Advertisement

تم رات لکھو ہم چاند لکھیں گے
تم جیل میں ڈالو ہم دیوار پھاند لکھیں گے
تم FIR لکھو ہم تیار ہیں لکھیں گے
تم ہمیں قتل کر دو ہم بن کے بھوت لکھیں گے
تمہارے قتل کے سارے ثبوت لکھیں گے
تم عدالتوں سے بیٹھ کر چٹکلے لکھو
ہم سڑکوں، دیواروں پہ انصاف لکھیں گے
بہرے بھی سن کے اتنی زور سے بولیں گے
اندھے بھی پڑھ لیں اتنا انصاف لکھیں گے
تم کالا کمل لکھو ہم لال گلاب لکھیں گے
تم زمین پہ ظلم لکھ دو آسماں پہ انقلاب لکھا جائے گا

Advertisement

سب یاد رکھا جائے گا سب کچھ یاد رکھا جائے گا

Advertisement

تمہاری لاٹھیوں اور گولیوں سے قتل ہوئے ہیں جو میرے یار سب
ان کی یاد میں دلوں کو برباد رکھا جائے گا

Advertisement

سب یاد رکھا جائے گا سب کچھ یاد رکھا جائے گا

تم سیاحیوں سے جھوٹ لکھو گے ہمیں معلوم ہے
ہو ہمارے خون سے ہی ہو سچ ضرور لکھا جائے گا
سب یاد رکھا جائے گا سب کچھ یاد رکھا جائے گا

Advertisement

موبائل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ بھری دوپہر میں بند کر کے
سرد اندھیری رات میں پورے شہر کو نظر بند کر کے
ہتھوڑیاں لے کر دفعتاً میرے گھر میں گھس آنا
میرا سر بدن مری مختصر سی زندگی کو توڑ جانا
میرے لخت جگر کو بیچ چوراہے پہ مار کر
یوں بے انداز جھنڈ میں کھڑے ہو کر
تمہارا مسکرانا سب یاد رکھا جائے گا

سب یاد رکھا جائے گا سب کچھ یاد رکھا جائے گا

Advertisement

دن میں میٹھی میٹھی باتیں کرنا سامنے سے
سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے ہر زبان میں تتلانا
رات ہوتے ہی حق مانگ رہے لوگوں پہ
لاٹھیاں چلانا، گولیاں چلانا
ہمیں پہ حملہ کر کے ہمیں کو حملہ ور بتانا
سب یاد رکھا جائے سب کچھ یاد رکھا جائے گا

میں اپنی ہڈیوں پہ لکھ کر رکھوں گا یہ سارے واردات
تم جو مانگتے ہو مجھ سے میرے ہونے کے کاغذات
اپنی ہستی کا تم کو ثبوت ضرور دیا جائے گا
یہ جنگ تمہاری آخری سانس تک لڑی جائے گی
سب یاد رکھا جائے گا سب کچھ یاد رکھا جائے گا

Advertisement

کس طرح سے تم نے وطن کو توڑنے کی سازشیں کیں
یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ کس جتن سے
ہم نے وطن کو جوڑنے کی خواہشیں کیں
یہ بھی یاد رکھا جائے گا سب یاد رکھا جائے گا

جب کبھی بھی ذکر آئے گا جہاں میں دور بزدل کا
تمہارا کام یاد رکھا جائے گا
جب کبھی بھی ذکر آئے گا جہاں میں طور زندگی کا
ہمارا نام یاد رکھا جائے گا
کچھ لوگ تھے جن کے ارادے ٹوٹے نہیں تھے
لوہے کی ہتھوڑیوں سے
کہ کچھ لوگ تھے جن کے ضمیر بکے نہیں تھے
ازار داروں کی کوڑیوں سے
کہ کچھ لوگ تھے جو ڈھٹے رہے تھے
طوفان نوح کے گزر جانے کے بعد تک
کہ کچھ لوگ تھے جو زندہ رہے تھے
اپنی موت کی خبر آنے کے بعد تک
بھلے بھول جائے پلک آنکھوں کو مونڈھنا
بھلے بھول جائے زمین اپنی دھوری پہ گھومنا
ہمارے کٹے پروں کی پرواز کو
ہمارے پھٹے گلوں کی آواز کو یاد رکھا جائے گا

Advertisement

تو تم زمین پہ ظلم لکھ دو آسماں پہ انقلاب لکھا جائے گا
سب یاد رکھا جائے گا سب کچھ یاد رکھا جائے گا
تاکہ تمہارے نام پر تاعمر لعنتیں بھیجیں جاسکیں
تاکہ تمہارے مجسموں پر کالخیں پوتی جاسکیں
تمہارے نام تمہارے مجسموں کو آباد رکھا جائے گا
سب یاد رکھا جائے گا سب کچھ یاد رکھا جائے

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement