نمرہ احمد کثیر الاشاعت اردو ڈائجسٹ شعاع میں اپنے ناول لکھنے کی بدولت مشہور ہوئیں، 2007 ء میں ان کا پہلا ناول شعاع میں چھپا، اس کے بعد انہوں نے قارئین پہ اپنے منفرد اندازِ تحریر سے نمایاں اثرات مرتب کیے۔ نمرہ احمد نے 2007ء سے اب تک 20 سے زائد ناول تحریر کیے ہیں۔ "مصحف” بھی انہی میں سے ایک ہے۔ مصحف قرآنِ پاک کی اہمیت پہ تحریر کردہ ناول ہے جو کہ شعاع ڈائجسٹ میں 2011ء میں سلسلہ وار شائع ہوا۔

مصحف ایک مذہبی ناول ہے، ناول کا بیشتر حصہ ان مسئلوں کو بیان کرتا ہے جس سے ہمارا معاشرہ گزرتا ہے اور چاہے کوئی کچھ بھی کہے جب معاشرے کا ایک بڑا حصہ مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور کچھ نہیں تو مذہبی تہوار زور و شور سے مناتا ہو تو وہاں ایسے ناول لکھے جانے چاہیں اور ایسے ناولوں کو پسماندہ اور مذہبی افکار کا نام دے کر ریجیکٹ یا تنقید برائے تنقید نہیں کرنی چاہیے، یا تو آپ معاشرہ چھوڑ دیجیے کیونکہ معاشرہ ٪90مذہب کی نمائندگی کرتا ہے یا پھر مذہب کو پرانے لوگوں کی باتیں سمجھنا چھوڑ دیجیے، کیوں کہ ان پرانی اور قوانین و ضوابط سے بھری باتوں میں اتنی طاقت ضرور ہے کہ وہ ایک مکمل طور پہ بھی ذہنی اور فطری طور پہ بھی صحت مند ، عقل مند انسان کو بدل کر رکھ دیں۔ ایسے ملحد بھی بہت دیکھے ہیں جنہوں نے مذہبی تعلیمات کو تو تابڑ توڑ کوڑے مارے ہیں، مگر مذہبی تہوار اور رسومات کو ہر دفعہ منایا ہے اور جہاں اپنا فائدہ نظر آیا مذہب کو ڈھال بنا لیتے ہیں۔

ناول کا خلاصہ

یہ کہانی ایک یتیم لڑکی محمل اور اسلامی مقدس کتاب قرآن پاک کی ہے۔ محمل آغا ابراہیم کی بیٹی ہے، آغا ابراہیم کی شادی مسرت نامی خاتون سے ذاتی پسند پر ہوتی ہے۔ آغا ابراہیم کے تین بھائی ہیں، آغا کریم(تین بیٹے فواد، حنان اور وسیم دو بیٹیاں سدرہ اور مہرین) ذریعہ معاش کپڑوں کی دکان ، آغا زعفران( دو بیٹیاں ندا اور سامعیہ ایک بیٹا حسن) ذریعہ معاش معمولی سا انجنئیر اور آغا اسد( ایک بیٹی آرزو اور بیٹا معیز) ذریعہ معاش کچھ بھی نہیں۔ جبکہ ایک ہی بہن ہے جس کی ایک ہی بیٹی ہے فائقہ۔

آغا ابراہیم کی وفات محمل کے بچپن ہی میں ہو جاتی ہے۔ محمل کے نو دس سال ہونے تک اس کے تینوں چچا اپنے اپنے اہل و عیال کو لیکر ان کے تین منزلہ بنگلے میں منتقل ہو گئے، اور پھیلتے پھیلتے محمل اور مسرت کے ماسٹر بیڈ روم پر بھی قبضہ جما لیا اور انہیں ایک اسٹور روم میں جگہ دے دی۔ حالانکہ کہ تمام جائیداد کی اکلوتی وارث محمل تھی مگر وہ دو جگہوں پہ ٹیوشن پڑھاتی اور خرچ پورا کرتی، اس کی ماں مسرت سارے گھر کا کام اور کھانا پکاتی مگر پھر بھی ان دو ماں بیٹیوں کے لیے کچھ نہ بچتا۔

محمل اپنی اس طرز زندگی سے بہت اکتا چکی تھی، بیس سال کی عمر تک وہ نہایت اکھڑ اور بدتمیز ہو چکی تھی۔ اس کی ساری چچا ذاد بہنیں عمدہ سے عمدہ کپڑے جوتے پہنتی اور اس کے پاس تین تین سال پرانے کپڑے ہوتے۔ اس سے بدتر حال اس کی ماں کا تھا۔ محمل اپنے تمام چچاؤں اور ان کے بیوی بچوں سے نفرت کرتی تھی جنہوں نے اس کی جائیداد پہ قبضہ کر رکھا تھا اور کوئی انہیں ڈر کے مارے پوچھنے والا نہیں تھا۔

ایک دن فواد کو احساس ہوتا ہے کہ محمل اب جوان ہو چکی ہے اور خاندان کی تمام لڑکیوں سے زیادہ حسیں ہے۔ محمل کو بھی فواد کی نظروں میں چھپا پیغام مل جاتا ہے۔ فواد پہ پورے خاندان کی نظر تھی ہر لڑکی اور اس کی ماں کی خواہش تھی کہ فواد ان کا ہو جائے کیونکہ وہ خاندان کا اکلوتا بے حد خوبصورت اور ہینڈسم نوجوان ہوتا ہے۔ جب وہ محمل کی طرف مائل ہوتا ہے تو محمل کو تو جیسے ایک ترب کا پتہ مل جاتا ہے کہ اس کو قابو کر کے اپنی تمام تر جائیداد واپس لی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب فواد اس کا استعمال کرتا ہے اور ایک گینگ کو ایک رات کے لیے بیچ دیتا ہے۔ محمل پر خدا کی خاص مہربانی ہوئی کہ وہ گینگ فواد کے لیے ایک ٹریپ ہوتا ہے، گینگ کا سرغنہ ہمایوں ایک ایس پی ہوتا ہے، جو کہ فواد کے لڑکیوں کو بیچنے والے کاروبار کو بے نقاب کرنا چاہتا ہے، مگر محمل کو وہ پھر نہیں بخشتا اور اس پہ یقین نہ کرتے ہوئے اسے اپنے کمرے میں بند کر دیتا ہے۔ وہ اسے ایک پروفیشنل گرل سمجھتا ہے۔ محمل پہ اللّٰہ کی خاص مہربانی ہوتی ہے اور وہ باتھ روم سے کسی طرح کود کر ساتھ والے مکان میں جا گرتی ہے۔

وہ مکان نہیں بلکہ مسجد ہوتی ہے اس مسجد کی مالکن اور پڑھانے والی ایک لڑکی ہوتی ہے جس کا نام فرشتے ہوتا ہے۔ فرشتے ہمایوں کی خالہ زاد ہوتی ہے وہ ہمایوں سے کہتی ہے کہ محمل سے نرمی سے پیش آئے۔ پھر وہ ہمایوں کے حوالے کر دیتی ہے صبح کو وہ محمل کو اس کے گھر لے جاتا ہے۔ فواد کا بھانڈہ پھوٹ جاتا ہے اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور سارے خاندان میں آغا کریم کی بے عزتی ہو جاتی ہے۔ محمل اس واقعے کے بعد ہر روز مسجد جاتی ہے، قرآن کی تعلیم اس کی زندگی کو آہستہ آہستہ بدلنے لگتی ہے۔

