تعارف

رضیہ نیاز ۱۹ مئی ۱۹۲۴ کو وزیر آباد پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچپن کا بیشتر حصہ پشاور میں گزارا۔

ابتدائی زندگی

رضیہ بٹ کو اپنے گھر میں جو علمی و ادبی ماحول میسر آیا انھوں نے ان کی تخلیقی و ادبی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ان کے اندر موجود تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار ہونے لگا تھا۔ انھوں نے پرائمری جماعت سے ہی اپنی مضمون نویسی کی ایسی صلاحیتیں پیش کیں کہ ان کی استاد خود حیران ہو گئیں اور اس ننھی طالبہ نے اپنے جوشِ قلم سے اپنے اساتذہ کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ انھیں یہ کہنے پر بھی مجبور کر دیا کہ یہ صلاحیتیں کسی عام شخصیت کی چھپی ہوئی صلاحیتیں نہیں بلکہ آنے والے وقت میں یہ کسی عظیم انسان کی پیش گوئی کر رہی ہیں۔

زمانہ طالب علمی میں ہی انھوں نے مسلم لیگ کی خواتین تنظیم میں شمولیت کی اور تحریک پاکستان کے لیے بھرپور جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کی محنت اور کوششوں سے اس علاقے میں مسلمان خواتین میں جذبہ حریت کو پیدا کرنے میں نمایاں کامیابی ہوئی۔

مزاج

رضیہ بٹ نہایت خوش اخلاق، ملنسار، سادگی پسند اور خاموش عقیدت کی مالک تھیں۔ مگر اپنے مزاج کے برخلاف انھوں نے اپنی تحریروں میں اپنے قلم سے ایسی جان ڈالی کہ پڑھنے والا ان کی تحریروں کو پڑھ کر ایسا اثر لیتا ہے کہ اسے اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ ایسے اوصاف رکھنے والی خاتون کی تحریروں کے اوصاف یکسر مختلف ہیں۔ رضیہ بٹ نے تحریک پاکستان کی تمام جدوجہد کو تمام جزئیات کے ساتھ اس خوبصورت انداز سے پیش کیا کہ واقعی اس میں تحریک پاکستان کی اصل روح بیدار ہوتی نظر آتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس معاشرے میں جس قسم کے مسائل نے جنم لیا اور جو مسلسل ابھر کر سامنے آئے ان مسائل کو بھی رضیہ بٹ نے نہایت خوبصورتی سے اپنے ناولوں کے ذریعے پیش کر کے ایک کامیاب کوشش کی۔

تصانیف

ان کا نام سب سے پہلے ۱۹۴۰ کے آس پاس میں ایک ادبی جریدے میں شائع ہوا تھا جب وہ نوعمری میں تھیں۔ بعد میں انہوں نے اپنی پہلی شائع شدہ کہانی کو ایک ناول "نائلہ” میں تیار کیا۔ ۱۹۴۶ میں شادی شدہ ، رضیہ بٹ نے کچھ سالوں کے لیے لکھنے سے وقفہ لیا اور بعد میں ۱۹۵۰ میں دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ ان کے پاس اس عرصہ میں ۵۱ ناول اور ۳۵۰ افسانے جمع ہو چکے تھے۔

وہ ریڈیو ڈرامے بھی لکھتی تھیں۔ ان کے کچھ ناول ، جیسے "صائقہ اور نائلہ” کو بڑی اسکرین ، اور "نورینہ ، نازیہ ، صائقہ اور بانو” کو ٹی وی ڈرامہ سیریل کے لئے ڈھال لیا گیا تھا۔ قارئین کی بہت سی نسلوں میں مشہور رضیہ بٹ کی ایک سوانح عمری ، "بچھڑے لمحے”کے نام سے بھی شائع ہو چکی ہے۔

مطالعہ کا شوق

رضیہ بٹ زمانہ طالب علمی کے دوران مطالعہ میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور اس وقت کے تمام مشہور لکھاریوں جیسے کہ سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، صلاح الدین اور عصمت چغتائی کو پڑھ چکی تھیں۔ وہ فارسی ناول کا ترجمہ بھی دلچسپی سے پڑھا کرتی تھیں لیکن انھوں نے کبھی انگریزی کتابیں یا نظمیں پڑھنے میں دلچسپی ظاہر نہ کی۔ وہ آپ بیتی پڑھنے کی دلدادہ تھیں، اس حوالے سے ان کا نظریہ تھا کہ خود نوشت آپ بیتی کسی بھی انسان کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ رضیہ بٹ نے مطالعہ کرنا چھوڑ دیا تھا، جس کی بنیادی وجہ ان کی آنکھوں کی بینائی تھی۔ کتب بینی نہ کرنے کے باوجود مشہور و معروف ناول تخلیق کرنے کے حوالے سے رضیہ بٹ کا کہنا تھا،
’کمزور بینائی کے باوجود تیزی سے ترقی کرتے میڈیا نے میرے لیے ناول نگاری کو آسان بنادیا۔ الیکٹرانک میڈیا پر دکھائے جانے والے ثقافتی اور ادبی شوز میرے لیے کتابوں کا بہترین متبادل ثابت ہوئے، جنہیں دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا جو خوراک ایک لکھاری کو کتابوں سے حاصل ہوتی ہے، وہ مجھے ان شوز سے حاصل ہورہی ہو۔‘‘

ناول نگاری

رضیہ بٹ ایک ناول نگار تھیں اور انھوں نے اپنا نام ناول نگاری میں پیدا کیا اور ناول نگاری کو ایک نیا رنگ اور ڈھنگ عطا کیا بلکہ تحریک پاکستان کے حوالے سے بھی ان کا کردار ایک مثالی کردار رہا اور اس کا ذکر بھی انھوں نے اپنے ناولوں میں پیش کیا۔

رضیہ بٹ کے ناولوں میں زندگی کا کوئی نہ کوئی سبق ضرور ہوتا ہے۔ ان کے ناول حقیقت اور حقیقی زندگی کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ ان کے ناولوں میں زندگی کی حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ان کے مشہور ناولوں میں:

  • آدھی کہانی،
  • آگ،
  • آئینہ،
  • انیلہ،
  • بانو،
  • بینا،
  • چاہت،
  • ڈارلنگ،
  • فاصلے،
  • میں کون ہوں؟،
  • نائلہ،
  • ناسور،
  • نورینہ،
  • ریتہ،
  • روپ،
  • ثائقہ،
  • ثمینہ،
  • شبو،
  • زندگی،
  • اماں،
  • مہرو
  • اور زری مشہور ہیں۔

افسانہ نگاری

افسانہ نگاری میں بہت مشہور ناموں کی ہم عصر ہونے کے ناطے ، ان  کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ ان کا انداز سینما کے نام نہاد ’مسلم سماجی ڈرامہ‘ رجحان کے قریب تھا۔ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ان کے بہت سے ناول ، جیسے سائقہ اور نائلہ ، بڑی اسکرین کے لئے ڈھالے گئے تھے۔ وہ ٹیلی ویژن کے پروڈیوسروں کی بھی پسندیدہ تھیں۔ جو ان کے کسی ناول کو ٹی وی ڈرامہ سیریل میں بدلنے کے خواہاں تھے۔

وفات

طویل عرصہ تک علیل رہنے کے بعد ۱۹ مئی ۱۹۲۴ء کو راولپنڈی میں پیدا ہونے والی مشہور و معروف ناول نگار رضیہ بٹ ۴ کتوبر ۲۰۱۲ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی عمر ۸۹ سال تھی۔