قاضی عبدالودود کی تحقیق نگاری

قاضی عبدالودود کا شمار اردو ادب کے عظیم محققین میں ہوتا ہے۔آپ کی پیدائش 1896ء میں ہندوستان کے ایک شہر کاکو بہار میں ہوئی۔قاضی عبدالودود کے والد کا نام نام قاضی عبدالوحید تھا جو مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے خاص ارادت مندوں میں سے تھے۔قاضی عبدالودود ایک عظیم محقق اور نقاد کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کو صحیح معنوں میں تحقیق کا معلم ثانی کہا جاتا ہے۔قاضی عبدالودود کا انتقال 1984ء میں ہوا۔

یوں تو اردو میں تحقیق کی روایت کچھ زیادہ قدیم نہیں ہے لیکن اس مختصر مدّت میں اس نے اردو ادبیات میں اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کو استحکام بخشنے اور ایک فن کی حیثیت عطا کرنے میں جن دانشوروں اور محققین نے نمایاں خدمات انجام دیں ان میں علامہ شبلی نعمانی،پروفیسر محمود شیرانی، پروفیسر محمد شفیع، پروفیسر عبدالستار صدیقی، قاضی عبدالودود، مولانا امتیاز علی خاں عرشی اور پروفیسر نذیر احمد کے اسمائے گرامی خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔

ان حضرات کی خدمات سے ہندوستان میں اردو فارسی تحقیق کو وقار ملا اور نئی بلندیاں نصیب ہوئیں۔ ان میں سے ہر ایک محقق نے اپنے مخصوص میدان میں پائمردی کی اور جولانی طبع کے کرشمے دکھائے۔ان میں کئی حیثیت سے قاضی عبدالودود کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ آپ کا میدان تحقیقی زیادہ وسیع اور متنوع ہے۔ آپ نے اردو اور فارسی دونوں ادبیات میں اپنے اشہب تحقیق کو دوڑایا اور بہت سے معرکے سر کیے۔

قاضی عبدالودود نے اپنے تحقیقی سفر کا آغاز مصحفی کے مطالعے سے کیا۔ اس دوران آپ کو محسوس ہوا کہ جب تک انشاء کا مطالعہ نہ کیا جائے اس وقت تک مصحفی کے بارے میں معلومات مکمل اور ہمہ گیر نہیں ہوسکتیں۔ لہذا آپ نے انشاء کا بھی ہمہ جہت مطالعہ شروع کیا اور پھر اس کی مدد سے علمی دنیا کے سامنے مصحفی کی صحیح تصویر پیش کی۔ان کے وسیلہ سے آپ نے مصحفی سے متعلق بہت سے غلط مضروفات کا پردہ چاک کیا۔

مصحفی سے متعلق آپ نے پہلا مضمون مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنس کے لیے قلمبند کیا تھا جو موجودہ صدی کی تیسری دہائی میں پٹنہ میں منعقد ہوئی تھی۔ بعد میں متعدد لوگوں نے اپنے اپنے رسالوں میں اسے شائع کرنا چاہا لیکن قاضی صاحب نے ترمیم و اضافہ کے لئے اس سے روک لیا۔لیکن بدقسمتی سے یہ کام کبھی پورا نہیں ہوا اور اور بعد میں یہ مقالہ خود قاضی صاحب کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اس طرح علمی دنیا ایک اچھے اور معیاری مقالے سے محروم ہوگئی۔

مصحفی کے علاوہ قاضی صاحب نے جن ادبی شخصیات کو اپنے مطالع اور تنقید و تحقیق کا موضوع بنایا ان میں مرزا غالب، محمد حسین آزاد، شاد عظیم آبادی اور بابائے اردو مولوی عبدالحق وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں آزادؔ، شادؔ اور عبدالحق پر آپ نے سخت تنقید کی اور ان کی بہت سی باتوں کو بادلائل غلط ثابت کیا۔

ان میں شادؔ سے آپ کچھ زیادہ ہی ناراض نظر آتے ہیں۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ شادؔ نے اپنے متعلق تعلی سے بہت کام لیا ہے اور اپنی شخصیت کو ابھارنے اور معاصرین پر اپنی برتری ثابت کرنے کی غیر ضروری کوشش کی۔ قاضی صاحب کو تعلی، خودبینی، خوداری سے سخت نفرت تھی لہٰذا وہ ہر ایسے شخص کو ناپسند کرتے تھے جو سستی شہرت اور قبولِ عام حاصل کرنے کے لیے ایسی چیزوں کا سہارا لیتا ہے۔

ادبی شخصیتوں میں قاضی صاحب کو سب سے زیادہ دلچسپی مرزا غالبؔ سے تھی۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ غالبؔ کے مطالعے، ان کے معتقدین کی تحریروں میں حقیقت کی تلاش کرنے اور ان کے عہد کی ادبی، ثقافتی اور سیاسی فضا کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش میں صرف کی۔آپ نے مرزا کے کلام کا کثرت سے مطالعہ کیا۔ یہی حال نثری تحریروں کا بھی ہے۔

مرزا غالبؔ کے متعلق آپ نے بہت لکھا۔ لاتعداد مضامین لکھے۔ ان میں سے بعض تو اپنی ضخامت کے لحاظ سے پوری پوری کتابوں کا حکم رکھتے ہیں۔ "جہان غالب” کے عنوان سے آپ نے غالب انسائیکلوپیڈیا ترتیب دینی شروع کی تھی، کافی کام ہو گیا تھا مگر مکمل نہ ہوسکا۔ البتہ اسکی چند قسطیں معاصر پٹنہ اور دو ماہی مطالعہ پٹنہ میں شائع ہوئیں۔

اردو کے کلاسیکی شعراء پر کام کرنے میں شعراء کے تذکروں کا مطالعہ ناگزر ہوتا ہے۔ قاضی صاحب نے ان تذکروں سے بھرپور استفادہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں آپ کو تذکروں سے خصوصی دلچسپی پیدا ہوئی۔ ان کے متعلق تعارفی مضامین لکھ کر آپ نے کئی نادر اور انتہائی اہم تذکروں سے دنیا کو متعارف کرایا۔ انہی تذکروں کے ذریعے آپ کو ایسے اشعار سے بھی دلچسپی پیدا ہوئی جو یا تو غلط شاعروں سے منسوب چلے آ رہے تھے یا جن کے خالق کا کسی کو علم ہی نہیں تھا۔قاضی صاحب نے ایسے بہت سے اشعار کی تلاش اور جستجو کی اور اپنی تحقیق سے ان کے اصل مالک کا پتہ لگایا۔اس طرح قاضی عبدالودود نے ایک عظیم محقق ہونے کا ثبوت دیا اور محمود شیرانی کی روایت کو آگے بڑھایا۔ان کے چند مشہور کارناموں میں دو تبصروں کے مجموعے جن کے نام "اشتروسوزن” "عیارستان” شامل ہیں۔ ان کے طویل مضامین میں "آوارہ گرد اشعار” "جہان غالب” اور "تعین زمانہ” شامل ہیں۔

قاضی عبدالودود کی ترتیب کردہ کتابوں میں "دیوان جوش، دیوان رضا، قطعات رضا، تزکرہ ابن طوفان، قاطع برہان، تذکرہ مسرت افزا، قطعات دلدار” وغیرہ شامل ہیں۔ قاضی صاحب کے دیگر کارناموں میں "غالب بحثیت محقق، یاداشت ہائے قاضی عبدالودود، غالب کا فرضی استاد، معاصر غالب، تبصرہ فرہنگ غالب” وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں۔

Close