Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر:12
  • سبق کا نام: ریڈ کراس سوسائٹی

خلاصہ سبق:

ریڈ کراس سوسائٹی سبق میں ہمیں روزمرہ زندگی میں اکثر نظر آنے والے لال نشان کے متعلق بتایا گیا ہے۔ یہ نشان ڈاکٹروں اور بالخصوص خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنے والے اداروں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ یوں ریڈ کراس سوسائٹی محض علاج ہی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا بھی ادارہ ہے۔

اس ادارے کے قیام پر بات کی جائے تو سو سال قبل اٹلی کے شہر سلفرینو پر آسٹریا کی فوج قابض تھی۔فرانس نے جب آسٹریا کی فوج پر حملہ کیا تو اس خوں ریز لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔انہی دنوں فرانس سے تعلق رکھنے والا ایک بنک کا عہدے دار ہنری ڈونان کو الجزائر میں اپنے کیمپوں میں پانی کا معقول بندوبست کرنا تھا جس کے لیے وہ نپولین سے ملنے سلفرینو گیا۔

وہاں اس نے فرانس اور آسٹریا کی فوج کے لوگوں کو بڑی تعداد میں زخمی پایا۔یہاں ہزاروں سپاہیوں کو خاک و خون میں تڑپتا دیکھ کر ڈونان کا دل خون کے آنسو رونے لگا۔وہ قریبی دیہات کے لوگوں کو انسانیت اور بھائی چارے کا واسطہ دے کر نا سپاہیوں کی مدد کی غرض سے لے آیا۔ بہت سے زخمی سپاہیوں کو گاؤں لے جا کر ان کا علاج کیا گیا۔یہاں بہت سے لوگوں اور خواتین نے اس کی اس کام میں مدد کی۔

اس سب کے بعد اس کی بے چینی ختم نہ ہوئی اور جنگ بندی کے بعد بھی وہ باقاعدہ ایک ایسی تنظیم کے قیام کے بارے میں سوچنے لگا جو عالمی سطح پر زخمیوں کی مدد کرسکے۔اس واقعے نے اس کو ریڈ کراس سوسائٹی کے قیام کی جانب آمادہ کیا۔ 1861ء میں اس نے "سلفرینو کی یاد میں” نامی ایک پرچہ شائع کروا کر اس کی ہزاروں کاپیاں چھپا کر یوروپ میں تقسیم کیں اور جنگ کی تباہ کاریوں اور اس کے بھیانک نتائج کو منظر عام پر لایا۔

جس سے یہاں کا باشعور طبقہ چونک پڑا۔اس نے ایسی سوسائٹی کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کیا جو منظم طور سے زخمی سپاہیوں کی مدد کر سکے۔ڈونان نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایک کمیٹی بنائی اور جنیوا میں اس کی کانفرنس بلائی۔ اس سلسلے میں ڈونان نے کئی خطوط لکھے اور کئی لوگوں کو اپنی سوسائٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔1863ء میں اس کانفرنس میں سترہ ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔پہلے جلسے میں اس سوسائٹی کے اغراض و مقاصد جبکہ دوسرے میں اس سوسائٹی کو عالمی قانون کی حیثیت دی گئی۔

1864ء سے ریڈ کراس اسی سوسائٹی کی پہچان سے جانا جانے لگا۔یوں ریڈ کراس سوسائٹی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی اور اس کی کامیابی کیلے پیچھے بڑا ہاتھ ڈونان کا تھا۔رفتہ رفتہ اس سوسائٹی نے ڈونان کو نظر انداز کر دیا مگر پندرہ سال بعد اس کے سالانہ اجلاس میں ڈونان کو نوبل انعام دیا گیا۔ تب تک ڈونان کی حالت بہت بگڑ چکی تھی اور یوں 1910ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔لیکن یہ سوسائٹی آج بھی انسانیت کی خدمت کرنا جیسے کہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا،انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا،قدرتی آفات مثلاً سیلاب، زلزلہ وغیرہ میں لوگوں کی مدد کرنا اور زخمیوں کے لیے خون کی فراہمی وغیرہ جیسے مقاصد کو بخوبی نبھا رہی ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

ہنری ڈونان نپولین سے کس مقصد سے ملنے گیا تھا؟

ہنری ڈونان کو الجزائر میں اپنے کیمپوں میں پانی کا معقول بندوبست کرنا تھا جس کے لیے وہ نپولین سے ملنے گیا تھا۔

ڈونان کو ریڈ کراس سوسائٹی قائم کرنے کا خیال کیوں پیدا ہوا؟

ڈونان جب نپولین سے ملنے سلفرینو گیا تو وہاں اس نے فرانس اور آسٹریا کی فوج کے لوگوں کو بڑی تعداد میں زخمی پایا۔یہاں ہزاروں سپاہیوں کو خاک و خون میں تڑپتا دیکھ کر ڈونان کا دل خون کے آنسو رونے لگا۔وہ قریبی دیہات کے لوگوں اور اپنی مدد آپ کے تحت ان زخمیوں کی مدد کرنے لگا۔اس واقعے نے اس کو ریڈ کراس سوسائٹی کے قیام کی جانب آمادہ کیا۔

ریڈ کراس سوسائٹی کے مقاصد کیا ہیں؟

ریڈ کراس سوسائٹی کے مقاصد میں انسانیت کی خدمت کرنا جیسے کہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا،انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا،قدرتی آفات مثلاً سیلاب، زلزلہ وغیرہ میں لوگوں کی مدد کرنا اور زخمیوں کے لیے خون کی فراہمی وغیرہ کرنا شامل ہیں۔

ڈونان کو کون سا انعام دیا گیا اور کیوں؟

ڈونان کو ریڈ کراس سوسائٹی کے بانی اور اس سوسائٹی کے لیے خدمات کے عوض اسے نوبل انعام دیا گیا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:

آب پاشیہمارے ملک میں آب پاشی کا جدید نظام زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔
نیم مردہڈاکٹر نے مریض کو نیم مردہ حالت میں پایا۔
خبر گیریبزرگوں کی خبر گیری کرنا اچھی بات ہے۔
معلم اس میں ایک اچھے معلم کی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔
آفات زلزلہ اور سیلاب قدرتی آفات ہیں۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے واحد لکھیے:

واحدجمع
معلوممعلومات
ملکممالک
نتیجہنتائج
فردافراد
مقصدمقاصد
نقصاننقصانات
خطخطوط
خدمتخدمات
آفتآفات

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے:

دکھسکھ
زندگیموت
جنگامن
مردہزندہ
مخالفساتھی
خوشیغمی