صلاة التسبیح کا حدیث میں بڑا ثواب منقول ہے، اس کے پڑھنے سے بے انتہا ثواب ملتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ عیلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس کو یہ نماز سکھائی تھی، اور فرمایا تھا کہ اس کے پڑھنے سے تمہارے تمام گناہ اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے غلطی سے کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے، چھپ کر کئے ہوئے اور کھلم کھلا کئے ہوئے سبھی گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردے گا۔ اور فرمایا کہ اگر ہوسکے تو یہ نماز روزانہ پڑھ لیا کرو اور اگر نہ ہوسکے تو ہرہفتہ میں ایک بار پڑھ لیا کرو، یہ نہ ہوسکے تو مہینہ میں ایک بار پڑھ لیا کرو، یہ بھی نہ ہوسکے تو سال بھر میں ایک دفعہ پڑھ لیا کرو، اور ا گر یہ بھی نہ ہوسکے تو کم ازکم زندگی بھر میں ایک بار ضرور پڑھ لو۔ اگر کوئی مصائب دور کرنے یا حاجت کے لیے پڑھے تو امید ہے کہ اس کو مقصد میں کامیابی ملے۔

(۳) صلاة التسبیح کے جو طریقے ہیں وہ لکھے جاتے ہیں آپ غور سے اس کا مطالعہ کرلیں;

پہلا طریقہ

طریقہ نمبر: ۱۔ چار رکعت کی نیت باندھ کر ثنا اعوذ باللہ بسم اللہ اور قرأت کے بعد رکوع سے پہلے پندرہ مرتبہ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ پڑھ کر رکوع کرے اور رکوع میں تین مرتبہ سبحان ربی العظیم کہنے کے بعد پھر یہی تسبیح دس مرتبہ پڑھے پھر رکوع سے اٹھے اور سمع اللہ حمدہ اور ربنا لک الحمد کے بعد قومہ میں دس بار پڑھے پھر سجدہ میں جاکر سبحان ربی الاعلی تین بار پڑھنے کے بعد دس مرتبہ وہی تسبیح پڑھے پھر سجدہ سے اٹھ کر دس بار وہی تسبیح پڑھے پھر سجدہٴ ثانیہ میں اسی طرح دس مرتبہ پڑھے۔ پھر سجدہ سے سراٹھاکر اللہ اکبر کہہ کر بیٹھے اور دس مرتبہ پڑھ کر بغیر اللہ اکبر کہے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے، تو اس طرح ایک رکعت میں ۷۵/ مرتبہ ہوگئے اور اسی طرح دوسری رکعت پڑھ کر جب التحیات کے لیے بیٹھے، تو اولاً دس مرتبہ پڑھے پھر التحیات پڑھے اسی طرح چاروں رکعتیں پوری کرلیا کریں، یہ کل ۳۰۰ مرتبہ ہوگئے۔

طریقہ نمبر:۲

نیت باندھ کر ثنا کے بعد پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے، پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ اور قرأت کے بعد رکوع سے پہلے دس مرتبہ، پھر رکوع میں دس مرتبہ، پھر رکوع سے کھڑے ہوکر دس مرتبہ، پھر سجدہ میں دس مرتبہ پھر سجدہ سے اٹھ کر دس مرتبہ پھر سجدہٴ ثانیہ میں دس مرتبہ پڑھ کر بغیر بیٹھے اللہ اکبر کہہ کر کھڑا ہوجائے تو ایک رکعت ۷۵/ مرتبہ ہوگئے، اسی طرح چاروں رکعت پوری کرے۔ کل ۳۰۰ مرتبہ ہوجائیں گے، یہ طریقہ عام لوگوں کے لیے آسان ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔

Advertisements