قرۃالعین حیدر

قرۃالعین حیدر کا ابتدائی نام نیلوفر تھا ۔عرف عینی تھا اور فرضی نام لالہ رخ ۔قرۃالعین حیدر 20 جنوری 1927ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد کا نام سجاد حیدر یلدرم تھا۔ان کے والد  سجادحیدریلدرم کو اردو افسانے میں طرز نو  اور رومانیت کے رحجان کا بانی قرار دیا گیا۔ان کی والدہ کا نام نذر سجاد حیدر تھا جو ایک کامیاب ناول نگار تھیں۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں قرۃالعین کا قیام یورپ میں رہا۔وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  کے شعبہ اردو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے شعبہ اردو  سے وابستہ رہیں۔ انہوں نے ایم- اے انگریزی لکھنؤ یونیورسٹی کیا۔ ان کا خاندان 1947ء میں پاکستان ہجرت کر گیا تھا۔پاکستان میں انہوں نے چودہ برس تک قیام کیا۔

پاکستان میں قرۃ العین حیدر مختلف عہدوں پر فائز رہیں۔قرۃالعین حیدر جوہر لال نہرو کے کہنے پر 1961ء میں ہندوستان آئیں ۔ان کا انتقال 2007 عیسوی میں ہوا ۔

  آئیے اب ان کی افسانہ نگاری  کے بارے جانتے ہیں۔

قرۃالعین حیدر کی افسانہ نگاری

  قرۃالعین حیدر  بیسویں صدی کی بہت بڑی افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم سے اردو فکشن کی ناقابل فراموش خدمات  انجام دی ہیں۔ انہوں نے بہت کچھ لکھا اور ان کی تخلیقات ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔قرۃالعین حیدر  کے ابتدائی افسانوں میں رومانیت کی اساس ملتی ہے۔ ان کا ذہن رومانی ہے  اور یہ خصوصیت  ان کو اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔

ان کے ابتدائی افسانے جن میں رومانیت کی جھلک نظر آتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔"جب طوفان گذر چکا”،  ” آسمان بھی ہے  ستم ایجاد کیا، ” کیکٹس لینڈ”، "میں نے لاکھوں کے بول سحے” "یہ داغ داغ اجالا”، "ستاروں سے آگے”، "رقص شرر” "جہاں کارواں ٹھہرا تھا” "دجلا بادجلا”، "میں چوری ڈون ڈن گی”۔اس کے علاوہ اور بہت سے افسانے ہیں جن میں رومانیت کی جھلک نظر آتی ہے۔

قرۃالعین حیدر کے یہاں حقیقت  اور تخیل کی خوبصورت آمیزش ملتی ہے۔ قرۃالعین حیدر نے رومانس کو زندگی کے پس منظر  میں تلاش کیا ہے۔رومان ان کے یہاں  محض  جسمانی اتصال کا نام نہیں بلکہ انسان دوستی اور ذہنی تسکین کا ذریعہ بھی ہے۔ اعلیٰ طبقہ  قرۃالعین حیدر  کے افسانوں کا  خاص طور پر  مرکز رہا ہے اور وہ اسی طبقے سے  تعلق رکھتی تھی۔ان کی پرورش بھی جاگیردرانہ  ماحول  میں ہوئی تھی۔ یورپ میں اعلی تعلیم پائی۔ امیر طبقہ میں اٹھنا بیٹھنا رہا چناچہ اس طبقے کی زندگی کو بغور دیکھنے کا  موقع ملا۔

آزادی کے بعد انہوں نے زمینداروں کے طبقے  اور جگیر دارانہ نظام  کو ختم ہوتے  دیکھا اس صورتحال کی جھلکیاں ان کے افسانوں  اور ناولوں دونوں میں نظر آتی ہیں۔ قرۃالعین حیدر نے اس طبقے کی کمزوریوں بلکہ ان کی خباثتوں کو اکثر اپنے افسانوں میں بے نقاب کرتی ہیں۔اس سلسلے میں میں ان کے افسانے "میں نے لاکھوں کے بول سہے”  کی مثال دی جا سکتی ہے۔

موضوع کے اعتبار سے قرۃالعین حیدر کے افسانوں کا مطالعہ کیا جائے  تو احساس ہوتا ہے کہ ان کا دامن بہت وسیع ہے۔ عورت  اور عورت کے مسائل، عورت کی بدنصیبی بھی قرۃالعین حیدر کا خاص موضوع ہے۔ انہوں نے بار بار اپنے افسانوں  اور ناولوں میں  اس حقیقت کا  بہت تکلیف کے ساتھ ذکر کیا ہے  کہ عورت مرد کا  سہارا لینے کے لیے  مجبور  ہے اور مرد ہمیشہ  اس کی مجبوری کا  فائدہ اٹھانے  میں لگا رہتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارے سماج  میں زیادہ تر  عورتوں کی زندگیاں  ہمیشہ سے  ٹریجک رہی ہیں۔

قرۃالعین حیدر کے افسانوں میں عورت کا ذکر  تو بے حساب ملتا ہے  مگر ان کے ہاں جنس سے مکمل  لا تعلقی نظر آتی ہے۔ ہجرت  اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل  کو  بھی قرۃالعین حیدر نے  اپنے افسانوں کا  موضوع بنایا ہے۔ اس سلسلے میں  قرۃ العین حیدر کا افسانہ "جلاوطن”  بڑا پر اثر افسانہ ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی قرۃالعین حیدر کے افسانے  بہت پر کشش ہیں۔ زبان پر انہیں بڑی قدرت حاصل ہے اور افسانے کے موضوع کے لحاظ سے وہ زبان کا انتخاب کرتی ہیں۔

جیمس جوائس اور ورجینیا وولف  کا اثر  ان کے یہاں بہت واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ چناچہ ذہنی فضا کی پیشکش اور کرداروں کے نفسیاتی ردعمل  کی تصویر کشی میں ان کو بہت بڑی مہارت حاصل ہے۔ قرۃالعین حیدر اردو کی پہلی افسانہ اور ناول نگار ہیں جنہوں نے انگریزی فکشن کے جدید  ترین ہئیتی تجربوں سے استفادہ کیا  اور جیمس جوائس کو بھی پیچھے چھوڑ گئیں۔ ان کے کردار  شعور کی رو کے سہارے  ماضی کی بے کراں وستوں میں سفر  کرتے ہیں۔

قرۃالعین حیدر اجتماعی شعور کی بازیافت کرتی ہیں  اور ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی زندگی بھی ان کے چند صفات میں سمٹ آتی ہے۔ان کے افسانوی مجموعے  مندرجہ ذیل ہیں ہیں۔"ستاروں سے آگے " ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے  جو 1947ء  میں شائع ہوا۔"شیشے کے گھر” 1954ء میں شائع ہوا ۔ "پت جھڑ کی آواز 1966 "۔ مجموعہ” روشنی کی رفتار” جو 1982ء میں شائع ہوا۔ اس افسانوی مجموعے میں اٹھارہ 18 افسانے ہیں۔ یہ افسانوی مجموعہ ہمارے نیٹ کے سلیبس میں بھی ہے ۔اس مجموعے کا پہلا افسانہ "آوارہ گرد "ہے اور آخری افسانہ "کہرے کے پیچھے” ہے۔

"جگنوؤں کی دنیا” یہ افسانوی مجموعہ 1990ء میں شائع ہوا۔"قندیل چین” ان کا نیا افسانوی مجموعہ ہے جس کو "جمیل اختر” نے مرتب کیا ہے۔یہ افسانوی مجموعہ 2007ء میں شائع ہوا۔

آخر میں ہم کہے سکتے ہیں ہیں کہ قرۃ العین حیدر ہماری زبان کی بہت بڑی افسانہ نگار ہیں۔ منٹو اور بیدی کے بعد اگر کسی فنکار کا نام لیا جا سکتا ہے تو وہ قرۃالعین حیدر ہی ہیں۔

Quiz On Qurrat Ul Ain hyder

قرۃالعین حیدر 1

Written By

Jafar Ali Khan

Close