اس دوران محمل کو زبردستی ہمایوں کے خلاف بیان دینے کے لیے ذہنی طور پہ اذیت دی جاتی ہے۔ اسد اور غفران چچا اس کو بری طرح پیٹتے بھی ہیں، اس کی ماں صرف تماشائی بنی رہتی ہے۔ اس کا کزن حسن اس کو پسند کرتا ہے مگر اس کے لیے اسٹینڈ لینے میں ناکام رہتا ہے۔

فواد جیسے تیسے جیل سے ضمانت پہ رہا ہو جاتا ہے۔ محمل کے لیے فواد کا رشتہ ڈالا جاتا ہے، مگر محمل شادی نہیں کرنا چاہتی ہے۔ ایک روز آغا کریم محمل سے ڈیل کرنے آتے ہیں اور ہمایوں کے خلاف بیان دینے پہ اس کے نام اس کی جائیداد واپس کرنے کی آفر کرتے ہیں۔ محمل بھی مرعوب ہو جاتی ہے، پھر وہ سوچتی ہے کہ کیا کرے۔ کمرہ عدالت میں وہ آغا کریم کے آگے نو کروڑ کا چیک رکھتی ہے کہ اگر وہ سائین کر دیں تو وہ جھوٹا بیان دینے کو تیار ہے، مگر وہ چیک چیر پھاڑ دیتے ہیں اور محمل سکون کا سانس لیکر ہمایوں کے حق میں بیان جمع کراتی ہے۔

محمل اور ہمایوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگتے ہیں۔ مگر فرشتے ہمایوں کو بچپن سے ہی چاہتی ہے۔ انہی دنوں میں محمل کو معلوم پڑتا ہے کہ فرشتے اس کی سوتیلی بہن ہے، اسے بہت بڑا دھچکا لگتا ہے۔ مسرت سے شادی سے قبل آغا ابراہیم نے فرشتے کی ماں سے پسند کی شادی کی ہوتی ہے، مگر گھریلو تنازعات کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں اور بعد میں مسرت سے شادی کر لیتے ہیں۔

محمل کی طرح فرشتے بھی آئے روز اپنے چچاؤں سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔محمل کا فواد کے خلاف بیان دینے پہ اس کا رشتہ وسیم سے کر دیتے ہیں جو کہ انتہائی کمینی خصلت انسان ہے۔ محمل کانپ جاتی ہے، ایک دن وہ مسجد ہوتی ہے کہ اس کو گھر سے ڈرائیور آ کر لے جاتا ہے کہ اس کی والدہ کی وفات ہو گئی ہے۔یہ اس کی زندگی میں آنے والا سب سے بڑا طوفان ہوتا ہے، اس کے چچاؤں نے جھوٹ موٹ کی ایک وصیت اس کو سنائی کہ مسرت کہہ گئی ہے کہ میری خواہش ہے کہ محمل کو جلد از جلد وسیم کے نکاح میں دے دیا جائے۔ محمل بھی بیوقوف بن جاتی ہے، عین نکاح والے دن فرشتے لڑنے آجاتی ہے۔ فواد گن پوائنٹ پہ دونوں بہنوں سے تمام جائیداد پہ سائین کرا کر محمل کی شادی ہمایوں سے کرا کر اسے فارغ کر دیتے ہیں۔

ہمایوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ کس طرح سے اس کی شادی ہوئی ہے، نہ محمل بتاتی نہ فرشتے۔ محمل اپنے قرآن پاک میں بہت مگن ہوتی ہے۔ فرشتے بھی سب چھوڑ چھاڑ کہ بیرونِ ملک چلی جاتی ہے، ایک سال بعد محمل اور ہمایوں کا بیٹا بھی ہوتا جس کا نام تیمور رکھا جاتا ہے۔

ایک صبح سڑک پہ محمل کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے، جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ وہ سات سال بعد ہوش میں آتی ہے اس کا بیٹا چھے سال کا ہو چکا ہوتا ہے۔ فرشتے نے سارے گھر کی ذمے داریاں سنبھال رکھی ہوتی ہیں۔ ہمایوں اس سے شدید ترین بدگمان ہوتا ہے، اور اس کو ٹھیک ایک سال بعد طلاق دے دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا بیٹا بھی اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔

