Advertisement
  • نظم : پرانا کوٹ
  • شاعر : سید محمد جعفری

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”پرانا کوٹ“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام سید محمد جعفری ہے۔

تعارفِ شاعر

سید محمد جعفری ایک صاحب اسلوب شاعر تھے۔ انہوں نے سیاسی اور سماجی موضوعات پر 900 کے لگ بھگ نظمیں تحریر کیں۔ ان کے یہاں کلاسیکی شاعری کی تمام لوازمات نظر آتی ہیں۔

Advertisement
بنا ہے کوٹ یہ نیلام کی دکان کے لیے
“صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یہ کوٹ خاص طور پر نیلام کی دکان پر بیچنے کے لیے بنایا گیا تھا اور یہ کوٹ نکتہ دان یعنی تنقید کرنے والوں کے لیے بھی موجود تھا کہ وہ آئیں اس کوٹ کو دیکھے اور اس پر تنقید کریں۔

Advertisement
خریدا جاڑوں میں نیلام سے پرانا کوٹ
جو پھٹ کے چل نہ سکے یہ نہیں ہے ایسا نوٹ

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب جاڑوں کا موسم شروع ہوا تو میں نے نیلام سے ایک پرانا کوٹ خریدا۔ یہ کوٹ بہت پرانا تھا، لیکن ایسا نہیں تھا کہ یہ کورٹ پھٹنے کے بعد چل نہ سکے بلکہ یہ ایک بہت عمدہ طریقے سے بنا ہوا کوٹ تھا۔

Advertisement
بنا ہے کوٹ یہ نیلام کی دکان کے لیے
“صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یہ کوٹ خاص طور پر نیلام کی دکان پر بیچنے کے لیے بنایا گیا تھا اور یہ کوٹ نکتہ دان یعنی تنقید کرنے والوں کے لیے بھی موجود تھا کہ وہ آئیں اس کوٹ کو دیکھے اور اس پر تنقید کریں۔

بڑا بزرگ ہے یہ آزمودہ کار ہے یہ
کسی مرے ہوئے گورے کی یادگار ہے یہ

اس شعر میں شاعر کوٹ کی تاریخ بیان کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کورٹ بہت پرانا ہے اور اس کوٹ کو پہلے آزمایا جا چکا ہے۔ یہ کوٹ دراصل ایک گورے کی ملکیت ہے جس کے مرنے کے بعد یہ کوٹ نیلام بازار میں بیچا جا رہا ہے۔

Advertisement
پرانی وضع کا بے حد عجیب جامع ہے
پہنچ چکا اسے خود واسکوڈی گاما ہے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یہ کوئی عام کوٹ نہیں ہے بلکہ اس کوٹ کا جامع بہت عجیب ہے اور اس کوڈ کو واسکوڈی گاما بھی پہنچ چکا ہے، یعنی یہ کوٹ پوری دنیا میں بہت سی جگہوں پر گھوم چکا ہے۔

نہ دیکھ کہنیوں پر اس کی خستہ سامانی
پہنچ چکے ہیں اسے ترک اور ایرانی

اس شعر میں شاعر اس کوٹ کی خستہ حالت بیان کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم اس کوٹ کی خستہ حالی کو مت دیکھو اور یہ بھی مت دیکھو کہ یہ کوٹ کہنیوں کے پاس سے گھس چکا ہے، بلکہ اس کوٹ کے گھسنے کی وجہ یہ ہے کہ اسے ترک اور ایرانی لوگ بھی پہنچ چکے ہیں۔ یعنی یہ کوٹ ترکی اور ایران سے بھی گھوم کر آیا ہے۔

Advertisement
جگہ جگہ یہ پھرا مثل مارکو پولو
یہ کوٹ کوٹوں کا لیڈر ہے اس کی جے بولو

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یہ کوٹ پوری دنیا کے بہت سے ممالک میں مارکو پولو کی طرح گھوم چکا ہے۔ اس لیے اس کوٹ کی جے جے کرو اور اس کی تعریف کرو کیونکہ یہ کوڈ باقی تمام کوٹوں کا لیڈر ہے۔

بڑا بزرگ ہے یہ گو قلیل قیمت ہے
میاں بزرگوں کا سایہ بڑا غنیمت ہے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس کوٹ کی قیمت حالانکہ بہت کم ہے لیکن یہ کوٹ بہت بزرگ ہے اور بزرگوں کا سایہ بہت بڑی غنیمت ہوتا ہے۔ یعنی یہ کوٹ بہت پرانا ہے، اس لیے ہمیں اسے خرید لینا چاہیے کیونکہ اس کوٹ کو بہت سے بزرگ پہن چکے ہیں۔

