• کتاب”اپنی زبان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر17:خاکہ
  • مصنف کا نام: عبدالماجد دریاآبادی
  • سبق کا نام: رفیع احمد قدوائی

خاکہ رفیع احمد قدوائی کا خلاصہ

عبدالماجد دریا آبادی نے اس سبق میں رفیع احمد قدوائی کی شخصیت کا خاکہ بیان کیا ہے۔رفیع احمد قدوائی کا شمار ہندوستان کے مشہور سیاسی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔رفیع احمد قدوائی 18 فروری 1954ء کو مسولی،ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔بارہ بنکی سے ہائی سکول کا امتحان پاس کیا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ گئے۔

رفیع احمد قدوائی جب علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے وہاں پر تحریک ترک موالات میں حصہ لینے کے باعث ان کو جیل بھیجا گیا جہاں سے ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔آپ یو پی کی مقامی سیاست کے سرگرم رکن تھے اور ہندوستان میں متعدد بار وزارت کا عہدہ سنبھالا۔

Advertisement

رفیق احمد قدوائی نے پنڈت موتی لال نہرو اور جواہر لال نہرو کی رفاقت میں سیاسی تربیت پائی۔رفیع احمد قدوائی ملک و قوم کی خاطر پانچ مرتبہ جیل گئے۔جب ہندوستان آزاد ہوا تو آپ وہاں کے پہلے وزیر غذا اور مواصلات بنائے گئے۔آپ اکثر خطرات میں گھرے مگر مسلسل کوشش اور یقین کے ساتھ کام کو جاری رکھا۔وزیر مواصلات کی حیثیت سے آپ نے رات کی ہوائی ڈاک کا سلسہ شروع کیا۔ڈاکیوں کو اتوار کی چھٹی دلوائی۔

یوں ان کی اصلاحات کی بدولت ڈاک کا چوبیس گھنٹے چلنے والا کام بھی اتور کی چھٹی کے باعث متاثر نہ ہوا۔رفیع احمد قدوائی کا سب سے بڑا کارنامہ وزیر غذا بننے کے بعد راشنگ کا خاتمہ تھا۔ انھوں نے زیادہ اناج اگاؤ مہم شروع کر کے ملک میں اناج کی پیداوار میں اضافہ کیا جس سے ذخیرہ اندوزوں کا مال باہر نکل آیا۔رفیع احمد قدوائی کی شادی ان کے خاندان میں ہی ہوئی ان کی بیوی بہت نیک دل،دین دار اور عبادت گزار خاتون تھیں۔انھیں حج بھی کروایا۔

آپ نے تمام تر زندگی سادگی میں بسر کی۔کرتا شیروانی پہنا اور سوٹ اور ہیٹ کو چھوا تک نہیں۔ان کے گھر میں وزیروں والے کوئی ٹھاٹ بھاٹ موجود نہ تھے۔ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے ان کی ضرورت کا خیال کرتے اور ان کی ضرورت پر خرچ کرتے تھے۔قدوائی صاحب بہت ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔

جس آدمی سے جس طرح ایک مرتبہ ملے عمر بھر اس سے ویسے ہی ملتے رہے۔ کبھی کسی کو معلوم نہ ہونے دیتے کہ وہ وزیر کے عہدے پر ہیں۔ آپ نے اپنے علاقے سے زمینداری کا بھی خاتمہ کرویا۔ہمیشہ اللہ کی ذات پر توکل کیا۔ہر وقت خود بھی خوش رہتے اور دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کرتے۔صبح سویرے اٹھتے اور دنوں کا کام گھنٹوں اور منٹوں میں کردیتے تھے۔آپ کا انتقال 1954ء میں ساٹھ برس کی عمر میں ہوا۔ اپنی خدمات اور بہترین حکمتِ عملیوں کے باعث آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:

رفیع احمد قدوائی کون تھے؟

رفیع احمد قدوائی کا شمار ہندوستان کے مشہور سیاسی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ آپ یو پی کی مقامی سیاست کے سرگرم رکن تھے اور ہندوستان میں متعدد بار وزارت کا عہدہ سنبھالا۔

رفیع احمد قدوائی کی سیاسی زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟

رفیع احمد قدوائی جب علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے وہاں پر تحریک ترک موالات میں حصہ لینے کے باعث ان کو جیل بھیجا گیا جہاں سے ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔

رفیع احمد قدوائی نے کن رہنماؤں سے سیاسی سے تربیت پائی ؟

رفیق احمد قدوائی نے پنڈت موتی لال نہرو اور جواہر لال نہرو کی رفاقت میں سیاسی تربیت پائی۔

رفیع احمد قدوائی ملک وقوم کی خاطر کتنی بار جیل گئے؟

رفیع احمد قدوائی ملک و قوم کی خاطر پانچ مرتبہ جیل گئے۔

وزیر مواصلات کی حیثیت سے رفیع احمد قدوائی نے کیا کیا اصلاحات کیں؟

وزیر مواصلات کی حیثیت سے آپ نے رات کی ہوائی ڈاک کا سلسہ شروع کیا۔ڈاکیوں کو اتوار کی چھٹی دلوائی۔یوں ان کی اصلاحات کی بدولت ڈاک کا چوبیس گھنٹے چلنے والا کام بھی اتور کی چھٹی کے باعث متاثر نہ ہوا۔

رفیع احمد قدوائی کا سب سے اہم کارنامہ کیا تھا؟

رفیع احمد قدوائی کا سب سے بڑا کارنامہ وزیر غذا بننے کے بعد راشنگ کا خاتمہ تھا۔ انھوں نے زیادہ اناج اگاؤ مہم شروع کر کے ملک میں اناج کی پیداوار میں اضافہ کیا جس سے ذخیرہ اندوزوں کا مال باہر نکل آیا۔

قدوائی صاحب لوگوں سے کس طرح پیش آتے تھے؟

قدوائی صاحب بہت ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ جس آدمی سے جس طرح ایک مرتبہ ملے عمر بھر اس سے ویسے ہی ملتے رہے۔ کبھی کسی کو معلوم نہ ہونے دیتے کہ وہ وزیر کے عہدے پر ہیں۔

رفیع احمد قدوائی کا انتقال کب ہوا؟

آپ کا انتقال 1954ء میں ساٹھ برس کی عمر میں ہوا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

عزمانسان کو ہمیشہ عالی حوصلہ اور بلند عزم والا ہونا چاہیے۔
رفاقتاحمد اور علی کی دیرینہ رفاقت رشتے داری میں بدل گئی۔
درہم بر ہم بارش کی وجہ سے ذرائع مواصلات کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔
غلہغلہ منڈی میں معمول سے زیادہ رش تھا۔
وضعداریاہل لکھنو پورے ہندوستان میں اپنی وضعداری کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

بہادرڈرپوک
ابتداانتہا
نیکبد
دوستدشمن
ادنیاعلیٰ

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے۔

واحدجمع
قوم اقوام/قوموں
بازاربازاروں
شخصیتشخصیات
ضرورتضروریات
عزیزعزیزوں
خدمتخدمات

عملی کام: رفیع قدوائی صاحب کی شخصیت کے بارے میں دس جملے لکھیے۔

  • رفیع احمد قدوائی کا شمار ہندوستان کے مشہور سیاسی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔
  • رفیع احمد قدوائی 18 فروری 1954ء کو مسولی،ضلع باعہ بنکی میں پیدا ہوئے۔
  • بارہ بنکی سے ہائی سکول کا امتحان پاس کیا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ گئے۔
  • رفیع احمد قدوائی جب علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے وہاں پر تحریک ترک موالات میں حصہ لینے کے باعث ان کو جیل بھیجا گیا جہاں سے ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔
  • آپ یو پی کی مقامی سیاست کے سرگرم رکن تھے اور ہندوستان میں متعدد بار وزارت کا عہدہ سنبھالا۔
  • رفیق احمد قدوائی نے پنڈت موتی لال نہرو اور جواہر لال نہرو کی رفاقت میں سیاسی تربیت پائی۔
  • رفیع احمد قدوائی ملک و قوم کی خاطر پانچ مرتبہ جیل گئے۔
  • رفیع احمد قدوائی نے وزیر مواصلات اور وزیر غذا کا عہدہ سنبھالا۔
  • رفیع احمد قدوائی کی شادی ان کے خاندان میں ہی ہوئی ان کی بیوی بہت نیک دل،دین دار اور عبادت گزار خاتون تھیں۔
  • آپ کا انتقال 1954ء میں ساٹھ برس کی عمر میں ہوا۔