صنعت جمع

کلام میں جب کچھ چیزیں ایک حکم میں جمع ہو جائیں اور پھر ہر ایک کو خصوصیت کے ساتھ منسوب کریں تو اس کو جمع تقسیم کہتے ہیں۔ مثال ملاحظہ ہو۔

رنج، راحت، غم، خوشی کچھ بھی نہیں
جز فریب آگہی کچھ بھی نہیں

اس شعر میں پہلے مصرعے میں رنج، راحت، غم اور خوشی کو تقسیم کیا گیا ہے۔ پھر ہر ایک کو ایک خصوصیت "فریب آگہی” کے ساتھ جمع کر دیا گیا ہے۔

Close