• کتاب”دور پاس” برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر17:کہانی
  • سبق کا نام: محنت کی عظمت

خلاصہ سبق:

بازار میں تمام دوکانیں سجی ہوئی تھیں۔ ایک طرف چھوٹی سی گھڑیوں کی دوکان تھی۔یوسف دوکان میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔یوسف کے استاد اس کے پاس کھڑے باتیں کررہے تھے۔استاد نے یوسف سے کہا کہ میں نے پرانی کھڑی مرمت کے کیے بھیجی تھی تم نے ساتھ میں نئی کھڑی کیوں بھیجی۔ یوسف نے استاد صاحب سے کہا کہ استاد صاحب میں جب سے آپ کےپاس پڑھتا تھا اس وقت سے آپ کے پاس ایک ہی گھڑی دیکھتا آ رہا تھا۔ جب آپ کی پرانی گھڑی مرمت کے لیے آئی تو اس نے ساتھ میں نے ایک نئی گھڑی بھیجی۔

استاد صاحب نے کہا کہ میں آپ کے جذبے کی قدر کرتا ہوں میں یہ گھڑی رکھ کوں گا لیکن اس کی قیمت ادا کروں گا۔ یوسف نے کہا کہ یہ گھڑی میری طرف سے تحفہ سمجھ کر رکھ لیں۔ لیکن استاد صاحب نے قیمت ادا کیے بنا گھڑی نہ لی۔ استاد کے جانے کے بعد یوسف کی دوکان پر گڈو نامی لڑکا بھیک مانگنے کے لیے آیا۔ یوسف نے گڈو کو محنت مزدوری کرنے کا کہا اور بہن بھائیوں کے نام پر جھوٹ بول کر مانگنے سے منع کیا۔

Advertisement

گڈو کہنے لگا کہ میرے ساتھ چل کر دیکھ لیں میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ جیسے ہی یوسف گڈو کے ساتھ جانے لگا یوسف کی بیساکھی دیکھ کر گڈو کو احساس ہوا کہ وہ بھیگ مانگ کر غلط کر رہا ہے۔اسے محنت کرنی چاہیے۔ گڈو کے قدم رک گئے یوسف کے پوچھنے پر وہ کہنے لگا کہ آپ نے مجھے بہت کچھ دے دیا ہے کیوں کہ یوسف کو بیساکھی کے سہارے چلتا دیکھ کر اس کے اندر احساس ندامت جاگا۔

سوچیے اور بتایئے:

یوسف نے اپنے استاد کوئی گھڑی کیوں بھیجی؟

یوسف جب سے استاد صاحب کے پاس پڑھتا تھا اس وقت سے ان کے پاس ایک ہی گھڑی دیکھتا آ رہا تھا۔ جب استاد صاحب کی پرانی گھڑی مرمت کے لیے آئی تو اس نے ساتھ میں ایک نئی گھڑی بھیجی۔

ماسٹر صاحب سے گھڑی کی قیمت کی بات سن کر یوسف نے کیا کہا؟

ماسٹر صاحب نے یوسف سے کہا کہ گھڑی کی قیمت تو اسے لینی ہوگی وہ یوں انکار نہیں کر سکتا۔

یوسف کی دکان پر گڈو کیوں آیا تھا؟ یوسف نے گڈو سے کیا کہا تھا ؟

یوسف کی دوکان پر گڈو نامی لڑکا بھیک مانگنے کے لیے آیا۔ یوسف نے گڈو کو محنت مزدوری کرنے کا کہا اور بہن بھائیوں کے نام پر جھوٹ بول کر مانگنے سے منع کیا۔

پیسا بھی دیکھ کر گڈو کو کیا احساس ہوا؟

بیساکھی دیکھ کر گڈو کو احساس ہوا کہ وہ بھیگ مانگ کر غلط کر رہا ہے۔اسے محنت کرنی چاہیے۔

” آپ نے مجھے بہت کچھ دے دیا گڈو نے یہ کیوں کہا؟

گڈو نے یہ بات اس لیے کہی کہ آپ نے مجھے بہت کچھ دے دیا ہے کیوں کہ یوسف کو بیساکھی کے سہارے چلتا دیکھ کر اس کے اندر احساس ندامت جاگا۔

آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ لفظ جو اسم کی جگہ استعمال ہوا سے ضمیر کہتے ہیں ۔

نیچے دیے ہوئے جملوں میں مناسب ضمیریں بھریے:

  • میں نے تو تمھیں اپنی پرانی گھڑی مرمت کے لیے دی تھی ۔ بہت خوب ! میں اس جذ بے کی قدر کرتا ہوں ۔اسے آپ اپنے شاگرد کی طرف سے ایک تحفہ سمجھ کر رکھ لیجیے ۔ آپ کو اگر یقین نہ ہو تو میرے ساتھ چلیے۔ میرا گھر قریب ہی ہے۔ آپ خود جاکر دیکھ لیں گے۔

نیچے لکھے لفظوں سے جملے بنائیے۔

بازارہم عید کی خریداری کے لیے بازار گئے۔
شاگردمیرے تمام شاگرد بہت ذہین ہیں۔
قیمتاس گھڑی کی کیا قیمت کیا ہے؟
یقینپختہ یقین کبھی متزلزل نہیں ہوتا۔
بیساکھییوسف بیساکھی کے سہارے چلتا تھا۔

آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ لفظ جس سے کسی اسم کی اچھائی ، برائی یا خصوصیت ظاہر ہو اسے صفت کہتے ہیں۔ نیچے لکھے ہوۓ لفظوں سے صفت کو الگ کر کے لکھیے۔

ہٹا کٹا نوجوان ہٹا کٹا
چھوٹے بھائی بہن چھوٹے
چھوٹی سی دکان چھوٹی سی
پرانی گھڑی پرانی
نئی گھڑی نئی