Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان “برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر12:خاکہ
  • مصنف کانام: مولوی عبد الحق
  • سبق کا نام:رابندر ناتھ ٹیگور

رابندر ناتھ ٹیگور کی زندگی

سبق” رابندرناتھ ٹیگور” میں مصنف کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔را بندر با بو 7 مئی 1861 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔آپ اپنے والد بزرگوار مہارشی دیویندر ناتھ ٹیگور کے چودھویں اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ گھر والے محبت سے انہیں ”رابی‘“ کہتے تھے۔

آپ کے والد صوفی منش انسان تھے جن کی ساری زندگی لوگوں کی خدمت میں گزری۔ ٹیگور کے خاندان کے بچوں کی تعلیم و تربیت اسی مخصوص ڈھنگ سے دی جاتی تھی جس پر صدیوں ہندوستان کی تہذیب و تمدن کو فخر رہا ہے۔ صبح سویرے اٹھنا، منھ ہاتھ دھو کر درشن کے لیے اکھاڑے پر پہنچ جانا، اکھاڑے سے نکلتے ہی اسکول چلا جانا۔

Advertisement

شام میں بچوں کی واپسی ہوتی تو گھر پر پڑھانے والوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا جوکہ تا دیر جاری رہتا اور رات 9 بجے انھیں قیدیوں کی طرح سونے پر مجبور کر دیا جاتا۔ان۔کا تعلق امیر خاندان سے تھا مگربچوں پہ کڑی سختی تھی۔ابھی ٹیگور آٹھ برس کے تھے کہ ان کے بڑے بھائی جیوتی ناتھ نے ان سے کہا ” رابی تم شعر کیوں نہیں لکھتے ؟

Advertisement

ٹیگور نے پہلی نظم کنول پر لکھی۔جس سے بھائی نے خوش ہو کر بنگالی کی بحروں کی تعلیم دی۔ بھائی کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلد وہ آپ جو بطور شاعر متعارف کروانے لگے۔یوں ٹیگور کی شاعری کی شہرت سن کر سکول سپریڈنٹ نے انھیں اپنے خاص شاگردوں میں شامل کر لیا۔ٹیگور کی ادھوری تعلیم ان کے گھر والوں کے لیے اطمینان بخش نہیں تھی اس لیے ان کو ان کے بڑے بھائی جیوتی ناتھ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان بھیج دیا گیا۔

Advertisement

مگر تعصب، کالے گورے کا فرق، غلام اور آقا کا امتیاز، ان سب باتوں کو ٹیگور کا دل برداشت نہ کر پایا اور ان کا پڑھائی سے دل اچاٹ ہوگیا اور وہ وطن واپس آگئے۔یہاں آکر انھوں نے اپنا سارا دھیان شاعری پہ لگا دیا۔خاندان کی ناراضی کی وجہ سے ان کو شیلدان جاگیر کا نظام سنبھالنے کے لیے بھیجا گیا۔شیلدان میں ٹیگور کو پہلی بار ہندوستان کی غریبی اور افلاس دیکھنے کا موقع ملا یہاں ان کا سابقہ غریب کاشتکاروں کی سادہ زندگی اور ان کی انسانیت سے ہوا۔

یہاں وہ غریبوں اور مزدوروں کے دکھ درد میں شریک رہے۔ یہاں سے ان کی شاعری کو نئی زندگی ملی۔ٹیگور کو موسیقی سے قدرتی لگاؤ تھا۔ انھوں نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ انھوں نے نہ صرف گیت لکھے بلکہ انھیں گایا اور اپنے گیتوں کی دھنیں بھی خود ترتیب دیں۔ ان کی بنائی ہوئی اور گائی ہوئی دھنوں کو را بندر سنگیت کا نام دیا گیا۔ انھیں بنگال کی موسیقی میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔

Advertisement

ٹیگور نے 60 سال سے زیادہ کی عمر میں مصوری سیکھی۔ جبکہ مصوری کے ماہروں نے ان کے فن کو پیغمبروں کا درجہ دیا۔آپ ہندوستان ہی نہیں دنیا کے بڑے شاعر، موسیقار اور مصور مانے جاتے ہیں۔ایک جگیردارانہ گھر میں آنکھ کھولی مگر ٹیگور نے سادہ زندگی گزاری وہ سادہ لباس پہنتے۔ کھانے میں کسی طرح کا تکلف نہیں کرتے۔ ہمیشہ سادہ غذا کھاتے ٹیگور اپنے شاگردوں کو سادہ اور قدرتی طریقے پر زندگی بسر کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔

انھیں استاد کی حیثیت سے اونچا مقام حاصل ہے۔انھوں نے ہمارے لیے ایک لا زوال ترکہ چھوڑا ہے اور وہ ہے شانتی نکیتن۔آپ نے کلکتہ سے 90 میل کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے اسکول کی بنیاد ڈالی۔ یہاں بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ آج شانتی نکیتن کو ایک لازوال مقام حاصل ہے اور اب وشوا بھارتی کی شکل میں یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے۔

Advertisement

اس کے لیے انھوں نے اپنا۔گھر بیچااور باہر سے امداد بھی حاصل کی۔ہندوستان کا قومی ترانہ جن گن من ہے اور اسے را بندر ناتھ ٹیگور نے لکھا ہے۔را بندر ناتھ ٹیگور کا انتقال 7 اگست 1941 کو کلکتہ میں ہوا۔ان کی ارتھی میں ہندو، مسلمان،عیسائی اور سکھوں کا ایک لمبا جلوس شامل تھا۔

سوچیے اور بتایئے:

را بندر ناتھ ٹیگور کہاں پیدا ہوئے؟

را بندر ناتھ ٹیگور کلکتہ میں پیدا ہوئے۔

Advertisement

را بندر با بو کو گھر والے کس نام سے پکارتے تھے؟

رابندر کو گھر والے محبت سے رابی کہہ کر پکارتےتھے۔

ٹیگور خاندان میں تعلیم و تربیت کا کیا طریقہ تھا؟

ٹیگور کے خاندان میں بچوں کی تعلیم وتربیت اسی مخصوص ڈھنگ سے دی جاتی تھی جس پر صدیوں ہندوستان کی تہذیب و تمدن کو فخر رہا ہے۔ صبح سویرے اٹھنا، منھ ہاتھ دھو کر درشن کے لیے اکھاڑے پر پہنچ جانا، اکھاڑے سے نکلتے ہی اسکول چلا جانا۔ شام میں بچوں کی واپسی ہوتی تو گھر پر پڑھانے والوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا جوکہ تا دیر جاری رہتا اور رات 9 بجے انھیں قیدیوں کی طرح سونے پر مجبور کر دیا جاتا۔

Advertisement

ٹیگور نے شاعری کس کے کہنے پر شروع کی؟

ٹیگور نے اپنے بڑے بھائی جیوتی ناتھ کے کہنے پر شاعری شروع کی۔

انگلستان تعلیم حاصل کرنے کے لیے ٹیگور کو کیوں بھیجا گیا ؟

ٹیگور کی ادھوری تعلیم ان کے گھر والوں کے لیے اطمینان بخش نہیں تھی اس لیے ان کو ان کے بڑے بھائی جیوتی ناتھ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان بھیج دیا گیا۔

Advertisement

ٹیگور تعلیم چھوڑ کر وطن واپس کیوں آگئے؟

تعصب، کالے گورے کا فرق، غلام اور آقا کا امتیاز، ان سب باتوں کو ٹیگور کا دل برداشت نہ کر پایا اور ان کا پڑھائی سے دل اچاٹ ہوگیا اور وہ وطن واپس آگئے۔

