• کتاب” اپنی زبان "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر19:نظم
  • شاعر کا نام: محمد فاروق دیوانہ
  • نظم کا نام: پیام عمل

نظم پیام عمل کی تشریح:

گر قوم کی خدمت کرتا ہے
احسان تو کس پر دھرتا ہے
کیوں غیروں کا دم بھرتا ہے
کیوں خوف کے مارے مرتا ہے
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے!
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے!

یہ اشعار نظم "پیام عمل” سے لیے گئے ہیں۔ اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اگر تم اپنی قوم کی خدمت کرتے ہو تو یہ تم کسی پہ احسان نہیں کرتے ہو۔ غیر لوگوں کی خدمت کیوں کرتے ہو اور ان کا دم کیوں بھرتے ہو۔ خوف کے مارے کیوں تم مرتے ہو۔ اٹھو کوشش کرو تمھیں کس بات کا ڈر ہے پھر دیکھو کہ خدا تمھاری کس طرح مدد کرتا ہے۔

جو عمریں مفت گنواۓ گا
وہ آخر کو پچھتائے گا
کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا
جو ڈھونڈے گا وہ پاۓ گا
تو کب تک دیر لگاۓ گا
یہ وقت بھی آخر جاۓ گا
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے!
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے!

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ جو اپنی زندگی ہو مفت میں ضائع کردے گا اس کو آخر میں پھچتانا پڑے گا۔ ایسے بیٹھے بیٹھے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا بلکہ تم جو چیز ڈھونڈو گے وہی پاؤ گے۔ یہ وقت بھی آخر گزر جائے گا تم کب ٹک دیر لگاؤ گے اٹھو کمر کسو کسی بات کا خوف ہے پھر دیکھو کہ خدا کیا کرتا ہے۔

Advertisement
جو موقع پاکر کھوۓ گا
وہ اشکوں سے منھ دھوۓ گا
جو سوۓ گا،وہ روئے گا
اور کاٹے گا جو بوئے گا
توغافل کب تک سوۓ گا
جو ہونا ہوگا ، ہوۓ گا
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ وہ انسان جسے کچھ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا مگر موقع ملنے کے بعد بھی وہ اس کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھائے گا بلکہ اس موقع کو ضائع کردے گا تو ایسے شخص کو کل کو رونا پڑے گا اور وہ اپنا منھ آنسوؤں سے دھوئے گا۔وہ شخص بھی جو محنت کرنے کی بجائے سو کر اپنا وقت ضائع کرے گا وہ کل کو دوئے گا۔ کیونکہ آپ جو گے وہی کل کاٹو گے۔ اگر تم محنت کرو گے تو بدلے مین تمھیں بھی اس کا پھل ملے گا اور اگرتم وقت ضائع کرو گے تو تمھیں نقصان کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔اس لیے تم بھلا کب تک غفلت کی نیند میں ڈوبے رہو گے کیونکہ جو ہونا سو وہ تو ہو کے رہے گا۔ اس لیے اٹھو محنت کرو۔ کمر کسو اور ہمت کرو پھر دیکھو کہ خدا تمھارے لیے کیسے راستے ہموار نہیں کرتا ہے۔

یہ دنیا آخر فانی ہے
اور جان بھی اک دن جانی ہے
پھر تجھ کو کیوں حیرانی ہے
کر ڈال جو دل میں ٹھانی ہے
جب ہمت کی جولانی ہے
تو پتھر بھی پھر پانی ہے
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے تو یہ دنیا فانی ہے سب کچھ ایک روز فنا ہو جائے گا اور یہ زندگی جان بھی فانی ہے جو ایک روز ختم ہو جانی ہے۔پھر تم کیوں حیراں ہو جو ٹھان لی ہے وہ کر گزرو۔جب ہمت کا جوش و جذبہ موجود ہے تو پھر پتھر بھی تمھارے سامنے پانی ہو جائے گا۔ اٹھو کوشش کرو اور پھر دیکھو کہ خدا کس طرح تمھاری مدد کرتا ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

قوم کی خدمت کس جذبے سے کرنی چاہیے؟

قوم کی خدمت انسانیت اور وطنیت کے جذبے سے کرنا ضروری ہے۔ اس میں محبت کا عنصر ہونا ضروری ہے ناکہ یہ کسی پہ احسان ہو۔

وقت بربادکر نے کا کیا انجام ہوتا ہے؟

وقت بربادکرنے سے انسان کا سراسر اپنا نقصان ہوتا ہے۔اور گیا وقت پھر کبھی ہاتھ نہیں آتا۔ جس کے بعد انسان کو ناکامی اور پچھتاوے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نظم کے تیسرے بند میں شاعر نے کیا کہا ہے؟

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ وہ انسان جسے کچھ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا مگر موقع ملنے کے بعد بھی وہ اس کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھائے گا بلکہ اس موقع کو ضائع کردے گا تو ایسے شخص کو کل کو رونا پڑے گا اور وہ اپنا منھ آنسوؤں سے دھوئے گا۔وہ شخص بھی جو محنت کرنے کی بجائے سو کر اپنا وقت ضائع کرے گا وہ کل کو دوئے گا۔ کیونکہ آپ جو گے وہی کل کاٹو گے۔ اگر تم محنت کرو گے تو بدلے مین تمھیں بھی اس کا پھل ملے گا اور اگرتم وقت ضائع کرو گے تو تمھیں نقصان کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔اس لیے تم بھلا کب تک غفلت کی نیند میں ڈوبے رہو گے کیونکہ جو ہونا سو وہ تو ہو کے رہے گا۔ اس لیے اٹھو محنت کرو۔ کمر کسو اور ہمت کرو پھر دیکھو کہ خدا تمھارے لیے کیسے راستے ہموار نہیں کرتا ہے۔

وقت پر کام نہ کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے؟

وقت پر کام نہ کرنے سے انسان کو نہ صرف ناکامی کا منھ دیکھنا پڑتا ہے بلکہ اس وقت کا ضیاع اس کے لیے ایک پچھتاوا بن کر رہ جاتا ہے۔

ہمت کی جولائی سے شاعر کا کیا مطلب ہے؟

ہمت کی جولانی سے شاعر کی مراد ہمت،کوشش اور کسی کام کو کرنے کے لیے جوش و خروش ہے۔

پتھر کے پانی ہونے سے کیا مراد ہے؟

پتھر کے پانی ہونے سے مراد ہے کہ مسلسل کوشش، اور مسلسل کوشش سے ناممکن کام کا بھی ممکن ہو جانا ہے۔

لکھیے:اشکوں سے منھ دھونا محاورہ ہے اس کے معنی رونا اور آنسو بہانا ہیں ۔ نیچے کچھ محاورے اور ان کے معنی دیے گئے ہیں ان محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

احسان دھرناکسی کی مدد کرکے اسے جتانا۔
دم بھرناکسی کی ہر وقت تعریف کرتے رہنا۔
کمر باندھناتیار ہونا۔
ہاتھ نہ آناحاصل نہ ہونا ، نہ ملنا۔
پتھر پانی ہونابہت مشکل کام آسان ہو جانا۔

جملے:

احسان دھرناہمیں احسان دھرنے کے انداز میں کسی مدد نہیں کرنی چاہیے۔
دم بھرناعلی ہر وقت اپنے اساتذہ کا دم بھرتا دکھائی دیتا ہے۔
کمر باندھناآ خر میں نے مزید پڑھائی کےلئے کمر باندھ لی۔
ہاتھ نہ آنااگر انسان اپنا قیمتی وقت ضائع کرتا ہے تو اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
پتھر پانی ہونا کوشش اور ارادے سے انسان کے لیے پتھر پانی کرنا بھی نا ممکن نہیں ہے۔