رشید حسن خان کی تحقیق نگاری

رشید حسن خان ہمارے دور کے معروف محقق ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو ذرا بھی مبالغہ نہ ہو گا کہ موجودہ زمانے میں تحقیق کا بھرم انہی کے کارناموں سے قائم ہے۔علمی و ادبی تحقیق کے لیے جس وسعت مطالعہ، فنی بصیرت، قوت یاداشت، موضوعات کی جزئیات کا احاطہ کرنے کی صلاحیت اور عرق ریزی کی ضرورت ہوا کرتی ہے وہ تمام خصوصیات رشید حسن خان کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ان کی تحقیقی کاوشیں مولانا امتیاز علی عرشی اور قاضی عبدالودود کی روایتوں کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی تحریروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تحقیقی ذہن و مزاج کے مالک تھے اور فن تحقیق کے مزاج شناس تھے۔

رشید حسن خان 25 دسمبر 1925ء کو شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام امیر حسن اور دادا کا نام علی حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بحرالعلوم سے حاصل کرنے کے بعد اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1944ء میں کیا۔

رشید حسن خان نے تحقیق کے مختلف پہلوؤں سے اپنی دلچسپی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ انہوں نے تحقیق کے مروجہ اصول و نظریات کی توضیح کی اور اپنی نقطہ رسی اور تیز طبع سے اس میں قابل قدر اضافے کئے۔ پھر اپنی تحقیقی تصانیف کے ذریعے عملی نمونے پیش کیے۔ ان کی تحقیقی خدمات کا نمونہ اتنا وسیع ہے کہ اس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔

علمی تحقیق کے لیے حوالہ و سند کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے بغیر کوئی تحقیقی کاوش پائہ اعتبار کو نہیں پہنچ سکتی۔ انہیں کی بنیاد پر ادبی و علمی تخلیقات کے صحت و عدم صحت کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور انہیں کی روشنی میں معتبر اور غیر معتبر کے درمیان تمیز کی جا سکتی ہے۔

رشید حسن خان نے اپنے پیش رو محققین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حوالہ و استناد کے سلسلے میں سخت احتیاط سے کام لیا۔ ان کے اصول اور معیار قائم کئے اور اپنی تحقیقی تصانیف میں ہمیشہ ان کی پابندی کی اور ان کی بنیاد پر علمی دنیا میں کتنی ہی مروجہ غلطیوں کی نشاندہی کی اور نام نہاد محققین کی قلعی کھولی۔ اس سلسلے میں ان کا مضمون "غیر معتبر حوالے” خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ اس مضمون میں رشید حسن نے حوالوں سے متعلق کچھ اصول و ضوابط پیش کئے ہیں اور حوالوں کے معیاری ہونے کی شرائط بیان کی ہیں۔ پھر ان اصولوں کی روشنی میں بہت سی تحقیقی تصانیف کا جائزہ لے کر یہ ثابت کیا ہے کہ غیر معتبر حوالوں پر اعتبار کرنے کے نتیجے میں تحقیقی کاموں میں کیسی کیسے غلطیاں راہ پاگئی ہیں۔

نامور محققین کی تصانیف بھی ایسی خامیوں سے محفوظ نہیں۔ چناچہ انہوں نے محمود شیرانی، مالک رام وغیرہ کی تحقیقی کاوشوں میں حوالہ و اسناد کی نادرستی کی وجہ سے کیے گئے غلط فیصلوں پر گرفت کی ہے۔

رشید حسن خان نے حوالہ و استناد کے معتبر و غیر معتبر ہونے کے موضوع کے ساتھ ساتھ قدیم کتابوں کے متون کے مستند و غیر مستند ہونے کے مسئلہ کو بھی اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے اور اس سلسلے میں بڑی فکر انگیز نکات پیش کیے ہیں۔ اس سلسلے میں تحقیق کے اصول کی روشنی میں بہت سی کتابوں کے متن کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں غیر معتبر قرار دیا ہے۔

رشید حسن خان نے صحت متن کی طرف خصوصی توجہ دی ہے۔ بہت سے زبان زد اشعار اور تذکیروتانیث کی تائید میں پیش کیے جانے والے اقوال و اشعار کو تحقیق متن کے اصولوں پر پرکھ کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اقوال واشعار براہ راست اصل ماخذ سے منقول نہیں۔اسی طرح بہت سی جعلی کتابیں موجود ہیں اور بعض مصنفین نے سخن آفرینی کے شوق میں بہت سے ایسے واقعات گڑھ کر پیش کئے ہیں جن کی کوئی اصل بنیاد اور کوئی مستند ماخذ نہیں۔ اس سلسلے میں ان کا فکر انگیز مضمون "حوالہ اور صحت” کے مطالعہ سے ان کی تحقیقی صلاحیت و عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مذکورہ بالا تحقیقی پہلو کے علاوہ رشید حسن خان نے قواعدزبان، دبستانی اختلافات، تلفظ و املا اور لغات کی طرف خصوصی توجہ دی ہے۔ ان موضوعات و مباحث سے رشید حسن کی وسعت مطالعہ،تجر علمی اور ژدف نگاہی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بہت سے محققین کے علمی و تحقیقی کارناموں کا جائزہ لے کر ان میں پائی جانے والی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے ایک ایک لفظ کی تحقیق، تذکیر و تانیث کے تعین اور صحت تلفظ واملا کے سلسلے میں اردو شعراء کے دواوین اور اردو فارسی لغات کو کھنگال ڈالا ہے۔

اردو رسم الخط اور املا پر ان کی کتاب کو پایا استاد حاصل ہے۔ اسی طرح کلاسیکی متون کے سلسلے میں انہوں نے جہاں اصول و معیار قائم کیے ہیں وہیں فسانہ عجائب، باغ و بہار، گلزار نسیم اور مثنویات شوق وغیرہ کو مدون کر کے علمی نمونہ بھی پیش کیا ہے۔ ان کے کارنامے تنقید و تحقیق کے میدان میں کام کرنے والوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوتے ہیں۔

رشید حسن خان کے اہم تحقیقی کارناموں میں انتخاب نظیر اکبر آبادی، انتخاب شبلی، دیوان خواجہ میر درد، انتخاب سودا، اردو املا، انتخاب ناسخ، اردو کیسے لکھیں، زبان اور قواعد، ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ، تلاش و تعبیر، تفہیم، عبارت کیسے لکھیں، انشائے تلفظ، تدوین، تحقیق روایت اور انشائے غالب وغیرہ کو اہمیت حاصل ہے۔

رشید حسن خان کی وفات 2006ء میں ہوئی اور شاہ جہاں پور کے ایک قبرستان میں سپردخاک کیے گئے۔ اس طرح اردو ادب کے ایک عظیم محقق سے دنیا محروم ہوگئی۔

Close