Advertisement
  • نظم : رام چندر جی ماں سے رخصت لیتے ہوئے
  • شاعر : چکبست

تعارفِ شاعر :

چکبست کا اصل نام پنڈت برج نراین اور خاندانی لقب چکبست تھا۔ آپ نے تخلص اختیار نہیں کیا تھا۔ آپ نے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور وکیل کے طور پر کام کیا۔ آپ کو بچپن سے شاعری کا شوق تھا۔ آپ آتش اور انیس کے دلدادہ تھے۔ آپ نے غزلوں کے علاوہ قومی ، اصلاحی و تاریخی نظمیں بھی کہیں۔ آپ کا مجموعہ کلام صبح وطن کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ آپ نے متعدد قومی لیڈروں کی وفات پر مرثیے کہے۔

کیا جانے کس خیال میں گُم تھی وہ بے گناہ
نور نظر پہ دیدہ حسرت سے کی نگاہ
جنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہ
لی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ
چہرے کا رنگ حالتِ دل کھولنے لگا
ہر موے تن زباں کی طرح بولنے لگا

تشریح :

اس شعر میں شاعر منظر کشی کررہے کہ جانے وہ کس خیال میں گُم تھی، وہ بے گناہ تھی اور بہت اداس تھی۔ اس نے اپنے جان سے پیارے بیٹے کی جانب نہایت حسرت سے دیکھا۔ اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی ان کے لب ہلے اور اس نے ایک سرد آہ بھری۔ اس کی آنکھوں کے کناروں سے آنسو بہنے لگے۔ اس کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا اور اس بدلتے رنگ نے اس کے دل کی حالت کو عیاں کردیا۔ اس کے تن پر موجود ہر بال یعنی اس کا پورا جسم زبان کی طرح بولنے لگا اور اپنے بیٹے سے فریاد کرنے لگا۔

Advertisement
آخر اسیر یاس کا قفلِ دہن کھلا
وا تھا دہانِ زخم کہ بابِ سخن کھلا
اک دفتر مظالم چرخ کہن کھلا
افسانہ شداید رنج و سخن کھلا
درد دل غریب جو صرفِ بیاں ہوا
خون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوا

تشریح :

اس شعر میں شاعر پچھلے شعر کی منظر کشی کو ہی مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آخر اس مایوسی میں قید ماں کے منہ سے تالا ہٹ گیا۔ شاعر کہتے ہیں کہ تالا ہٹنے کی وجہ سے اس عورت کے منہ کا زخم ابھی کھلا ہوا تھا یعنی اس کے لب ایک دوسرے سے جدا تھے اور اس لے لبوں سے لفظوں کا دروازہ بھی کھل گیا یعنی وہ کہنے لگی، شاعر کہتے ہیں کہ جب اس کے لبوں سے لفظ ادا ہونے لگے تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی پرانے آسمان پر مظالم کا دفتر کھل گیا ہو ، یوں محسوس ہونے لگا کہ تمام رنج و غم اب ایک افسانے کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس غریب کے دل کا درد جب وہ بیان کرنے لگی تو دروازے پر موجود اس کے جگر گوشے کا رنگ بھی عیاں ہونے لگا۔

Advertisement
سن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیز
اس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیز
عالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریز
لیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریز
سوچا یہی کہ جان سے بے کس گزر نہ جائے
ناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائے

تشریح :

شاعر کہتے ہیں کہ اپنی ماں کی زباں سے اتنی درد بھری فریاد سن کر وہ سخت جان بھی غم زدہ ہوگیا اور اس کے دل پر ایک تیر تیزی سے سرایت کرگیا۔ شاعر کہتے ہیں کہ غم کا عالم یہ تھا کہ بیٹے کی آنکھوں سے اشک گرنے کو بےتاب تھے لیکن اس نے خود پر ضبط کے پہرے بٹھائے اور خود رونے سے گریز کیا۔ رونے سے گریز کی وجہ یہ تھی کہ اس نے سوچا اگر جو میری ماں مجھے ناخوش دیکھے گی تو وہ اتنی رنجیدہ ہے کہیں میری ناشاد طبیعت اس پر اتنی گراں نہ گزرے کہ وہ مر ہی جائے۔

