Advertisement

پیروڈی لفظ ‘پیروڈیا’ سے نکلا ہے۔جس کے معنی ہیں جوابی نغمہ۔یہ ایک ادبی طرز تخلیق ہے جس میں کسی نظم یا نثر کی نقل کرکے مزاح کا رنگ پیدا کیا جاتا ہے۔

Advertisement

اصطلاح میں اس سے وہ صنف ظرافت (نظم ونثر) مراد ہے جو کسی کے طرز نگارش کی طرز اور نقل میں لکھی گئی ہو اور اصل نگارش کے الفاظ و خیالات کو اس طرح بدل دیا جائے کہ مزاحیہ تاثرات پیدا ہو جائیں۔بعض اوقات صرف ایک لفظ بدل دیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ایک حرف یا حرکت کی تبدیلی سے بھی پیروڈی ہوجاتی ہے۔پیروڈی کے لیے ضروری ہے کہ جس نظم میں نثر کی پیروڈی ہو وہ مشہور ومعروف ہو تاکہ قاری فوراً پہچان لے اور اس سے بھرپور مزا اٹھا سکے۔ پیروڈی کو مضحکہ خیز لفظی تصرف یا لفظی نقالی بھی کہہ سکتے ہیں۔

Advertisement

ابن انشا کی مشہور غزل ملاحظہ فرمائیں؀

Advertisement

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل ترے، پربت ترے، بستی تری،صحرا تیرا
اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے چھوٹی محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ ترا

ابن انشا کی اس غزل کی سعدیہ حریم نے بہت خوب پیروڈی کی ہے۔

Advertisement

کل رات نکلی تھی پولس شب بھر کیا پیچھا ترا
معلوم تھا سب کو مگر پکڑا نہ پر سایہ ترا
دھندہ کرے کوئی تو کیا ہر شئے پہ ہے قبضہ ترا
دفتر ترے، افسر ترے، موٹر تری، بنگلہ ترا
اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں
محفلیں
ہر شخص کرتا ہے طلب بھولا ہوا قرضہ ترا

اردو ادب میں ابن انشا کی تصنیف "اردو کی آخری کتاب” پیروڈی کی بہترین مثال ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement