سعادت حسن منٹو کے اقوال

  • جب عاشق کے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں تو وہ چومنا شروع کردیتا ہے۔
  • میں اس معاشرے کا حصہ ہوں جہاں ہم آئینے کا سامنا صرف شکل دیکھنے کے لئے کرتے ہیں.
  • ہمارا معاشرہ ایک عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے مگر تانگہ چلانے کی نہیں۔۔۔۔۔۔۔‌!
  • ہیرا منڈی ایک ایسا اندھا کنواں ہے جس کو دنیا بھر کے سیٹھ مل کر بھی اپنی دولت سے نہیں بھر سکتے۔
  • ہر حسین چیز انسان کے دل میں اپنی وقعت پیدا کر دیتی ہے خواہ انسان غیر تربیت یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔
  • جسم داغا جاسکتا ہے لیکن روح نہیں داغی جا سکتی۔
  • خالی پیٹ کا مذہب روٹی ہوتا ہے.
  • جس طرح بعض بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں اور کمزور رہتے ہیں اسی طرح وہ محبت بھی کمزور رہتی ہے جو وقت سے پہلے جنم لے۔
  • عورتیں کتنی ظالم ہوتی ہیں۔خاص طور پر بوڑھی۔زخم تازہ ہوں یا پرانے کیا مزے لے لے کر کریدتی ہیں۔
  • عشق ایک مرض ہے اور جب تک طول نہ پکڑے مرض نہیں ہوتا، محض ایک مذاق ہوتا ہے۔
  • مجھے ہمیشہ آج سے غرض رہی ہے، گزرے ہوئے کل یا آنے والے کل کے متعلق میں نے کبھی نہیں سوچا، جو ہونا تھا ہو گیا جو ہونے والا ہے ہوجائے گا۔
  • میں عشق کے بارے میں سوچتا ہوں تو صرف شہوانیت ہی نظر آتی ہے۔ عورت کو شہوانیت سے الگ کرکے دیکھتا ہوں تو پتھر کی مورت رہ جاتی ہے۔
  • دنیا کی جتنی لعنتیں ہیں بھوک اس کی ماں ہے۔ یہ بھوک گداگری سکھاتی ہے، جرائم کی ترغیب دیتی ہے، عصمت فروشی پر مجبور کرتی ہے۔
  • چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہوسکتی۔ میری ہیروئن چکلے کی ایک رنڈی ہوسکتی ہے جو رات کو جاگتی ہے اور دن کو سونے میں کبھی کبھی یہ ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آیا ہے۔
  • میں غلاظت کو چھپاتا نہیں بلکہ اسے صاف کرتا ہوں۔
  • زمانے کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔
  • اگر ویشیہ کا ذکر فحش ہے تو اس کا وجود بھی فحش ہے، اگر اس کا ذکر ممنوع ہے تو اس کا پیشہ بھی ممنوع ہونا چاہیے۔وشیہ کے پیشے کو مٹائیے اس کا وجود خود بخود مٹ جائے گا۔
  • جو چیز ہے اس کو من و عن کیوں نہیں پیش کیا جائے۔ٹاٹ کو اطلس کیوں بنایا جائے۔غلاظت کے ڈھیر کو عود و عنبر کے انبار میں کیوں تبدیل کیا جائے۔حقیقت سے انحراف کیا ہمیں بہتر انسان بننے میں ممدو و معاون ہوسکتا ہے؟
  • انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آ ہی جایا کرتے ہیں جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ ان کو بسر کرنے کے لئے سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ ان کو گزر جانے دیا جائے۔
  • مرد کی قربت بھی عورت کے حسن کے لیے کتنی ضروری ھوتی ھے۔
  • انسان کی خواہشات بالکل بلبلوں کے مانند ہوتی ہیں جو معلوم نہیں کیوں پیدا ہوتے ہیں اور کیوں پھٹ کر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔
  • جو چیز معلوم نہ ہو اس کو معلوم کرنے کی خواہش شاید ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔
  • میں اکثر سوچتا ہوں کے دردمندی کے اس جذبے نے مجھے کیسے کیسے دکھ پہنچائے ہیں۔
  • ہر عادت پک کر طبیعت بن جاتی ہے اور یہ ایک خوفناک چیز ہے.



Close