سفر نامہ کی تعریف

اردو میں داستانوی سفر ناموں کی روایت عام تھی۔ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد سفر ناموں میں حقائق پر مبنی واقعات، تجربات، مشاہدات اور چشم دید مناظر کا ذکر کیا جانے لگا۔بادشاہوں کے خاص مقرر بین نے روز نامچوں اور ڈائریوں کی شکل میں سفرنامے لکھے۔ روایتی قصے کہانیوں سے گریز کرتے ہوئے حقائق کی پیشکشی کی وجہ سے ‘سفرنامہ’ کو غیر افسانوی صنفی ادب میں خاص اہمیت حاصل ہوئی۔

تجارت، حصول علم، تبلیغ دین، جہابانی سیاسی مقاصد، تلاش معاش، مقامات مقدسہ کی زیارت اور اس نوعیت کے کتنے ہی مقاصد ہیں جن کے لئے انسان سفر کرتا رہا اور سفر نامے تحریر کرتا رہا ہے۔

اردو میں سفرنامے کی روایت کا آغاز 1847ء میں ہوا جب محمد یوسف خان کمبل پوش نے "عجائبات فرنگ” لکھی۔اس کتاب میں سفر انگلستان کے دلچسپ حالات بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد سر سید احمد خان نے ‘مسافران لندن’ اور شبلی نعمانی نے ‘سفر نامہ مصر روم و شام’ تحریر کیا جنھیں اردو کے ابتدائی سفر ناموں کا موقف حاصل ہے۔ سفرناموں میں داستان کی داستان طرازی، ناول کی فسانہ طرازی، افسانے کی چونکا دینے والی کیفیتیں اور ڈرامہ کی منظر کشی ملتی ہے یعنی فکشن کی تمام اصناف کے اوصاف سفرناموں میں ملتے ہیں۔

کرنل محمد خان کی خودنوشت سوانح "بجنگ آمد” سفرنامے کے انداز پر لکھی گئی۔ جدیدترین سفرناموں کا رحجان شگفتہ بیانی سے عبارت ہے۔ آج کے سفرنامے گائیڈ نہیں بلکہ ادب اور سیاحت کا حسین ترین اظہار بن گئے ہیں۔ ابن انشا، ممتاز مفتی، مستنصر حسین تاڑر، مجتبی حسین اور یوسف ناظم کے سفرنامے بہت مشہور ہیں۔

Close