سعادت حسن منٹو

حالات زندگی

نام سعادت حسن تھا اور اور قلمی نام منٹو تھا۔منٹو 11مئی1912 کو سمبھالی ضلع لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ منٹو کے والد کا نام خواجہ غلام حسن تھا اور والدہ کا نام سردار بیگم تھا۔منٹو اسکول کالج اور محلے میں ٹامی کے نام سے بھی مشہور تھے۔منٹو کے فرضی نام مفکر، کامریڈ، آدم، وٹنم تھے۔منٹو کی بیوی کا نام بیگم صفیہ تھا۔

منٹو کا تعلق کشمیر کی منٹو ذات سے تھا۔منٹو دسویں کے امتحان میں تین بار فیل ہوئے تھے اور چوتھی کوشش میں مسلم ہائی سکول امرتسر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا تھا۔ منٹو کے ادبی رہنما باری علیگ تھے اور منٹو کی پہلی تحریر باری صاحب کی ہی زیرادارت شائع  ہونے والے اخبار "مساوات” میں شائع ہوئی تھی اور منٹو نے اپنے ادبی سفر کا آغاز اسی روزنامہ میں کالم نگاری سے کیا تھا۔

منٹو جنوری 1948ء میں ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے تھے۔ منٹو کی وفات  ترتالیس 43 سال کی عمر میں  اٹھارہ جنوری انیس سو پچپن (1955)ء کو لاہور میں ہوئی۔

منٹو کی افسانہ نگاری

اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں منٹو کا شمار ہے۔ منٹو بہت بڑے افسانہ نگار تھے۔ افسانے لکھنے کا اہتمام نہیں کرتے تھے قلم برداشتہ لکھتے تھے۔لکھتے کیا تھے یوں سمجھئے کہ افسانہ ان پر نازل ہوتا تھا۔وہ سچ ہی کہتے تھے میں افسانہ نہیں لکھتا افسانہ مجھے لکھتا ہے۔سعادت حسن منٹو خود لکھتے ہیں کہ افسانہ میرے دماغ میں نہیں جیب میں ہوتا ہے کیونکہ میں افسانے کے پیسے پیشگی  لے چکا ہوتا ہوں۔

مرنے سے کچھ ہی دن پہلے اٹھارہ اگست 1954ء کو انہوں نے اپنی قبر کا کتبہ آپ لکھا تھا۔ملاحظہ فرمائیے۔ "یہاں سعادت حسن منٹو دفن ہے اس کے سینے میں افسانہ نگاری کے سارے اسرار و رموز دفن ہیں وہ اب بھی منوں مٹی کے نیچے سوچ رہا  ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے۔”

انسانی زندگی اس عظیم فنکار کے افسانوں کا موضوع تھا۔انہوں نے ہر طبقے اور ہر طرح کے انسانوں کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔کلرک ، مزدور ،نیک، بدکار ،طوائف، دلال مولوی ،استاد،  ہر طرح کے لوگ ان کی نظر میں تھے۔ان کا اصل میدان جنس ہے  اور جنس کا بھی صحت مند اور فطری پہلو انہیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرتا۔جنسی کجروی  انہیں اپنی طرف کھینچتی ہے  اور وہ بے محابہ اس پر لکھتے ہیں۔ان پر فحش نگاری کے جرم میں مقدمے چلے  اور انھیں عریاں نگار کہا گیا۔

منٹو حقیقت نگار تھے انسان کے جتنے اصلی روپ ہو سکتے ہیں منٹو ان سب کے رمز شناس ہیں۔منٹو کو اعتراف ہے کہ چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمنان سے سو جاتی ہے میرے افسانوں کی ھیرو نہیں ہو سکتی۔میری ہیروئین چکلے کی ایک رنڈی ہوسکتی ہے جو رات کو جاگتی  ہے اور دن کو سوتے میں کبھی کبھی یہ ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آیاہے۔

جنسی کجروی  ان کے نزدیک زندگی کی تلخ حقیقتوں میں ںسے ایک ہے۔منٹو کے افسانوں میں جو عریانی نظر آتی ہے اور جس کے سلسلے میں ان پر مقدمے بھی چلے وہ ان کی اپنی پیدا کی ہوئی نہیں ہے۔وہ سوسائٹی میں پہلے سے موجود ہے منٹو جب اس سوسائٹی کی تصویر کھینچتے ہیں تو عریانی کو پردوں میں کس طرح چھپا سکتے ہیں۔انہوں نے ایک جگہ لکھا  ہے کہ زمانے کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے۔

منٹو کا فن منٹو کے موضوعات سے زیادہ اہم ہے۔ ان کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کے افسانوں میں مواد اور فن دونوں گھل مل گے ہیں۔ انسانی نفسیات پر منٹو کو مکمل عبور حاصل ہے۔  اپنے کرداروں کی ذہنی کیفیت پر منٹو کی تہہ رس نگاہیں جمی رہتی ہیں۔  ان کے بعض افسانے تو اسی مقصد سے لکھے گئے ہیں کہ کسی کردار کی نفسیاتی حقیقت کو بے نقاب کیا جائے۔  جن افسانوں میں یہ مقصد پیش نظر نہیں رہا وہاں بھی قدم قدم پر نفسیاتی حقائق کی ترجمانی نظر آتی ہے۔

