مراعات النظیر

کلام میں ایسے الفاظ جمع کئے جائیں جن کے معنی میں ایک دوسرے کے ساتھ ایک نسبت واقع ہو لیکن یہ نسبت تضاد و تقابل کی نہ ہو مراعات النظیر کہلاتا ہے۔ مثلاً:

کہاں ہے ساقیئ محفل؟ کہاں ہیں جام و سبو؟
ہوئے عطر فشاں نغمہ بار ہے یارو!

اس شعر میں لفظ "ساقی، جام اور سبو” میں ایک دوسرے کے ساتھ ایک نسبت واقع ہے جو تضاد و تقابل کی نہیں ہے۔

ایک اور مثال ملاحظہ ہو

خط بڑھا، زلفیں بڑھیں، گیسو بڑھے، کاکل بڑھے
حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے

Close