مرزا محمد رفیع سودا کا قصیدہ شہر آشوب 96 اشعار پر مشتمل ہے چناچہ یہ قصیدہ اپنے دور کے معاشرے کی تمدنی اورمعاشی حالات کا آئینہ دار ہے۔ دہلی احمد شاہ ابدالی اور مراٹھوں کے حملے سے تباہ ہوئی۔ "شہر آشوب” میں سودا نے اسی دور کے لوگوں کی خستہ حالت کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ چناچہ دہلی اجھڑنے کا یہ واقعہ احمد شاہ ابدالی کے حملے کے وقت کا واقعہ ہے اور سودا کا زمانہ بھی یہی تھا۔

اس قصیدہ میں دلی شہر کی بربادی و تباہی کا ذکر نہایت درد مندی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ ہجویہ قصیدہ ہے اس لئے شاعر نے مختلف پیشوں سے وابستہ لوگوں کی خستہ حالی کا نقشہ کھینچا ہے اور اس دور کی دلی کی صورتحال کی ترجمانی کی ہے۔ شہر آشوب میں سودا نے اس زمانے کی دلی کی تمدنی اور اقتصادی بدحالی کو بہت خوبصورت ڈھنگ سے اشعار کے سانچے میں ڈھالا ہے اور ایک ظریفانہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ لوگ ذریعہ معاش کی تلاش میں پریشانیوں اور الجھنوں کا شکار ہیں۔ سکون اور چینج زندگی کا اصل مقصد ہے، وہ کھو چکا ہے۔ شریف لوگ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ دلی میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کی زندگی آرام سے گزرتی ہو۔

کہتے ہیں کہ جو کسی کا گھوڑا لے کر اس کی نوکری کرتا ہے اور اپنی روزی کماتا ہے تو وہ تنخواہ کے لیے اپنے آقا کا محتاج ہو جاتا ہے۔ وہ اسے اپنی تنخواہ مانگتا ہے لیکن اسے اس کی تنخواہ بھی وقت نہیں ملتی ہے کیونکہ تنخواہ دینے والا خود تنگدست ہے۔گویا نوکری کرنے پر بھی اجرت کے لیے ترسنا پڑتا ہے۔ ضروریات پوری کرنے اور روزی تلاش کرنے میں ہی زندگی گزر جاتی ہے۔ اگر تجارت کریں تو اس میں بھی بے تحاشا محنت کرنی پڑتی ہے اور اشیا بھی نہیں بکتیں۔ جو چیزیں ایران کے شہر اصفہان سے خرید کر لائی جاتی ہیں وہ بیچنے کے لئے دکن تک پہنچانی پڑتی ہیں اور پھر بھی ان کے دام ملنے میں دشواری ہوتی ہے۔ گویا تجارت کا کام بھی اب مشکل اور بے فائدہ ہو گیا ہے۔ شاعروں کے بارے میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں اور ان کو کوئی مالی پریشانی نہیں ہے لیکن اب یہ کہنے کی باتیں رہ گئی ہیں۔ اگر کوئی قریب سے ان کو دیکھے تو شاعر کو سب سے زیادہ فکر معاش لاحق ہوتا ہے۔

اس زمانے میں مولوی کی صرف اتنی قدر ہے کہ اگر اس کو بآواز بلند مثنوی پڑھنا آتا ہے تو وہ دو روپے تک کمالیتا ہے ورنہ اس کی کوئی قدر نہیں ہے۔ اسی طرح استاد بیچارہ بھی بہت بد حال ہے اس کی وقعت صرف اتنی ہے کہ وہ مسور کی دال کا ایک پیالہ اور جو کی دو روٹیاں ہی میسر کر پاتا ہے۔ گویا علم کی روشنی پھیلانے والا استاد اس دور میں دو روٹیوں کا محتاج ہو گیا ہے۔

شہر میں جو شیخ ہے وہ شاعروں کے طعنوں سے ہرگز نہیں بچ سکتا۔ شعر ہمیشہ سے شیخ پر طعنے کستے آئے ہیں دلی میں تو شیخ کو جب معلوم ہوتا ہے کہ کہیں عرس منایا جانے والا ہے تو وہ سج دھج کر اپنے مریدوں کے ساتھ اس محفل میں پہنچ جاتا ہے۔ محفل میں جب ڈھولک بجنے لگی تو سبھی لوگ وجد میں آگے۔ کوئی رونے لگا کوئی چھلانگیں مارنے لگا اور کوئی نعرے دینے لگا۔ شیخ صاحب جب وجد میں آگئے اور شدت وجد سے تھوڑا سا بیتال ہو کر جھومنے لگے تو اس پر آس پاس بیٹھے ہوئے لوگ ان پر اعتراض کرنے لگے۔

چناچہ اس دنیا میں آرام چین اور خوشحالی تو فقط نام کی چیزیں ہیں۔ حقیقت میں تو دنیا میں رہ کر یہ چیزیں حاصل نہیں کی جاسکتیں۔البتہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دوسری دنیا میں یہ چیزیں یعنی آرام اطمینان سکون اور خوشحالی میسر ہو سکتی ہے لیکن اس بات پر بھی یقین نہیں ہے کہ دوسری دنیا میں آرام و سکون اور خوشحالی جیسی چیزیں حاصل ہونگی۔ یہ بھی شاید کہنے والے کا محض ایک خیال ہے وہاں بھی شاید ان چیزوں کا کال ہی ہو۔ اس دنیا میں روزی روٹی کی فکر لاحق ہے اور آخرت میں اپنے اعمال کا حساب کتاب دینے کی پریشانی اور فکر ہوگی۔ رہی آسودگی اور آرام ض، وہ نہ تو یہاں ہے اور نہ وہاں ہے۔

اس قصیدے میں شاعر نے شہر دلی کی تباہی و بربادی کا ذکر کیا ہے جو احمد شاہ ابدالی کے حملوں کے نتیجے میں یہ شہر اجڑ گیا تھا جس کی وجہ سے مختلف پیشوں سے وابستہ لوگوں کی حالت خراب ہو گئی تھی جس کا ذکر شاعر نے اس قصیدے میں کیا ہے۔ اسی لیے اس کا نام "شہر آشوب” رکھا گیا ہے۔

شہر آشوب ایسی صنف سخن کو کہا جاتا ہے جس میں کسی شہر، ملک یا کسی جگہ کی بربادیوں اور تباہ کاریوں کا ذکر نہایت درد مندی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

Advertisements