محمل اور ہمایوں کی شادی سے پہلے جب ہمایوں پہلی بار اسے گھر چھوڑنے آتا ہے تبھی محمل کی تایا زاد بہن آرزو ہمایوں پسند کر لیتی ہے۔ محمل کے دوران کومہ وہ مصنوعی تصاویر کے ذریعے سے ہمایوں کو فواد اور محمل کے جھوٹے چکروں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے۔ ہمایوں بنا کسی تحقیق کے فرشتے سے تصدیق کراتا کہ واقعی کوئی چکر تھا؟ فرشتے کو سب معلوم ہوتا ہے مگر وہ بھی شیطان کے بہکاوے میں آجاتی اور کہتی کہ مجھے نہیں معلوم۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہمایوں محمل سے شدید ترین نفرت کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ فرشتے تو نیک پاک ہے وہ جھوٹ نہیں بولتی اور اس نے بھی کہا کہ فواد اور محمل ایک ساتھ آتے جاتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ محمل کے ہوش میں آتے ہی اسے طلاق دے دیتا ہے۔

عدت کا آخری دن ہوتا ہے کہ محمل کو سب پتہ چل جاتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی جان سے زیادہ پیار کرنے والی بہن نے اس کو برباد کر ڈالا ہے صرف ایک چپ کی وجہ سے۔ وہ فرشتے کو اللّٰہ پاک کا کلام سناتی ہے، فرشتے سننا نہیں چاہتی کیونکہ اس نے اس رات کی گواہی میں جو لا تعلقی اور چپ چاپ الزام کو صادر ہوتا دیکھا مگر بہن کو نہ بچایا اسی رات سے قرآن پاک سے دور چلی گئی۔ اب جب محمل اس کو وہ آیات سناتی ہے جن میں اللّٰہ پاک نے جھوٹے الزامات کی تردید کرنے پہ زور دیا ہے اور دنیا حاصل کرنے والوں کو کتے کی مثال دی ہے تو فرشتے رو پڑتی ہے۔

وہ اسی وقت فواد کو بلاتی ہے اور معیز کو بھی جو وہ تصاویر لایا تھا، فواد ہمایوں کو گواہی دیتا ہے کہ محمل کا کوئی تعلق نہیں تھا اس کے ساتھ، اور معیز بھی سچ بیان کرتا ہے کہ آرزو اور ماما کے اصرار پہ اس نے یہ سب کیا ہے۔ دونوں چچا زاد بھائی معافیاں مانگ کر چلے جاتے ہیں۔ہمایوں بھی معافی مانگتا ہے مگر اپنا قصور نہیں مانتا اور کہتا ہے کہ دوبارہ رجوع کر لیتے ہیں مگر محمل انکار کر دیتی ہے۔

فواد نے دونوں بہنوں کو ان کے حصے واپس کر دیے ہوتے ہیں۔ محمل آغا ہاؤس شفٹ ہو جاتی ہے۔ تیمور بھی اس کے پاس آجاتا ہے، اس کے تمام ظالم چچا اور ان کے بچے اپنے برے انجام کو سہہ رہے ہوتے ہیں، اور آغا کریم جیسا فرعون فالج زدہ ہو کر محمل کے گھر آ جاتا ہے کہ اس کے بچے اس کو برداشت نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ تیمور بڑا ہو کر ملک کا نامور اسکالر بنتا ہے، جبکہ ہمایوں اور فرشتے شادی کر کے محمل کو کھو کر پچھتاتے رہتے ہیں۔ محمل کی سخت آزمائش کے بعد اللّٰہ پاک اس کو اس کے تمام صبر کا صلہ دیتے ہیں۔ یہ ناول اسلام اور قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔

از تحریرعائشہ اقبال
Advertisements