Advertisement
جو قدر دان ہیں وہ جانتے ہیں قیمت کو
کہ آفتاب چرا لے گیا ہے رنگت کو

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ قدر دان ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس پرانے کوٹ کی قیمت کتنی زیادہ ہے، کیونکہ اس کوٹ کو دیکھ کر نظر آ رہا ہے کہ اسے اتنا زیادہ پہنا جا چکا ہے کہ سورج کی روشنی پڑ پڑ کر اس کوٹ کا پورا رنگ بدل چکا ہے۔

یہ کوٹ کوٹوں کی دنیا کا باوا آدم ہے
اگرچہ ہے وہ نگہ جو نگاہ سے کم ہے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یہ کوٹ کوٹوں کی دنیا کا باوا آدم ہے یعنی کے سب سے پرانے کوٹ کا بھی باپ ہے، اور شاعر کہتے ہیں کہ یہ کوٹ ایک ایسا نگینہ ہے جسے ہر آنکھ نہیں پہچان سکتی ہے۔

Advertisement
وہاں زخم کی مانند ہنس رہے ہیں کاج
وصول کرتے ہیں چینی کی انکھڑیوں سے خراج

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ کوٹ کے کاج بھی اب یوں لگ رہا ہے جیسے زخمی ہو چکے ہیں اور اپنی حالت پر مسکرا رہے ہیں، لیکن پھر بھی وہ ٹوٹ نہیں رہے اور اپنی چینی انکھڑیوں سے خراج وصول کررہے ہیں۔

گزشتہ صدیوں کی تاریخ کا ورق ہے یہ کوٹ
خریدو اس کو کہ عبرت کا ایک سبق ہے یہ کوٹ

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ یہ کوٹ پچھلی صدی کی تاریخ کا ایک صفحہ ہے جو ہمیں ہچھلی صدی کی یاد دلاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس کوٹ کو خریدو تاکہ تمھیں احساس ہوسکے کہ کوئی شے کتنی بھی عمدہ کیوں نہ ہو ہمیشہ اپنی اصلی حالت میں نہیں رہتی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس شے کی حالت خستہ ہوجاتی ہے۔

Advertisement

سوال ۱ : مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات دیجیے :

(ا) شاعر نے کوٹ کو “مرے ہوئے گورے کی یادگار” کیوں کہا ہے؟

جواب : سید محمد جعفری نے کوٹ کو مرے ہوئے گورے کی یادگار اس لئے کہا ہے کیوں کہ اکثر و بیشتر پرانے ملبوسات یورپی ممالک سے پسمانده ممالک میں بھیجے جاتے ہیں اور ادھر وہ سستے داموں میں فروخت کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح پرانا کوٹ بھی کبھی کسی گورے کی جاگیر رہا ہوگا اور اس کے مرنے کے بعد کوٹ کسی اور کے پاس جا پہنچا۔

(ب) شاعر کوٹ کا تعلق مار کو پولو اور واسکوڈی گاما سے قائم کرکے کیا بتانا چاہتا ہے؟

جواب : شاعر کوٹ کا تعلق مارکو پولو اور واسکوڈی گاما سے قائم کر کے یہ بتانا چاہتا ہے کہ سیاحت کے یہ دو معروف نام ملکوں ملکوں گھومے ہیں، اسی طرح یہ کوٹ بھی ملکوں ملکوں گھومتا ہوا نیلام کی دکان تک آ پہنچا۔ جس طرح یہ دو شخصیت قابل ذکر ہیں اسی طرح یہ کوٹ بھی قابل ذکر ہے۔

Advertisement

(ج) “ٹیچر کی بادشاہی” کہہ کر شاعر معاشرے پر کیا طنز کرتا ہے؟

جواب : ٹیچر کی بادشاہی کہہ کر شاعر معاشرے پر یہ طنز کرتا ہے کہ جو طبقہ و پیشہ سب سے زیادہ قابلں اعتبار سمجھا جاتا ہے وہ اساتذہ ہیں اور انہی کو ہی یہ سہولیات میسر نہیں۔ وہ سردی سے بچنے کے لئے نیا کوٹ تک نہیں خرید سکتے۔

(د) کوٹ کو “تاریخ کا ورق” کہنے میں کیا اہم نکتہ پوشیدہ ہے؟

جواب : کوٹ کو تاریخ کا ورق کہنے میں جو اہم نکتہ پوشیدہ ہے وہ یہ کہ جس طرح تاریخ نے ماضی کی داستانوں کو اپنے اندر سمایا ہوا ہے اسی طرح اس کوٹ نے بھی مختلف ادوار کی سیر کی ہے اور ملکوں ملکوں گھوما ہے۔

