• کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر20: مضمون
  • سبق کا نام: اولمپک کھیل

اولمپک کھیلوں پر مضمون

اولمپک یونانی لفظ ‘اولمپیا’ سے بنا ہے۔یونان دنیا کا قدیم اور خوبصورت ملک ہے۔اولمپیا یونان میں ایلس کے مقام پر واقع ایک میدان ہے۔ اس میدان میں ہر چوتھے سال کھیلوں کے مختلف ورزشی صحت کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔اسی بنیاد پر ان کھیلوں کو اولمپک کا نام دیا گیا۔

ان کھیلوں کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ اولمپک کھیلوں کا سلسہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے 776 برس قبل شروع ہوا۔جسے 1253 میں ہرکولیس نے شروع کیا تھا۔ اس زمانے میں یہ کھیل ایک ماہ تک جاری رہتا تھااس کھیل میں تین مقابلوں میں اول آنے والے لوگوں کے مجسمے بنا کر میدان میں نسب کیا جاتےتھے۔

Advertisement

کامیاب کھلاڑی عام دروازے سے اپنے ملک داخل نہ ہوتے بلکہ چاردیواری توڑ کر ان کے لیے خاص رستہ بنایا جاتا تھا۔ان کھلاڑیوں کا پر جوش استقبال ہوتا تھا۔پہلے یہ کھیل ایک تہوار کے طور پر منائے جاتے تھےجس میں شرکت کے لیے باقاعدہ اعلان کیا جاتا تھا۔ اس کھیل میں شرکت کے لیے ضروری شرط تھی کہ اس کھلاڑی نے کوئی جرم نہ کیا ہواور کم سے کم دس مہینے مقابلے کی تیاری کی ہو۔

مقابلے سے قبل کھلاڑیوں کی صحت کو جانچا جاتااور کھیل میں دیانت داری دکھانے کا عہد لیا جاتا۔ان کھلاڑیوں پر باقاعدہ نظمیں کہیں جاتی تھیں۔یہ کھلاڑی ملک کے بہترین فرزند کہلاتے تھے اور ان کے سروں پر زیتون کی پتیوں کا تاج پہنایا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ 394 تک جاری رہا۔ اس کے بعد یہ مقابلے بند ہوگئے اور قریب پندرہ سو سال تک یہ سلسلہ بند رہا۔ جبکہ 1896ء میں دوبارہ اولمپک کھیلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

کھیلوں کے نمائندوں کو بلا کر بھرپور تعاون کی یقین دھانی کرائی گئی۔اس کے بعد یونان کے شہر ایتھنز کا دوبارہ سے کھیل کے آغاز کے لیے انتخاب کیا گیا۔1896ء میں جب یہ کھیل دوبارہ شروع ہوا تو اس میں صرف تیرہ ملکوں کے کھلاڑیوں نے شرکت کی1908ءتک اولمپک کھیل دنیا بھر میں مشہور ہو گئے۔1912ء میں جب یہ مقابلے سویڈن میں ہوئے تواس میں تمام براعظموں کے لگ بھگ ڈھائی ہزار کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ ان میں ستاون عورتیں شامل تھیں۔

4 سال بعد یہ مقابلے اولمپیا کے نام سے ہونے لگے۔دوسری جنگ عظیم میں یہ مقابلے منعقد نہ ہوسکے۔جنگ کے بعد 1948ء میں یہ مقابلےلندن میں ہوئے جس میں ایک سو بائیس ملکوں کے دس ہزار کھلاڑیوں نے شرکت کی۔کھیل کے آغاز میں سب سے آگے یونان کے کھلاڑی ہوتے ہیں۔اس کے بعد انگریزی حروف تہجی کے اعتبار سے دیگر ملکوں کے کھلاڑی آتے ہیں۔اس موقعے پہ بے شمارکبوتر آزاد کیے جاتے ہیں اور ایک مشعل سورج کی کرنوں سے روشن کی جاتی ہے۔

ان کھیلوں کے لیے ایک مخصوص پرچم بھی ہے جس کی زمین سفید ہے جو امن کا پیغام دیتی ہے جبکہ اس کے اوپرپانچ مختلف رنگوں کے دائرے بنے ہیں۔ اولمپک کے جھنڈے کے سفید، پیلے، کالے، سبز، نیلے اور لال دائرے پانچ بر اعظموں ایشیا ، آسٹریلیا، یورپ، امریکہ ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کی علامت ہیں۔اولمپک کا موٹو لاطینی زبان میں ہے جس کے معنی ہیں: اور تیز، اور اونچا، اور مضبوط۔ کھیلوں کی اہم بات محض جیتنا نہیں، بلکہ ان میں حصہ لینا جینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھیل کو کھیل کے جذبے کے ساتھ کھیلنے والا مقابلے میں ہارنے کے باوجود لوگوں کا دل جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

