• باب چہارم:یادیں۔
  • مصنف کا نام:سجاد ظہیر۔
  • سبق کا نام:”روشنائی”

روشنائی کا خلاصہ:

روشنائی "سجاد ظہیر"کی یادوں پر مشتمل کتاب ہے۔کتاب میں روشنائی کے جس حصے کو پیش کیا گیا ہے اس میں سجاد ظہیر نے ترقی پسند تحریک کے مصنفین کی کانفرنس کو ایک یاد کی صورت میں بیان کیا ہے۔ اس کانفرنس کا سالانہ اجلاس امرتسر میں منقعد ہوا اور یہ اجلاس بھی تب ہی طے پایا جب امرتسر میں پنجاب کسان کمیٹی کا سالانہ اجلاس تھا۔

سجاد ظہیربھی اس اجلاس میں مدعو تھے مگر ساتھ ہی انھیں جب ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس میں شمولیت کا دعوت نامہ موصول ہوا تو امرتسر آنا ناگزیر ہو گیا۔ ترقی پسند مصنفین کی یہ پہلی صوبائی کانفرنس تھی۔ سجاد ظہیر نے اس کانفرنس میں انجمن کے کل ہند جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے شرکت کرنی تھی یہ کانفرنس جلیانوالہ باغ میں منعقد ہونی تھی اور یہیں کسان کمیٹی کا اجلاس بھی تھا۔ فیض احمد فیض سے انھیں معلوم ہوا کہ اس کانفرنس کے دو روزہ اجلاس کے لیے کوئی مقامی اسکول یا کالج ہال دینے پر راضی نہ ہوا بالاآخر کسان کانفرنس والے ہی اپنا پنڈال دینے پر آمادہ ہوگئے۔

ترقی پسند کی یہ کانفرنس نہایت شان سے منعقد ہوئی تھی۔یہاں پنڈال بہت بڑا تھا مگر مجمے میں افراد کی تعداد دوسو کے قریب تھی۔ اس لیے کانفرنس کا انعقاد پنڈال کے ڈائس پر ہوا۔ پنڈال میں کسان جلسے کے آثار موجود تھے بیٹھنے کےلئے دریاں موجود تھیں اور پھٹا ہوا شامیانہ۔ سب لوگوں نے دری پر بیٹھ کر کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کے اجلاس میں چراخ حسن حسرت،ڈاکٹر تاثیر،فیروز دین منصور، رگھونش کمارکپور ، ڈاکٹر اشرف اور فیض وغیرہ شامل تھے۔ اجلاس میں دوسرے شہروں کے نمائندے اور پنجاب کے کئی عوامی کسان شاعر بھی تھے۔ حاضرین میں کئی طالب علم،دانشور اور کسان وغیرہ تھے۔

سجاد ظہیر کو اس کانفرنس کی روداد تو یاد نہیں مگر اس کا ماحول اور فضا یاد رہ گئی کیونکہ جس طرح کی بےسروسامانی اور بے ترتیبی وبے اطمینانی میں یہ کانفرنس ہوئی تھی وہ ناقابل فراموش ہے۔محنت کش طبقے کے ہزاروں افراد تعجب اور ہمدردی کے ساتھ اس مجمے کو دیکھ رہے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ ادیب ان کی طرف ہیں۔ پنجاب کے اسی سفر میں سجاد ظہیر نے علامہ اقبال سے ملاقات کا ذکر بھی کیا ہے۔ پہلی بار لاہور آنے پر اقبال سے ملاقات نہ ہو پائی تھی۔ لیکن اب کی بار علامہ اقبال سے ملنا اور ان سے ترقی پسند کے متعلق باتیں کرنا بہت اہمیت کا حامل تھا۔

علامہ اقبال سے ملاقات کا وقت دن کا تیسرا پہر تھا جہاں وہ اپنی کوٹھی کے باہر کھردری بان کی چارپائی پر نیم دراز تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔اقبال کی نظمیں جواب شکوہ،شکوہ وغیرہ تو زبانی یاد تھیں مگر ان سے ملاقات کا شرف اب ملا تھا۔علامہ اقبال سے سوشلزم کے متعلق گفتگو کرنا چاہتا تھا۔وہ نوجوان کے ترقی پسند نظریے سے تو کافی متا ثر تھے اور میری حوصلہ افزائی بھی کی مگر وہ ترقی پسندی اور سوشلزم کو مزید سمجھنے کے لئے مزید کتب کا مطالعہ چاہتے تھے۔ علامہ اقبال سے ان کی ترقی پسند تحریک کے متعلق یہ بات چیت اور ملاقات ادھوری رہ گئی۔ان کے دوبارہ لاہور جانے تک وہ اس دنیا سے کوچ کر چکے تھے۔

سولات:

سوال نمبر 1:پنجابی کسان کانفرنس اور ترقی پسند مصنفین کانفرنس کہاں منعقد ہوئی تھی؟

پنجابی کسان کانفرنس اور ترقی پسند مصنفین کانفرنس دونوں جلیانوالہ باغ امرتسر میں منعقد ہوئی تھیں۔

سوال نمبر 2:جنگ آزادی کی تاریخ میں جلیانوالہ باغ کی کیا اہمیت ہے؟

جنگ آزادی کے تاریخی پسِ منظر میں جلیانوالہ باغ خاص اہمیت کا حامل ہے۔یہاں 1920 میں آزادی کے متوالوں کا ایک جلسہ ہو رہا تھا جس پر اس وقت کے جرنل ڈایر کے حکم سے اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں جس کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں بے قصور لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سوال نمبر 3: سجاد ظہیر نے علامہ اقبال کو کن خاص باتوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی تھی؟

سجاد ظہیر نے علامہ اقبال کو سوشلزم اور نوجوان ترقی پسند ادیبوں کے نظریے کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔

سوال نمبر 4: علامہ اقبال نے سجاد ظہیر کی باتوں کا کیا جواب دیا؟

علامہ اقبال نے سجاد ظہیر کی باتوں کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ تاثیر نے مجھ سے ترقی پسند تحریک کے متعلق ذکر کیا تھا۔مجھے دلچسپی ہوئی لیکن ممکن ہے کہ مجھے سوشلزم کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔میں نے اس متعلق کافی نہیں پڑھا مجھے اس کو سمجھنے کے لیے چند مستند کتب دیں۔

عملی کام:

سوال: کانفرنس میں شامل شاعروں اور ادیبوں کے ناموں کی فہرست بنائیے۔

چراغ حسن حسرت،ڈاکٹر ایم،ڈی تاثیر، فیروز دین منصور، پروفیسر محب الحسن،ٹیکا رام سخن، رگھونش کمارکپور،رگھوپتی چوپڑ، ڈاکٹر اشرف ،پروفیسرسنت سنگھ، فیض احمد فیض، ظہیر کاشمیری، کرشن چندر اور سجاد ظہیر وغیرہ۔