قومی یکجہتی پر مضمون

دنیا میں کوئی بھی مذہب ایسا نہیں جو ہمیں یہ سکھائے کہ انسان کو انسان سے نفرت کرنی چاہیے۔ہر ایک مذہب اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے خدا کے بندوں سے پیار کرنے کی تلقین کرتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ مل جل کر رہو۔

ہر مذہب ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اچھے انسان اس مٹی سے پیار کرتے ہیں جس میں انہوں نے جنم لیا ہوتا ہے۔ جن کھیتوں، گلیوں، محلوں میں وہ کھیل کود کر پروان چڑھتے ہوتے ہیں اس علاقہ سے اس دیش سے پیار کرتے ہیں۔جب کسی دیش کے لوگ آپس میں پیار محبت سے رہتے ہیں تو دوسرے دیشوں کے لوگ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے اور جس دیش کے لوگ قوم، مذہب، ذات، برادری، نسل، علاقہ اور زبان کے نام پر آپس میں لڑتے ہیں اتفاق کی بجائے نفاق کے راستے پر چلتے ہیں۔ دوسرے دیشوں کے لوگ ان سے بالکل نہیں ڈرتے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ غیر آکر انہیں غلام بنا لیتے ہیں۔

ہندوستان کے لوگ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ وہ برادری، نسل، مذہب، رنگ اور زبان کی بنا پر ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے تو اس کا فائدہ انگریزوں نے اٹھایا اور اپنی چالاکی کے ساتھ یہاں کے رہنے والوں میں نفرت کی دیواریں کھڑی کر کے آہستہ آہستہ ہمارے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔وہ لڑاؤ اور راج کرو کی پالیسی پر چلتے ہوئے ہمیں لوٹتے رہے اور ہمارا خون چوستے رہے۔ اگر سب ہندوستانی اپنے آپ کو ایک دوسرے کے سگے سمجھتے تو ہندوستان نے غلام نہیں ہونا تھا اور اس وقت ہندوستان دنیا کی عظیم ترین طاقت ہوتا۔ مگر افسوس ہے کہ اتنے سالوں کی غلامی کے بعد بھی ہمیں عقل نہیں آئی۔

آج ہندوستان کا کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھیں تو ایک آدھ خبر دو گروپوں کے تصادم کی ضرور نظر آئے گی۔ کہیں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فساد ہوا ہوتا ہے تو کسی خبر میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے فساد کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ کسی روز اخبار میں یہ خبر آجاتی ہے کہ فلاں گاؤں کے لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کر دیا ہے۔ کسی جگہ جاٹ غیر جاٹ کی لڑائی کا ذکر ہوتا ہے۔ حصہ کوتاہ ہندو مسلم، مسلم مسلم، ہندو ہریجن اور ہندو ہندو فسادات کی خبریں ہر روز اخباروں کی زینت بنتی رہتی ہیں۔جس سے ظاہر ہے کہ اتنے سالوں کی غلامی کے بعد بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔

دنیا ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل گئی ہے مگر ہم ابھی تک جنگل کی تہذیب میں ہی گھوم رہے ہیں۔تہذیب یافتہ قومیں آپس میں نہیں لڑا کرتی۔ ان میں لاکھ اختلاف بھی کیوں نہ ہوں وہ آپسی بات چیت سے آپسی مسئلے حل کرتی ہیں۔ مگر ہندوستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں کوئی بھی واقعہ یا حادثہ ہوجائے اسے بنیاد بنا کر فرقہ وارانہ فساد شروع ہو جاتے ہیں اور جگ میں ہماری جگ سنائی ہوتی ہے۔

یہ فساد کون کرتا ہے؟ ظاہر ہے کہ شریف لوگ ایسا کام نہیں کرتے انہیں تو اپنی روزی کا فکر ہوتا ہے۔ ایسے فسادات میں نقصان بھی شریف آدمیوں اور مزدوروں کا ہی ہوتا ہے۔ سرمایہ دار اپنا سرمایہ بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں۔تو پھر آپسی ٹکراؤ کون کراتے ہیں۔ یہ فساد کرانے والے لوگ سیاستدان ہوتے ہیں۔یہ اپنے مفاد کی خاطر اپنی لیڈرشپ کی خاطر انسانی خون بہانے سے گریز نہیں کرتے۔ ان کی مدد وہ فرقہ پرست اخبارات کرتے ہیں جو اپنی بکری بڑھانے کے لئے ایسے واقعات کو خوب نمک مرچ لگا کر اچھالتے ہیں اور اپنے کالم میں ایک دوسرے فرقہ کے خلاف لکھ کر اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

بہت کم اخباریں ایسی ہیں جنہیں قوم پرست کہا جاسکتا ہے اور جو ایسے فسادات کی مخالفت کرتی ہیں۔ اسی طرح بہت کم سیاستدان ایسے ہیں جو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہیں کہ سارے ہندوستانی بھائی بھائی بن کر رہیں۔

سب ہندوستانیوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر ہم میں اتفاق رہا تو ہمارا دیش ترقی کرجائے گا۔بلیک کرنے والے بلیک نہیں کرسکیں گے، ذخیرہ اندوزی نہیں ہوگی، دھوکہ بازی اور رشوت کا بازار سرد پڑ جائے گا۔ اتفاق کی برکت سے ہمارے بہت سے مسائل بھی حل ہو جائیں گے، دیش ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا اور اگر نفاق ہوا تو نہ صرف ہماری ترقی ہی رک جائے گی بلکہ ہندوستان کافی کمزور بھی ہوجائے گا۔

جب جب بھی ہندوستان میں نفاق ہوا ہے تب تب ہی ہم پر مصیبتیں نازل ہوئی ہیں۔ اگر ہم تواریخ سے سبق حاصل کریں اور آپس میں مل جل کر رہنا سیکھیں تو نہ صرف ہمارے مسائل ہی جلد آسان ہو سکتے ہیں بلکہ ہم خوشیوں بھری زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔ تاریخ اور ادب کی کتابوں میں اتفاق کے بارے میں ڈھیر ساری کہانیاں ملتی ہیں۔ ہم انھیں ہر روز پڑھتے ہیں لیکن ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے۔ وہ کہانی تو آپ نے اکثر سنی ہوگی کہ ایک بار بہت سے کبوتر خوراک کی تلاش میں ایک جنگل میں گئے۔جہاں ایک شکاری نے جال لگا رکھا تھا اور نیچے دانے بکھیرے ہوئے تھے اناج کے لالچ میں سارے کبوتر جال میں پھنس گئے۔ ان کا سردار کافی عقل مند تھا اس نے انھیں کہا بھائیو! اب ہم پھنس گئے ہیں۔ اس وقت ہمارا اتفاق ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔ اگر ہم نے خود غرضی کرکے اپنی اپنی جان بچانے کی کوشش کی تو ہمارا برا حال ہو گا اور اگر ہم نے ایک دوسرے کو بچانے کے لئے مل کر زور لگایا تو ہم سب آزاد ہو جائیں گے۔ اس وقت سارے جال اڑا کر کہیں لے چلو۔ اپنے سردار کی بات مان کر سب کبوتروں نے زور لگایا اور جال لے اڑے اور دور ایک پہاڑی پر پہنچ کر انہوں نے مل کر ایک ایک رسی کاٹی اور آزاد ہوئے۔

اسی طرح کی ایک دوسری حکایت بھی ہے۔ کسی جنگل میں چار بیل رہتے تھے ان میں کافی دوستی تھی۔ اس جنگل میں شیر آگیا وہ ان بیلوں کا لذیذ گوشت کھانا چاہتا تھا۔ جب بیلوں کو پتہ چلا کہ جنگل میں شیر آگیا ہے تو انہوں نے اپنی میٹنگ کی اور شیر کی آمد کو اپنے لیے خطرہ قرار دے کر اس کا حل سوچا۔ آخر میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ چاروں اکھٹے رہیں گے اور جب شیر ان پر حملہ کرنے کے لئے آئے گا تو وہ ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر اپنے اپنے منہ چاروں طرف کر لیں گے تاکہ شیر پیچھے سے حملہ نہ کر سکے۔کیونکہ ہر ایک کی پیر ایک دوسری کے ساتھ ملی ہوگی۔ جب آگے سے شیر آئے گا تو وہ ان کے نوکیلے سینگوں کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔

چند دن بعد جب شیر ان پر حملہ کرنے کے لئے آیا تو ایک بیل کے نوکیلے سینگ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار تھے۔ جب وہ مڑ کر دوسری طرف سے آیا تو دوسرا بیل پھنکارتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔ تب شیر بھاگ گیا اب وہ سوچ رہا تھا کہ ان کا شکار کیسے کرے۔ اس کے لئے یہ بیل ایک مصیبت تھے۔ چاروں میں اتفاق تھا اور وہ چاروں طرف سے ہونے والے حملہ کو بچھاڑ سکتے تھے۔

یہ کہانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اگر ہم اتفاق سے رہیں تو فائدہ میں رہیں گے اور نفاق کی بدولت ہم تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔نفاق کی بدولت ہم اپنے دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ یہ کہانی یہ سبق بھی دیتی ہے کہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمارا اتفاق دیکھ کر جلتے ہیں اور اپنی خود غرضی کی خاطر ہم میں نفاق پیدا کرتے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں سے بچنا چاہئے۔ اور ہمارے سماج میں بھی جو ایسے لوگ ہیں ان سے خوب ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ یہ خود غرض لوگ اپنے فائدے کے لیے دیش کی یکجہتی کو ختم کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ دیش بھی ایسے ہیں جو نہیں چاہتے کہ ہم ہندوستانی آپس میں پیار محبت سے رہیں۔ ہمیں ان دیشوں سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔ بھارت کے ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کو آپس میں اتفاق رکھنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمارا حشر بھی حکایت کے چار بیلوں جیسا ہوسکتا ہے۔

Close