Advertisement
کہتے تھے لوگ دیکھ کے ماں باپ کا ملال
ان بےکسوں کی جان کا بچنا ہے اب محال
ہے کبریا کی شان گزرتے ہی ماہ و سال
خود دل سے درد ہجر کا کٹتا گیا خیال
ہاں کچھ دنوں تو نوحہ ماتم ہوا کیا
آخر کو رو کے بیٹھ گئے اور کیا کیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جن والدین کے بیٹے ان سے جدا ہوئے تھے ان کے والدین کا ملال دیکھ کر لوگوں کو لگتا تھا کہ یہ والدین اب زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی ہے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد ان والدین کے دل سے اپنی اولاد سے ہجر کا غم کم ہونے لگا۔ شروع کا کچھ عرصہ تو وہ ماتم کرتے رہے اس جدائی پر لیکن پھر سنبھل گئے کیونکہ اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔

اکثر ریاض کرتے ہیں پھولوں پہ باغباں
ہے دن کو دھوپ رات کو شبنم انہیں گراں
لیکن جو رنگ باغ بدلتا ہے ناگہاں
وہ گل ہزاروں  پردوں میں جاتے ہیں رائیگاں
رکھتے تھے جو عزیز انھیں جاں کی طرح
ملتے ہیں دوست یاس وہ برگِ خزاں کی طرح

تشریح :

شاعر اس شعر میں کہتے ہیں کہ باغباں اپنے باغ کے پھولوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یعنی کہ والدین اپنے بچوں کو پالتے ہیں۔ باغبانوں کو دن میں دھوپ اور رات میں شبنم پر اعتراض ہوتا ہے کہ وہ ان کے باغ کو خراب کردیں گے اسی طرح والدین کو ہر اس چیز پر اعتراض ہوتا ہے جو ان کی اولاد کو تکلیف پہنچائے۔ لیکن جو باغ اچانک سے رنگ بدل لے یعنی جو اولاد رنگ بدل لے اور والدین کی نافرمان ہو اسے ہزاروں پردوں میں چھپا کر بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ شاعر کہتے ہیں کہ پہلے جو دوست انھیں عزیزِ جاں کی طرح رکھتے ہیں وہ وقت گزرنے کے بعد خزاں میں گرے پتوں کی طرح ملتے ہیں یعنی کہ صرف جب ان کا موسم آئے تب ہی ملتے ہیں یا پھر بہت عرصے بعد ملتے ہیں۔

Advertisement
اپنی نگاہ ہے کرم کار ساز پر
صحرا چمن بنے گا وہ ہے مہرباں اگر
جنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہر حضر
رہنا نہیں وہ حال سے بندوں کے بےخبر
اس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیں
دامانِ دشت دامنِ مادر سے کم نہیں

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد اب ہم سب کی نگاہ اللہ تعالیٰ پر ہے۔ کیونکہ وہ کریم ہے اور ہے شے پر غالب ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو صحرا بھی چمن میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایک انسان چاہے جنگل میں ہو یا پہاڑ پر ہو وہ رب کسی بندے کے حال سے بے خبر نہیں رہتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر کسی بندے پر اللہ کا کرم ہو تو اسے کوئی غم نہیں رہتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی پر اپنی رحمت کا سایہ کریں تو پھر اس انسان کے لیے دشت کا دامن بھی اپنی ماں کے دامن کی طرح پُرسکون اور محبت بھرا ہوگا۔

مشق :

۱) رام چندر جی کو دیکھ کر اس کی ماں کیوں رونے لگی تھی؟

جواب : رام چندر جی کو دیکھ کر اس کی ماں اس لیے رونے لگی تھی کیونکہ وہ اپنے والد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی ماں سے رخصت لے رہے تھے۔

Advertisement

۲) رام چندر جی نے ماں کا حال دیکھ کر آنسو کیوں روک لیے؟

جواب : رام چندر جی نے ماں کا حال دیکھ کر آنسو روک لیے۔ رونے سے گریز کی وجہ یہ تھی کہ اس نے سوچا اگر جو میری ماں مجھے ناخوش دیکھے گی تو وہ اتنی رنجیدہ ہے کہیں میری ناشاد طبیعت اس پر اتنی گراں نہ گزرے کہ وہ مر ہی جائے۔

۳) چکبست کی اس نظم کا خلاصہ کیجیے :

تعارفِ شاعر :

چکبست کا اصل نام پنڈت برج نراین اور خاندانی لقب چکبست تھا۔ آپ نے تخلص اختیار نہیں کیا تھا۔ آپ نے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور وکیل کے طور پر کام کیا۔ آپ کو بچپن سے شاعری کا شوق تھا۔ آپ آتش اور انیس کے دلدادہ تھے۔ آپ نے غزلوں کے علاوہ قومی ، اصلاحی و تاریخی نظمیں بھی کہیں۔ آپ کا مجموعہ کلام صبح وطن کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ آپ نے متعدد قومی لیڈروں کی وفات پر مرثیے کہے۔

Advertisement

خلاصہ :

اس نظم میں شاعر منظر کشی کررہے کہ جانے وہ کس خیال میں گُم تھی، وہ بے گناہ تھی اور بہت اداس تھی۔ اس نے اپنے جان سے پیارے بیٹے کی جانب نہایت حسرت سے دیکھا۔ اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی ان کے لب ہلے اور اس نے ایک سرد آہ بھری۔ اس کی آنکھوں کے کناروں سے آنسو بہنے لگے۔ اس کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا اور اس بدلتے رنگ نے اس کے دل کی حالت کو عیاں کردیا۔ اس کے تن پر موجود ہر بال یعنی اس کا پورا جسم زبان کی طرح بولنے لگا اور اپنے بیٹے سے فریاد کرنے لگا۔

شاعر کہتے ہیں کہ جب اس کے لبوں سے لفظ ادا ہونے لگے تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی پرانے آسمان پر مظالم کا دفتر کھل گیا ہو ، یوں محسوس ہونے لگا کہ تمام رنج و غم اب ایک افسانے کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس غریب کے دل کا درد جب وہ بیان کرنے لگی تو دروازے پر موجود اس کے جگر گوشے کا رنگ بھی عیاں ہونے لگا۔

Advertisement

شاعر کہتے ہیں کہ اپنی ماں کی زباں سے اتنی درد بھری فریاد سن کر وہ سخت جان بھی غم زدہ ہوگیا اور اس کے دل پر ایک تیر تیزی سے سرایت کرگیا۔ شاعر کہتے ہیں کہ غم کا عالم یہ تھا کہ بیٹے کی آنکھوں سے اشک گرنے کو بےتاب تھے لیکن اس نے خود پر ضبط کے پہرے بٹھائے اور خود رونے سے گریز کیا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد اب ہم سب کی نگاہ اللہ تعالیٰ پر ہے۔ کیونکہ وہ کریم ہے اور ہے شے پر غالب ہے۔

شاعر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو صحرا بھی چمن میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایک انسان چاہے جنگل میں ہو یا پہاڑ پر ہو وہ رب کسی بندے کے حال سے بے خبر نہیں رہتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر کسی بندے پر اللہ کا کرم ہو تو اسے کوئی غم نہیں رہتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی پر اپنی رحمت کا سایہ کریں تو پھر اس انسان کے لیے دشت کا دامن بھی اپنی ماں کے دامن کی طرح پُرسکون اور محبت بھرا ہوگا۔

Advertisement

۴) شاعر کا حوالہ دے کر سیاق و سباق کے ساتھ ان اشعار کی وضاحت کریں :

اپنی نگاہ ہے کرم کار ساز پر
صحرا چمن بنے گا وہ ہے مہرباں اگر
جنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہر حضر
رہنا نہیں وہ حال سے بندوں کے بےخبر
اس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیں
دامانِ دشت دامنِ مادر سے کم نہیں

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد اب ہم سب کی نگاہ اللہ تعالیٰ پر ہے۔ کیونکہ وہ کریم ہے اور ہے شے پر غالب ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو صحرا بھی چمن میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایک انسان چاہے جنگل میں ہو یا پہاڑ پر ہو وہ رب کسی بندے کے حال سے بے خبر نہیں رہتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر کسی بندے پر اللہ کا کرم ہو تو اسے کوئی غم نہیں رہتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی پر اپنی رحمت کا سایہ کریں تو پھر اس انسان کے لیے دشت کا دامن بھی اپنی ماں کے دامن کی طرح پُرسکون اور محبت بھرا ہوگا۔

۵) ”ہر موے تن زبان کی طرح بولنے لگا“ اس مصرعے کے ذریعے شاعر کیا کہنا چاہتے ہیں۔

جواب : اس مصرعے کے ذریعے شاعر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس عورت کے جسم پر موجود ہر بال زبان بن کر بولنے لگا یعنی اس کا پورا جسم زبان بن گیا کیونکہ انسان کے جسم کے ہر عضو پر بال موجود ہوتے ہیں۔

Advertisement

۷) چکبست کی نظم سے چند فارسی مرکباب تلاش کر کے ان کے معنی لکھیے۔

حالتِ دل : دل کی حالت
دہانِ زخم :منہ کا زخم
بابِِ سخن : بات کا دروازہ
قفلِ دہن : منہ کا تالا
خونِ جگر :جگر کا خون
دامانِ دشت :دشت کا دامن
دامنِ مادر : ماں کا دامن
نورِ نظر :بیٹا

۸) ان الفاظ کے متضاد لکھیے :

قریب :دور
صحرا :چمن
ہجر :ملن
تیز :نرم
عیاں : چھپا ہوا
Advertisement