تعارف

راشد الخیری کی ولادت ۱۸٦۸ میں دہلی میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام عبدالواجد  ہے جو کہ انگریزی زبان کے ماہر تھے۔ وہ پہلے ہندوستانی تھے جو مصنف مقرر ہوئے۔ آپ کی والدہ رشید الزمائی صاحبہ اردو کی شاعرہ تھیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم اپنے دادا کے زیر سایہ ہوئی جو جید عالم مانے جاتے تھے۔ خدا کا حوف اور رسول ﷺ کی عظمت کا سبق انہوں نے گھر پر پڑھا تھا۔راشد الخیری نے اپنی دادی سے قرآن پاک پڑھا۔اس کے بعد عربی اسکول میں داخل ہو گئے۔مدرسے میں انھیں انگریزی کے سوائے کسی اور مضمون میں دلچسپی نہ تھی۔ مگر دادا پھر باپ کا سر سے سایہ اٹھنا تھا کہ ان کا تعلیم سے من اچاٹ گیا۔ نویں جماعت میں ہی اسکول کو  خیر آباد کہہ دیا۔

ناول نگاری

راشد الخیری کو مصور غم کہا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انکی تصانیف میں درد اور سوز بھرا پڑا ہے۔ قلم کا زور ، اسلوب کی چستی اور شگفتگی ، بیان کی روانی اور برجستگی ان کی پہلی یا کسی کتاب سے کم نہیں۔ واقعات ہیں کہ زنجیر کی کڑیوں کی طرح ڈھلے چلے آرہے ہیں۔موضوع اگرچہ دلخراش مگر تاریخی ہوتا ہے۔ دہلی کے آخری تاجدار سے عقیدت واقعہ نگاری کی سد راہ نہیں ہوئی۔ جب سماج غمناک اور رونے کے قابل ہو تو اس کے مذموم رواجوں کی ترمیم ہو تو دگلے والی پلٹن کے  کمیدان مد بدیعا کا انتظار فضول ہے۔ سرشار نے روتوں کو ہنسادیا۔شرر نے سوتوں کو گدگدایا۔ راشد الخیر نے کھسیانی ہنسی ہنسنے والوں کو رلادیا۔

الخیری نے ناولوں اور افسانوں میں عورت کا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ انھوں نے کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کے سامنے خواتین پیش کی جائیں جو اخلاق ، عادات اور اطوار میں ان کی خواتین کیلئے قابل تقلید ہوں۔ ان کے تاریخی ناولوں میں وہ مسلمانوں کو تاریخ اسلام سے آشنا کرواتے تھے۔ اور پھر اس قدر دلچسپ طریقہ سے تفریح طبع بھی ہو جاتے۔ تاریخ اسلام سے متعلق مفید باتیں بھی معلوم ہو جاتیں۔

ناول

  • یاسمین شام،
  • محبوبہ خداوند،
  • عروس کربلا،
  • امین کا دم واپس  اور
  • شہنشاہ کا فیصلہ۔ 

ان کے ناولوں  میں ابتدائے اسلام سے لیکر زوال بغداد تک کے حالات بیان کئے گئے ہیں۔ انھوں نے باقی ہم عصروں کی مانند حسن و عشق اور جنگ وجدال نہیں بتایا بلکہ کام کی باتیں تحریر کر کے اردو کو بہترین تاریخی ناول دیئے۔

تاریخی ناولوں میں کردار نگاری کوئی خاص اہمیت نہیں رکھی۔ کسی مصنف یا مولف کو تاریخی کرداروں کی سیرت میں کمی یا بیشی نہ کرنی چاہے۔ اگر وہ اللہ کے نیک بندے تھے تو انھیں اسی حالت میں پیش کرنا پڑتا ہے۔ مولانا نے اپنی کردار نگاری کو اپنے ناولوں میں مضبوطی دکھائی ہے جس سے اردو کے بہت سے ناول خالی ہیں۔ مولانا راشد الخیری نہ صرف ایک کامیاب ناول نگار ، ہمدرد نسواں اور مصلح قوم تھے بلکہ ایک بلند پایہ مورخ اسلام اور فلسفی بھی تھے۔ ان کے ناولوں اور افسانوں کا غور سے مطالعہ کریں معلوم ہوگا کہ انھوں نے حیات انسانی کے متعلق اس قدر حکیمانہ نکتے دیکھائے ہیں کہ دنیا ان پر عمل کرنے سے یقیناً نجات حاصل کرسکتی ہے۔

ان کو معلوم ہے عروج و زوال کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنی موجودہ خوشحالی میں بھول کر غریبوں کی حالت سے ناآشنا نہ ہو جائے۔ کیونکہ دولتے اور مسرت فانی چیزیں ہیں۔ زبان کے لحاظ سے بھی ان کے ناول دہلی کے محاورات اور روز مرہ کے انمول خزانے ہیں جس کا مطالعہ ہمیں دہلی کے شریف گھرانوں کی زبان سے روشناس کرادیتا ہے۔

تصانیف

  • علامہ راشد الخیر کی تصانیف میں
  • آمنہ کا لال،
  • عالم نسواں،
  • الزھراء،
  • امین کا دل واپسی،
  • انگوٹھی کا راز،
  • بیلہ میں میلہ،
  • بنت الوقت،
  • بلبل بیمار،
  • چہار عالم،
  • چمنستان مغرب،
  • دلی کی آخری بہار،
  • درشہوار،
  • فریب ہستی،
  • فسانئہ سعید،
  • گوہر مقصود،
  • غدرکی ماری شہزادیاں،
  • گلدستئہ عید،
  • حیات مشرکہ،
  • حیات صالحہ،
  • جوہر عصمت،
  • خدائی راج،
  • لڑکیوں کی انشاء،
  • مچھیرن کا جھولا،
  • منظر طرابلس،
  • مسلی ہوئی پتیاں،
  • مسلمان عورت کے حقوق اور
  • نانی عشو ان کی مشہور اور قابل ذکر تصانیف ہیں۔

آخری ایام

علامہ راشد الخیری کی بظاہر تو صحت اچھی بھلی تھی لیکن دو ماہ بیمار رہ کر آپ ۳ فروری ۱۹۳٦ کو دہلی میں ٦۸ برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔

Advertisements