موسیقی سے ٹیگور کی دلچسپی کس طرح ظاہر ہوتی ہے؟

ٹیگور کو موسیقی سے قدرتی لگاؤ تھا۔ انھوں نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے نہ صرف گیت لکھے بلکہ انھیں گایا اور اپنے گیتوں کی دھنیں بھی خود ترتیب دیں۔ ان کی بنائی ہوئی اور گائی ہوئی دھنوں کو را بندر سنگیت کا نام دیا گیا۔

Advertisement

شیلد ان جاکر ٹیگور کو کیا دیکھنے کا موقع ملا ؟

شیلدان میں ٹیگور کو پہلی بار ہندوستان کی غریبی اور افلاس دیکھنے کا موقع ملا یہاں ان کا سابقہ غریب کاشتکاروں کی سادہ زندگی اور ان کی انسانیت سے ہوا۔ یہاں وہ غریبوں اور مزدوروں کے دکھ درد میں شریک رہے۔

ٹیگور نے مصوری کس عمر میں سیکھی؟

ٹیگور نے 60 سال سے زیادہ کی عمر میں مصوری سیکھی۔

Advertisement

ٹیگور نے کیسی زندگی گزاری؟

ٹیگور نے سادہ زندگی گزاری وہ سادہ لباس پہنتے۔ کھانے میں کسی طرح کا تکلف نہیں کرتے۔ ہمیشہ سادہ غذا کھاتے تھے۔

ٹیگور اپنے شاگردوں کو کیا مشورہ دیتے تھے؟

ٹیگور اپنے شاگردوں کو سادہ اور قدرتی طریقے پر زندگی بسر کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔

Advertisement

تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ٹیگور نے کیا کیا کام کیے؟

ٹیگور نے کلکتہ سے 90 میل کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے اسکول کی بنیاد ڈالی۔ یہاں بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ آج شانتی نکیتن کو ایک لازوال مقام حاصل ہے اور اب وشوا بھارتی کی شکل میں یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے۔

ہمارا قومی ترانہ کیا ہے اور اسے کس نے لکھا ہے؟

ہمارا قومی ترانہ جن گن من ہے اور اسے را بندر ناتھ ٹیگور نے لکھا ہے

Advertisement

را بندر ناتھ ٹیگور کا انتقال کب اور کہاں ہوا؟

را بندر ناتھ ٹیگور کا انتقال 7 اگست 1941 کو کلکتہ میں ہوا۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے:

  • را بندر ناتھ ٹیگور کے لافانی شاہکار گیتانجلی کو نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا گیا۔
  • را بندر با بو 7 مئی 1861 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔
  • آپ اپنے والد بزرگوار مہارشی دیویندر ناتھ ٹیگور کے چودھویں اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔
  • گھر والے محبت سے انہیں ”رابی‘“ کہتے تھے۔
  • ٹیگور نے پہلی نظم کنول پر لکھی۔
  • انھوں نے60 سال سے زیادہ کی عمر میں مصوری سیکھی۔
  • انھوں نے ہمارے لیے ایک لا زوال ترکہ چھوڑا ہے اور وہ ہے شانتی نکیتن۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

قومی ترانہہمارے ملک کا قومی ترانہ رابندر ناتھ ٹیگور نے لکھا۔
تعلیم و تربیتہمیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت بہترین اصولوں پر کرنی چاہیے۔
ہمت افزائیہمیں ہر معاملے میں نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
لازوالعلم ایک لازوال دولت ہے۔
شب و روزہمارے شب و روز اللہ کی عبادت میں بسر ہونے چاہیے۔
تہذیب و تمدنہندوستان قدیم تہذیب و تمدن کی روایات بھی سمیٹے ہوئے ہے۔

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے:

واحدجمع
صوفیصوفیاء
فکرافکار
خاندانخاندانوں
بحربحروں
شعراشعار
شاعرشعراء
کاشتکارکاشتکاروں
گیتگیتوں
ڈراماڈراموں
فنفنون
تصویرتصاویر
منظرمناظر
اصولاصولوں
ملکملکوں
مشغلہمشاعل

ان لفظوں کے متضاد لکھیے:

مغربمشرق
محبتنفرت
زوالعروج
ابتداانتہا
شاگرداستاد
باقاعدہبے قاعدہ
فروختخرید
لافانیفانی

صحیح جملے پر ✅ اور غلط پر ❎ کا نشان لگائیے۔

  • رابندرناتھ ٹیگور کواحترام اور محبت سے گورود یو بھی کہا جا تا ہے۔✅
  • ٹیگور بنگال کے غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔❎
  • ٹیگور کو ہندوستان کا قومی شاعر مانا جاتا ہے کیوں کہ ان کی لکھی ہوئی نظم ” جن گن من‘ ہمارے ملک ہندوستان کا قومی ترانہ ہے۔✅
  • ٹیگور نے انگلستان میں اپنی تعلیم مکمل کی ۔❎
  • ٹیگور نے ” شانتی نکین کی بنیادڈالی تھی۔✅

نیچے دیے ہوئے واقعات کو صحیح ترتیب سے لکھیے۔

  • ابھی ٹیگور آٹھ برس کے تھے کہ ان کے بڑے بھائی’ جیوتی ناتھ نے ان سے کہا ” رابی تم شعر کیوں نہیں لکھتے ؟“
  • یہاں انھیں غریب کاشت کاروں کی سادہ زندگی سے سابقہ پڑا۔
  • را بندر بابو 7 مئی 1861ء کو کلکتہ میں پیدا ہوۓ ۔ انگلستان میں کچھ دن ٹھہرنے کے بعد جیسے گئے تھے ویسے واپس آۓ کوئی ڈگری ساتھ نہ لاۓ۔
  • انھوں نے کلکتہ سے نوے (90) میل کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے اسکول کی بنیاد ڈالی۔
  • ٹیگور کو استاد کی حیثیت سے بہت اونچا مقام حاصل ہے۔
  • ٹیگور نے پہلی نظم کنول‘ رکھی۔

صحیح ترتیب:

  • را بندر بابو 7 مئی 1861 ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔
  • ابھی ٹیگور آٹھ برس کے تھے کہ ان کے بڑے بھائی جیوتی ناتھ نے ان سے کہا ” رابی تم شعر کیوں نہیں لکھتے ؟
  • ٹیگور نے پہلی نظم کنول پر لکھی۔
  • یہاں انھیں غریب کاشت کاروں کی سادہ زندگی سے سابقہ پڑا۔
  • انگستان میں کچھ دن ٹھہرنے کے بعد جیسے گئے تھے ویسے واپس آئے کوئی ڈگری ساتھ نہ لائے۔
  • ٹیگور کو استاد کی حیثیت سے بہت اونچا مقام حاصل ہے۔
  • انھوں نے کلکتہ سے نوے (90) میل کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے اسکول کی بنیادڈالی۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں میں سے مذکر اور مونث الگ کرکے لکھیے:

اعلان،اعزاز ،زندگی ،مدد ، تہذیب ،تعلق ،شعر ،نظم

Advertisement
مذکر:اعلان، اعزاز ، تعلق، شعر۔
مؤنث:زندگی ،مدد ،تہذیب ،نظم۔

غور کیجئے اور لکھیے:

اردوزبان میں ہندی زبان کے بہت سے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جیسے لفظ درشن ۔ درشن کو اردو میں دیدار کہتے ہیں۔ اسی طرح نیچے ہندی کے کچھ الفاظ دیے جارہے ہیں ان کے اردو لفظ لکھیے۔

ڈھنگ جنم داتا اچنبھا دیش بھکتی سنگیت

Advertisement
ڈھنگ =طریقہ
جنم داتا=پیدا کرنے والا یعنی رب
ا چنبھا=حیرت
دیش بھگتی= وطن سے محبت
سنگیت= گانا
Advertisement