اولمپک کھیلوں کا آغاز کیسے ہوا؟

اولمپک کھیل 884 قبل مسیح میں شروع ہوئے اور 776 ق م سے ہر چار سال کے بعد پابندی سے کھیلے جانے لگے۔

پرانے زمانے میں اولمپک کھیلوں کا اعلان کس طرح کیا جاتا تھا؟

پرانے زمانے میں اولمپک کھیل تہوار کے طور پر منائے جتے تھے۔ ان کے شروع ہونے سے قبل پورے یونان میں اعلان کیا جاتا تھا کہ اولمپیا کے مقابلے ہونے والے ہیں۔

اولمپک کھیلوں میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کے لیے کیا شرطیں تھیں؟

ان کھیلوں میں حصہ لینے والوں کے لیے یہ ضروری تھا کہ انہوں نے کوئی جرم نہ کیا ہو۔ ان کے اعمال اچھے اور پاکیزہ ہوں۔ انہوں نے کم سے کم دس مہینے مقابلے کی تیاری کی ہو اور آخری مہینہ اولمپیا میں گزارا ہو۔

اولمپک کھیلوں کو بین الاقوامی سطح پر شروع کرنے کی تحریک کس نے کی؟

ایک فرانسیسی نوجوان کو بے تین نے اولمپک کھیلوں کو بین الاقوامی سطح پر شروع کرنے کی تحریک کی۔

عورتوں کو اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع کب سے ملا؟

1912 میں عورتوں کو اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔

اولمپک جھنڈا کس بات کی علامت ہے؟

اولمپک کے جھنڈے کے سفید، پیلے، کالے، سبز، نیلے اور لال دائرے پانچ بر اعظموں ایشیا ، آسٹریلیا، یورپ، امریکہ ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کی علامت ہیں۔

اولمپک کا موٹو کس زبان میں ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟

اولمپک کا موٹو لاطینی زبان میں ہے جس کے معنی ہیں: اور تیز، اور اونچا، اور مضبوط

اولمپک کھیل کس جذبے سے کھیلے جاتے ہیں ؟

کھیلوں کی اہم بات محض جیتنا نہیں، بلکہ ان میں حصہ لینا جینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھیل کو کھیل کے جذبے کے ساتھ کھیلنے والا مقابلے میں ہارنے کے باوجود لوگوں کا دل جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

منعقد ہونا ہمارے کالج میں کھیلوں کا سالانہ مقابلہ منعقد ہونا تھا۔
عہد کرناہم سب کو مل کر عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے لیے جان قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
سنگ تراش احمد ایک ماہر سنگ تراش ہے وہ سنگ تراشی سے خوبصورت مجسمے گھڑ لیتا ہے۔
پاکیزہپاکیزہ ڈائجسٹ عوام میں بہت مقبول ہے۔
مقبولیتاپنی بہترین کارکردگی سے ہندوستانی ٹیم کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔
بین الاقوامی ہندوستانی ٹیم بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے۔
مشعلاولمپک کھیل جب تک جاری رہتے ہیں اس کی مشعل جلتی رہتی ہے۔
براعظمہندوستان براعظم ایشیا میں واقع ہے۔
راجدھانیراجدھانی ایکسپریس پلیٹ فارم پر تیار کھڑی تھی۔

عملی کام:

اولمپک کھیلوں کے بارے میں دس جملے لکھیے۔

  • اولمپک کھیل عالمی سطح پر کھیلے جاتے ہیں۔
  • جس سے مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
  • اولمپک مقابلے کھلاڑیوں کو بڑے پیمانے پر تفریح کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
  • ان مقابلوں کے ذریعے ایک بڑے پلیٹ فارم پر بہت سے کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی دکھانے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔
  • اولمپک کھیلوں میں دنیا کے قریباً سو ممالک حصہ لیتے ہیں۔
  • ان کھیلوں کے لیے ایک مخصوص پرچم بھی ہے جس کی زمین سفید ہے جو امن کا پیغام دیتی ہے جبکہ اس کے اوپرپانچ مختلف رنگوں کے دائرے بنے ہیں۔
  • اولمپک کے جھنڈے کے سفید، پیلے، کالے، سبز، نیلے اور لال دائرے پانچ بر اعظموں ایشیا ، آسٹریلیا، یورپ، امریکہ ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کی علامت ہیں۔
  • اولمپک کا موٹو لاطینی زبان میں ہے جس کے معنی ہیں: اور تیز، اور اونچا، اور مضبوط۔
  • 1912 میں عورتوں کو اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
  • اولمپک کھیل بین الاقوامی وحدت کا اہم ذریعہ ہیں۔
  • اولمپک کھیل اب تک کن کن ملکوں میں ہو چکے ہیں اس کی فہرست بنائے ۔
  • اولمپک کھیل اب تک ٹوکیو، جاپان ،فرانس،لندن، لاس اینجلس ، سکاٹ لینڈ ،متحدہ عرب امارات ،بیجنگ، انس برگ وغیرہ۔