Advertisement

سوال ۲ : طنز اور مزاح کے فرق کو واضح کیجیے اور یہ بتائیے کہ اس نظم کو مزاحیہ کہنا درست ہے یا طنزیہ اور مزاحیہ دونوں اپنے جواب کی توجیہہ بھی کیجیے۔

جواب : طنزیہ اور مزاحیہ دو الگ الگ پہلو ہیں۔طنزیہ سے مراد سماجی نا انصافیوں اور خرابیوں کو بیان کرنا ہے جبکہ مزاحیہ سے مراد معاشرتی ناانصافیوں کو متبسم لہجے میں پیش کرنا، لہذا یہ نظام بیک وقت طنزیہ بھی ہے اور مزاحیہ بھی۔

سوال ۳ : ذیل کے اشعار کی تشریح کیجیے :

بڑا بزرگ ہے یہ گو قلیل قیمت ہے
میاں بزرگوں کا سایہ بڑا غنیمت ہے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس کوٹ کی قیمت حالانکہ بہت کم ہے لیکن یہ کوٹ بہت بزرگ ہے اور بزرگوں کا سایہ بہت بڑی غنیمت ہوتا ہے۔ یعنی یہ کوٹ بہت پرانا ہے، اس لیے ہمیں اسے خرید لینا چاہیے کیونکہ اس کوٹ کو بہت سے بزرگ پہن چکے ہیں۔

Advertisement
جو قدر دان ہیں وہ جانتے ہیں قیمت کو
کہ آفتاب چرا لے گیا ہے رنگت کو

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ قدر دان ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس پرانے کوٹ کی قیمت کتنی زیادہ ہے، کیونکہ اس کوٹ کو دیکھ کر نظر آ رہا ہے کہ اسے اتنا زیادہ پہنا جا چکا ہے کہ سورج کی روشنی پڑ پڑ کر اس کوٹ کا پورا رنگ بدل چکا ہے۔

وہاں زخم کی مانند ہنس رہے ہیں کاج
وصول کرتے ہیں چینی کی انکھڑیوں سے خراج

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ کوٹ کے کاج بھی اب یوں لگ رہا ہے جیسے زخمی ہو چکے ہیں اور اپنی حالت پر مسکرا رہے ہیں، لیکن پھر بھی وہ ٹوٹ نہیں رہے اور اپنی چینی انکھڑیوں سے خراج وصول کررہے ہیں۔

Advertisement

سوال ۴ : مندرجہ ذیل الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :

آزمودہ کار :یہ کوٹ آزمودہ کار ہے۔
خستہ سامانی : ہر چیز متعین مدت کے بعد خستہ سامانی میں شامل ہوجاتی ہے۔
ضرب کاری :احمد نے اسے کاری ضرب دے ماری۔
وضع :اس کوٹ کا وضع عجیب تھا۔
عبرت :پرانی اشیاء عبرت کا سامان ہوتی ہیں۔

سوال ۷ : نظم کو غور سے پڑھیے اور سید محمد جعفری صاحب کی شاعری کی نمایاں خوبیاں تحریر کیجیے۔

جواب : اس نظم کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر طنز و مزاح نظمیں لکھنے میں ماہر ہیں۔

سوال ۸ : کوئی طنزیہ یا مزاحیہ نظم تلاش کرکے لکھیے۔

کیا اب بھی وہاں کا ہر شاعر
تنقید کا مارا ہے کہ نہیں
افلاس کی آنکھ کا تارا ہے
وہ راج دلارا ہے کہ نہیں
وہ اک گھسیارا ہے کہ نہیں
او دیس سے آنے والے بتا
کیا اب بھی وہاں پر گنجا سر
اسکالر سمجھا جاتا ہے
کیا اب بھی وہاں کا ہر ایم اے
غالبؔ پر کچھ فرماتا ہے
اور جیل کی ظلمت میں کھو کر
اقبالؔ سے بھی ٹکراتا ہے
او دیس سے جانے والے بتا
کیا اب بھی وہاں کے سب شوہر
راتوں کو چھپ کر روتے ہیں
کیا اب بھی وہ قسمت کے مارے
دفتر میں اکثر سوتے ہیں
طعنوں کا نشانہ بنتے ہیں
جب گھر میں کبھی وہ ہوتے ہیں
آخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا
ریحانہ کے کتنے بچے ہیں
ریحانہ کے ‘وہ’ کس حال میں ہیں
کیا اب بھی وہ پنشن پاتے ہیں
کچھ بال تو تھے جب میں تھا وہاں
کیا اب وہ مکمل گنجے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا

Advertisement
Advertisement