Advertisement

کتابوں کے ابتدائی صفحات میں مصنف کی شخصیت یا فن کے تعارف کے طور پر جو تحریریں شامل کی جاتی ہیں اسے "دیباچہ” کہتے ہیں۔

Advertisement

عموماً دیباچہ کسی مشہور قلمکار یا دانشور سے لگایا جاتا ہے لیکن کبھی خود مصنف اپنے یا اپنی کتاب کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتا ہے اس تحریر کو دیپاچہ، تقریظ یا پیش لفظ کا عنوان دیا جاتا ہے۔ تصنیف و تالیف کے ابتدائی دور میں تقریظ نگاری کا طریقہ عام تھا جس میں کتاب لکھنے والے کی مدح سرائی کی جاتی تھی۔اس کے بعد پیش لفظ اور دیباچہ نویسی کا چلن عام ہوا جس کے ذریعے نہ صرف کتاب اور مصنف کو متعارف کیا جاتا ہے بلکہ کتاب کے نمایاں خدوخال کی بھی نشاندہی کی جاتی ہے۔

Advertisement

اب پیش لفظ یا دیباچے کو نئے نئے عنوانات کے تحت لکھا جا رہا ہے۔ اختصار کے ساتھ حقیقت پسندانہ خیالات پیش کرنے کے علاوہ نکتہ آفرینی اور مصنف کی بعض قابل ذکر و دلچسپ خصوصیات کے تذکرے کی وجہ سے دیباچہ نویسی کوکافی فروغ حاصل ہوا ہے۔

Advertisement

گویا کہ دیباچہ نویسی ایک ایسا فن ہے جس میں تنقید و تحقیق کی بجائے کتاب کے متن سے قبل ایک تاثراتی مضمون شامل کیا جاتا ہے۔ تنقیدی یا تحقیقی نوعیت کے دیباچے بھی لکھے جاتے ہیں۔ روایت ہے کہ دیباچے میں تنقیدی و تحقیقی انداز اختیار کیا جائے تو اکثر اسے مقدمہ کا نام دیا جاتا ہے۔ جو دیباچے خالص تنقیدی نوعیت کے ہیں ان کا ذکر تنقید کی صنف ہوتا ہے جیسے الطاف حسین حالی کی مشہور زمانہ مسدس حالی کا دیباچہ۔ جس کے بعد مقدمہ زیر عنوان تنقیدی دیباچے لکھے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز دراز ہے۔ تاہم تاثراتی اور تعارفی دیباچے میں مقدمہ کے عنوان سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔

اردو میں دیباچہ تحریر کرنے کی روایت کا آغاز مرزا محمد رفیع سودا نے کیا۔ان کے کلیات کا دیباچہ اردو میں لکھا گیا تھا۔ جنوبی ہند کے بعض محققین کے بموجب مرزا محمد رفیع سودا سے قبل مدراس کے ایک اہم ادیب محمد باقر آغا دیلوری نے سب سے پہلے اردو میں دیباچہ نویسی کی بنیاد رکھی۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement