• کشتی تیرا نصیب چمکدار کر دیا
  • اِس پار کے تھپیڑوں نے اُس پار کر دیا
  • افواہ تھی کہ میری طبعیت خراب ہے
  • لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کر دیا
  • راتوں کو چاندنی کے بھروسے نہ چھوڑنا
  • سورج نے جنگوؤں کو خبردار کر دیا
  • رُک رُک کے لوگ دیکھ رہے ہیں میری طرف
  • تم نے ذرا سی بات کو اخبار کر دیا
  • اس بار ایک اور بھی دیوار گِر گئی
  • بارش نے میرے گھر کو ہوا دار کر دیا
  • بولا تھا سچ تو زہر پلایا گیا مجھے
  • اچھائیوں نے مجھ کو گناہ گار کر دیا
  • دو گز سہی مگر یہ میری ملکیت تو ہے
  • اے موت تُو نے مجھ کو زمیندار کر دیا

راحت اندوری

Advertisements