قربانی

قربانی کا شمار مالی عبادتوں میں ہوتا ہے۔ خاص جانور کو خاص دن یعنی (دسو یں ذی الحجہ کی صبح صادق سے بارھویں کے غروبِ آفتاب تک) اللہ کی راہ میں ثواب کی نیت سے ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔ قربانی، مالک نصاب مسلمان، مقیم اور آزاد پر واجب ہے۔ جس طرح قربانی مرد پر واجب ہے اسی طرح عورت پر بھی ہے، مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ مالک نصاب ہونے سے مراد اتنا مال ہونا ہے جتنا مال ہونے سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے یعنی حاجت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا کا مالک ہو یا ان کے برابر رقم رکھتا ہو تو ان سب پر قربانی کرنا واجب ہے۔

قربانی کا وقت

قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے بارہویں ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن اور دو راتیں، لیکن دسویں تاریخ میں قربانی کرنا سب سے افضل ہے، پھر گیارویں اور اس کے بعد بارھویں میں۔ شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز عید کے بعد ہو اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں اس لیے صبح صادق سے ہو سکتی ہے۔

Advertisement

قربانی کا طریقہ اور ذبح کی دعا

قربانی کے جانور کو ذبح سے پہلے چارہ پانی دے دیں۔ پہلے سے چھری تیز کرلیں لیکن جانور کے سامنے نہیں۔ ذبح کرنے سے پہلے جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ قبلہ کی طرف اس کا منہ ہو اور ذبح کرنے والا اپنا داہنا پاؤں اس کے پہلو پر رکھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کردے اور ذبح سے پہلے یہ دعا پڑھے: 

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ”.لَا شَرِيكَ لَهُۥۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرۡتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ. اللّٰهُم َّمِنْكَ وَ لَكَ” ’’بسم اللہ اللہ اکبر۔

دعا ختم کرتے ہی چھری چلا دے۔ قربانی اپنی طرف سے ہو تو ذبح کے بعد یہ دعا پڑھے:

اللہم تقبل منی کما تقبلت من خلیلک ابراہیم علیہ السلام وحبیبک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

اگر دوسرے کی طرف سے ذبح کیا ہے تو مِنِّیْ کی جگہ مِنْ کے بعد قربانی کرنے والے کا نام لے اور اگر مشترکہ جانور ہے جیسے گائے، اونٹ، بھینس وغیرہ تو مِنْ کے بعد سب شریکوں کا نام لے۔

قربانی کا گوشت

قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں۔ ایک حصہ فقیروں کو دے دیں اور ایک حصہ دوستوں اور عزیزوں کو دیں اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے رکھیں، خود بھی کھائیں بال بچوں کو بھی کھلائیں اور اگر گھر کے افراد زیادہ ہوں تو تینوں حصے اپنے استعمال میں بھی لا سکتے ہیں اور تینوں حصوں کا صدقہ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر میت کی طرف سے قربانی کی تو اس کے گوشت کا بھی یہی حکم ہے البتہ اگر میت نے وصیت کی تھی کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس صورت میں کل گوشت صدقہ کر دینا چاہیے۔ قربانی کرنے والا عید کے دن سب سے پہلے قربانی کا گوشت کھائے یہ مستحب ہے۔ قربانی کا گوشت کافر کو نہیں دے سکتے۔ جانور کا چمڑا، جھول، رسی، ہار سب صدقہ کر دینا چاہیے۔ چمڑے کو خود اپنے کام میں بھی استعمال کرسکتے ہیں مثلا جانماز بچھونا وغیرہ بنا سکتا ہے لیکن بیچ کر قیمت اپنے کام میں لانا جائز نہیں۔

قربانی کے جانور

قربانی کے جانوروں میں اونٹ، گائے، بھینس، بکری، بھیڑ نر مادہ خصی و غیر خصی سب کی قربانی ہو سکتی ہے ہاں البتہ وحشی جانور جیسے ہرن، نیل گائے، بارہ سنگھا وغیرہ کی قربانی نہیں ہوسکتی۔ بڑے جانوروں میں اونٹ پانچ سال، گائے بھینس دو سال کے ہوں تو ان کی قربانی ہو سکتی ہے۔ بھیڑ، بکری ایک سال کی ہو یا زیادہ کی اس سے کم کی ناجائز ہے ہاں اگر دہنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہیہ بچہ اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ قربانی کے جانور موٹے تازے اور اچھے ہونے چاہیے کسی طرح کے عیب سے پاک ہوں۔ اگر تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہوجائے گی مگر مکروہ ہوگی اور اگر زیادہ عیب ہے تو قربانی ہوگی ہی نہیں۔ قربانی کرتے وقت جانور اچھلا کودا اور اس سے عیبی ہو گیا تو حرج نہیں اس کی قربانی ہو جائے گی۔

(یہ تمام تفصیل کتاب ”تحفة المودود فی أحکام المولود“ لابن القیم الجوزیة“
اور ”تربیة الأولاد فی الاسلام“ الجزء الاوّل، مصنفہ الاستاذ الشیخ عبداللہ ناصح علوان طبع ۱۹۸۱ء ص:۹۸، مطبع دار السلام للطابعة والنشر والتوزیع، حلب و بیروت۔ قانون شریعت وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔)
واللہ اعلم بالصواب