تعارف

ممتاز و معتبر افسانہ نگار سلام بِن رزّاق ۵نومبر ۱۹۴۱ء کو پنویل (مہاراشٹر) میں پیدا ہوئے۔ ۷ برس کی عمر میں مکمل قرآن شریف پڑھ لیا۔ وہیں پر مولوی صاحب کے زیرِ نگرانی اردو سیکھنے کے عمل کی ابتداء بھی ہو گئی۔ آپ کی والدہ محلے کی عورتوں کو ہر جمعرات کو اسلامی قصہ و تاریخ سناتیں، جس سے سلام صاحب بچپن سے ہی کہانیاں سننے کے شوقین بن گئے۔

ادبی زندگی

اول تو وہ شاعری کے شوق کے ساتھ ابھرے مگر بعد از انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ شاعری ان کے انداز بیان کے لیے معقول نہیں۔
ان کے افسانے بےآواز اور پسماندگان کی آواز جانے جاتے ہیں۔
وہ ۱۹۶۰ میں ہائی اسکول سے فارغ ہوئے اور ان کی پہلی مختصر کہانی دو سال بعد ادبی رسالہ ‘شاذر’ میں شائع ہوئی۔ وہ تین افسانوی مجموعوں کے مصنف ہیں ، دو اردو میں اور ایک ہندی میں؛ انہوں نے مراٹھی افسانے کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ اس وقت وہ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے لئے گذشتہ پچیس سالوں سے مراٹھی تحریر کی دو جلدوں کے مجموعے کا انتخاب اور ترجمہ کررہے ہیں۔ وہ ممبئی میں رہتے ہیں ، جہاں وہ میونسپل کارپوریشن کے زیرِ انتظام اسکول میں پڑھاتے ہیں۔

ادبی خدمات

بی ایم سی کے شعبۂ درس وتدریس میں۳۶؍سال وابستگی کے بعد ۱۹۹۹ء میں سبکدوش ہوئے۔ افسانے، ترجمے بچوں کے ادب پر مشتمل ان کی اب تک ۱۴ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔

اعزازات

  • سا ہتیہ اکیڈمی ایوارڈ برائے تخلیقی ادب اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ برائے ترجمہ جیسے گراں قدر اعزازات کے علاوہ:
  • مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی ،
  • اترپردیش اردو اکیڈمی
  • بہار اردو اکیڈمی ایوارڈز
  • اور کتھا ایوارڈ سے نوازے جاچکے ہیں۔
  • مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کی جانب سے آپ کو ’سنت گیا نیشور‘ قومی ایوارڈ
  • اور غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی کی جانب سے ’غالب ایوارڈ ‘ سے بھی نوازا گیا ہے۔

ان کے کئی افسانوں کے ہندی، مراٹھی، تیلگو، پنجابی کے علاوہ انگریزی، روسی، ازبک، جرمنی اور نارویجن زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں۔ انھوں نے پانچ ٹیلی فلمیں اور تین فیچر فلمیں بھی تحریر کی ہیں۔ اس وقت وہ مہاراشٹر اردو رائٹرس گِلڈ کے صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تصنیفات

ان کے چوتھے افسانوی مجموعے ’زندگی افسانہ نہیں‘ کے بعد حال ہی میں شخصیات پر مشتمل مجموعہ ’تذکرے‘ منظر عام پر آیا ہے۔ شیخ عبد السلام عبد الرزاق اپنے قلمی نام کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ سلام بن رزاق ممبئی میں مقیم اردو اور ہندی زبان میں افسانے کے مصنف اور ممتاز مترجم ہیں۔ ان کی مضمون نگاری میں بہت ساری یاداشتیں پڑھنے کو ملتی ہیں جن میں راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی ، علی سردار جعفری قابل ذکر ہیں۔

تقریر

انھوں نے ایک پروگرام کی اختتامیہ تقریر کو لپیٹتے ہوئے نوجوانوں سے کہا "میں بہت متاثر ہوا ہوں۔۔ آپ سب اتنے جوان ہیں۔۔آپ کے پاس اور بھی بہت سے آپشنز ہیں، آپ کسی مال میں ہوسکتے ہیں ، یا جدید فلم دیکھ سکتے ہیں ، لیکن اس کے بجائے آپ یہاں سننے کے لئے ہیں، صرف سننے کے لئے، اردو کہانیاں پڑھ رہے ہیں! اس سے مجھے مثبت مستقبل پر یقین آتا ہے۔ "

ان کی عمر تقریباً ۸۰ سال ہے اور وہ آج بھی ہمارے درمیان موجود و حیات ہیں۔