تلخ مصلحانہ طنز منٹو کے افسانوں کی بےحد نمایاں خصوصیت ہے۔منٹو کے افسانوں میں طنز و ظرافت تلاش کیجئے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ظرافت کم ہے اور طنز زیادہ۔ اور طنز بھی بہت شدید نشتر کی سی کیفیت لئے ہوئے ہے۔ ایک بد نام افسانہ نگار کی حیثیت سے منٹو نے بہت شہرت پائی۔ انہوں نے جنسی موضوعات پر بڑی بے باکی سے قلم  اٹھایا۔ سماج، رشتے ناسوروں کو سفاکی سے بے نقاب کیا ۔

منٹو کے افسانوں پر کہیں بناوٹ کا گمان نہیں ہوتا۔ محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیدھے سادے انداز میں کوئی کہانی، کوئی واقعہ سنا رہے ہیں، اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کر رہے ہیں۔ بس اتنا ہے کہ ان کا فن بالکل غیر محسوس طور ان کے افسانوں میں کام کرتا ہے اسی میں ان کی عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔

منٹو کے افسانوی مجموعے

  • "آتش پارے” منٹو کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو انیس سو چھتیس (1936) میں شائع ہوا۔اس افسانوی مجموعہ میں آٹھ افسانے ہیں۔
  • "افسانے اور ڈرامے” انیس سو ترتالیس (1943)  میں شائع ہوا  جس میں سات افسانے ہیں۔
  • "لذت سنگ” انیس سو سنتالیس (1947) میں شائع ہوا جس میں تین افسانے ہیں۔
  • "سیاہ حاشیے”  1948 میں شائع ہوا جس میں اکتیس 31 افسانےہیں۔
  • "چغد”1948 میں شائع ہوا جس میں نو 9 افسانے ہیں۔
  • "ٹھنڈا گوشت” 1950 میں شائع ہوا جس میں آٹھ  افسانے ہیں۔ٹھنڈا گوشت قیام پاکستان کے بعد منٹو کا پہلا افسانہ تھا اور جس پر فحاشی کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا۔
  • رحمت مہردرخشاں  کے عنوان سے اس مقدمے کی روداد بھی اس مجموعے میں شامل ہے۔اس مجموعے میں شامل افسانوں کی تعداد آٹھ ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔ٹھنڈا گوشت، گولی، رحمت خداوندی کے پھول، ساڑھے تین آنے، پیرن، خورشیٹ، باسط اور شاردا۔
  • "خالی بوتلیں خال ڈبے "1950 میں شائع ہوا جس میں تیرہ افسانے ہیں۔
  • "بادشاہت کا خاتمہ” 1951عیسوی میں شائع ہوا جس میں گیارہ افسانے ہیں۔
  • "یزید ” 1951میں شائع ہوا جس میں نو افسانے ہیں۔
  • "نمرودکی خدائی”  1952میں شائع ہواجس میں بارہ افسانے ہیں۔
  • "سڑک کے کنارے "1953 میں شائع ہوا جس میں گیارہ افسانے ہیں۔
  • "سرکنڈوں کے پیچھے "میں تیرہ افسانے 1953 میں شائع ہوا۔
  • "پھندنے "1954 میں شائع ہوا جس میں گیارہ افسانے ہیں۔افسانہ پھندنے کو ایک نئے تجربے سے موسوم کیا گیا ہے۔
  • "بغیر اجازت” 1955 عیسوی میں شائع ہوا جس میں گیارہ افسانے ہیں۔
  • "برقعے” 1955عیسوی میں شائع ہوا  جس میں گیارہ افسانے ہیں۔
  • "شکاری عورتیں”1956 میں شائع ہوا جس میں بارہ افسانے ہیں۔
  • "رتی ماشہ تولہ”1956 میں شائع ہوا جس میں دس افسانے ہیں۔

اس کے علاوہ انارکلی، شیطان ،طاحرہ سے
طاحر، مینابازار، بانجھ، کالی شلوار، بڈھاکھوسٹ
وغیرہ ان کے افسانوی مجموعے ہیں۔

منٹو کے جن افسانوں پر مقدمہ چلا وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ دھواں، کالی شلوار، بو، ٹھنڈا گوشت، اوپر نیچے اور درمیان۔

تقسیم ہند کے موضوع پر منٹو کے بہترین افسانے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ،  موذیل، ٹھنڈا گوشت، سہائے، رام کھلاون، یزید، لہر نام کور، ڈارلنگ، عزت کے لیے، وہ لڑکی۔

طنزومزاح کے مجموعے

منٹو کے مضامین ، تلخ ترش شیریں اوپر نیچے اور درمیان۔

ڈراموں کے مجموعے۔

آو، منٹو کے ڈرامے، جنازے ،تین عورتیں، افسانےاورڈرامے کروٹ، شیطان۔

منٹو نے صرف ایک ناول لکھا جس کا نام” بغیر عنوان کے” ہے جو 1954 میں شائع ہوا۔

منٹو کے خاکوں کے مجموعے۔

"گنجے فرشتے "1952،”لاوڈ اسپیکر "1955اور” شخصیتں’ 1956۔

منٹو سے متعلق چند اہم باتیں۔

  • منٹو کا پہلا افسانہ تماشہ ہے۔
  • منٹو کا پہلا افسانوی مجموعہ آتش پارے ہے۔
  • منٹو نے بائیس شخصیتوں پرخاکےلکھے۔
  • منٹو کے ریڈیائی ڈراموں کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔

منٹو کے بہترین افسانے

کالی شلوار ،میرا نام رادھا ہے، شاردا، یزید، انجام بخیر ، ٹھنڈا گوشت، بو ،بابوگوپی ناتھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، موذیل، خوشیا، جانکی، دھواں، شانتی، بلاؤز، چغد وغیرہ۔

Quiz On Saadat Hasan Manto

سعادت حسن منٹو 1

Written By

Jafar Ali Khan

Close