• کتاب”دور پاس” برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر01:نظم
  • شاعر کا نام: الطاف حسین حالی
  • نظم کا نام: ساری دنیا کے مالک

نظم ساری دنیا کے مالک کی تشریح

اے ساری دنیا کے مالک
راجا اور پر جا کے مالک
سب سے انوکھے، سب سے نرالے
آنکھ سے اوجھل، دل کے اجالے

یہ اشعار الطاف حسین حالی کی نظم ساری دنیا کے مالک سے لیے گئے ہیں۔ اس بند میں شاعر اللہ تعالیٰ کی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ کی ذات اس ساری کائنات کی مالک ہے۔اللہ کی ذات یہاں کے راجا اور پر جاؤں کی بھی مالک ہے۔اللہ پاک کی ذات سب سے انوکھی اور نرالی ہے کیوں کہ وہ واحد و لا شریک ہے۔بلا شبہ وہ ذات سب کے سامنے موجود نہیں ہے مگر آنکھ سے اوجھل ہوتے ہوئے بھی وہ ذات سب کے دلوں کو روشن کیے ہوئے ہے۔

ناؤجگت کی کھینے والے
دکھ میں سہارا دینے والے
جوت ہے تیری جل اور تھل میں
باس ہے تیری پھول اور پھل میں

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی وہ ذات ہے ہے جو ساری دنیا کی ناؤ چلانے والا ہے یعنی یہ ذات اس دنیا کو چلانے کا محرک ہے اس کے سوا کچھ ممکن نہیں ہے۔دکھ میں بھی انسان کا واحد سہارا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ جل اور یا تھل دونوں جگہوں پر اللہ کی ذات روشنی کا واحد ذریعہ ہے۔اسی پاک ذات کی خوشبو اور احساس ہر پھول پھل میں پایا جاتا ہے۔

Advertisement
ہر دل میں ہے تیرا بسیرا
تو پاس اور گھر دور ہے تیرا
تو ہےاکیلوں کا رکھوالا
توہے اندھیرے گھر کا اجالا ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اے اللہ تیری پاک ذات کا بسیرا ہر انسان کے دل میں ہے۔اللہ کی ذات بلا شبہ انسان کی دسترس سے دور لیکن وہ انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے اس کے دل میں گھر کیے ہوئے ہے۔اے اللّٰہ تو ہی اکیلے لوگوں کا رکھوالا بھی ہے اور تیری ذات کے ہی سبب اندھیرے گھروں میں روشنی بھی ہے۔

بے آسوں کی آس تو ہی ہے
جاگتے سوتے پاس تو ہی ہے
سوچ میں دل بہلانے والے
بپتا میں کام آنے والے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ بے آسرا اور بے سہارا لوگوں کی ہر امید بھی اللہ کی ذات ہے۔سوتے اور جاگتے دونوں میں اسی ذات کا احساس انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔کسی بھی تکلیف میں وہی ذات انسان کے ساتھ ہوتی ہے۔کسی بھی مصیبت میں صرف یہی ذات انسان کے ساتھ ہوتی ہے۔اس کا دل بہلاتی ہے۔

ہلتےہیں پتے تیرے ہلاۓ ،
کھلتی ہیں کلیاں تیرے کھلاۓ
تو ہی ڈبوے، تو ہی تراۓ
توہی بیڑا پار لگاۓ

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ یہ پوری کائنات صرف اللہ کی مرضی کی پابند ہے اس کی مرضی کے بنا ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا ہے۔کلیاں بھی اس کی مرضی سے کھلتی ہیں۔صرف وہی ذات ہے جو انسان کو ڈبو بھی سکتی ہے یعنی کسی مشکل سے دوچار کر سکتی ہے اور وہی ذات اسے مشکل سے نکال بھی سکتی ہے۔اللہ کی ذات عظیم ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

ساری دنیا کا مالک کسے کہا گیا ہے؟

ساری دنیا کا مالک اللہ تعالیٰ کی ذات کو کہا گیا ہے۔

پہلے، تیسرے اور چوتھے شعر میں دنیا کے مالک کی کون کون سی خوبیاں بیان کی گئی ہیں؟

پہلے شعر میں دنیا کے مالک کی جو خوبیاں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ دلوں میں اجالا کرنے والی ذات ہے۔وہ سب راجا پر جا کا مالک ہے۔ جبکہ تیسرے بند میں اسے جل میں تھل کر ے والی اور سب کی ناؤ پار لگانے والی ذات کہا گیا ہے۔ چوتھے بند میں شاعر نے اللہ کی ذات کو بے آسوں کی آس کہہ کر مخاطب کیا ہے۔

تو پاس اور گھر دو ر ہے تیرا سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

اس سے مراد ہے کہ اللہ کی ذات انسان کے پاس ہے۔وہ انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اس کا گھر دور ہے لیکن اس نے انسان کے دل میں گھر کیا ہوا ہے۔

بیڑا پار لگانے کا مطلب کیا ہے؟

بیڑا پار لگانے سے مراد مشکل سے نکالنا ہے۔

تو ہے اندھیرے گھر کا اجالا یہاں تو سے کس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟

اس میں اللہ کی ذات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسی کی ذات سے اندھیرے گھروں میں اجالا ممکن ہے۔

نیچے دیے ہوۓ لفظوں سے جملے بنائے:

مالکاللہ تعالیٰ کی ذات ہم سب کی مالک و خالق ہے۔
بسیراپرندے درختوں پربسیرا کرتے ہیں۔
ناؤبدقسمت انسان کی ناؤ بمشکل کنارے لگتی ہے۔
رکھوالااللہ ہم سب کا رکھوالا ہے۔

نظم کے مطابق صحیح جوڑ ملا کرلکھیے:

حصہ الف:
سب سے انوکھے، سب سے نرالے سے
جوت ہے تیری جل اور نقل میں
بے آسوں کی آس تو ہی ہے
ہتے کے ہیں پتے تیرے ہلاۓ
حصہ ب:
جاگتے سوتے پاس تو ہی ہے
کھلتی ہیں کلیاں تیرے کھلاۓ
باس ہے تیری پھول اور پھل میں
آنکھ سے اوجھل، دل کے اجالے

حصہ ج:

بے آسوں کی آس تو ہی ہے
جاگتے سوتے پاس تو ہی ہے
جوت ہے تیری جل اور تھل میں
باس ہے تیری پھول اور پھل میں
سب سے انوکھے، سب سے نرالے
آنکھ سے اوجھل، دل کے اجالے
ہلتےہیں پتے تیرے ہلاۓ ،
کھلتی ہیں کلیاں تیرے کھلائے۔

راجا اور پر جا کے مالک اس مصرعے میں دو لفظ آۓ ہیں راجا اور پر جا’ یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے متضاد ( الٹے ) ہیں۔

نظم کے ان مصرعوں کولکھیے جن میں متضاد الفاظ استعمال ہوۓ ہیں۔

تو پاس اور گھر دور ہے تیرا
توہے اندھیرے گھر کا اجالا ہے
تو ہی ڈبوے، تو ہی تراۓ
بے آسوں کی آس تو ہی ہے
تو پاس اور گھر دور ہے تیرا