعر کو سچ کی تلاش ہوتی ہے پھر اسے یاد آتا ہے وہ خط جو اس کو خرد کے جانے کے بعد ملازمہ نے دیا تھا جس کو اس نے غصے کی وجہ سے پڑھے بنا بریف کیس میں پھینک دیا تھا۔ وہ خط ڈھونڈ کر پڑھتا ہے تو اسے پتا چلتا ہے کے خرد کیوں گئی تھی گھر سے۔ باقی کی تفصیل اس کو نور افزا بتاتی ہے مگر اس کو یقین نہیں آتا یہ سب اس کی ماں نے کیا ہے۔ سارہ اپنا غصہ ماں پر نکالتی ہے کہ ان کی پلیننگ فیل ہو گئی ہے خرد اشعر کے پاس واپس آچکی ہے۔ زرینہ بیگم اپنی بہن کو فون کر کے بتاتی ہیں اور تبھی اشعر فریدہ کی باتیں سن لیتا ہے اور  اس گھر سے چلا جاتا ہے۔فریدہ خرد کے اپارٹمنٹ آکر اس کو باتیں سناتی ہیں یہ جانے بغیر کہ اشعر وہیں ہے۔ اشعر آکر ماں سے کہتا ہے کہ اس کی بیوی بیٹی کو کچھ نہیں کہیں۔ وہ اشعر سے کہتی ہیں کہ اسے کہو ثبوت دے کہ حریم تمہاری بیٹی ہے۔ تب اشعر کہتا ہے حریم میری بیٹی ہے۔ اگر اس بات کا ثبوت نہیں ہے تو ثبوت تو اس بات کا بھی نہیں ہے کہ میں بصیرت حسین کا بیٹا ہوں۔ اور پوچھتا ہے کہ کیا جب وہ پیدا ہوا تھا تو اس کے باپ نے گواہی مانگی تھی ان سے؟

اشعر کو روتا دیکھ کر فریدہ بیگم کو اپنی تمام باتیں اور غرور میں بولا جملہ یاد آتا ہے کہ انہوں نے کہا تھا اگر خرد اس کی زندگی میں یہ ثابت کر سکے کہ یہ بچہ اشعر کا ہے اور اشعر اس بات کا یقین کر لے تو وہ ہار مان لیں گی۔ پھر وہ ہار جاتی ہیں۔  اشعر خرد سے اپنے کیے کی معافی مانگتا ہے اور اس کو کہتا ہے اس کی خاطر نہیں تو حریم کی خاطر اس کو معاف کر دے۔ جس کو ماں باپ دونوں کی ضرورت ہے اور خرد اپنی بیٹی کی خاطر اشعر کو معاف کردیتی ہے اور آخر کار جیت محبت کی ہوتی ہے۔

از تحریر

ہادی خان

Advertisements