صنائع لفظی کی اقسام


صنعت قلب

انسان کو انسان اس لئے کہتے ہیں کہ وہ جلد مانوس ہو جاتا ہے اور قلب کو قلب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ قلب کے لغوی معنی بدلنا کے ہیں۔ ‘انقلاب’ لفظ اسی سے مشتق ہے۔

اگر کسی لفظ کو الٹنے سے وہی لفظ دوبارہ بن جائے تو اسے صنعت قلب کہتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی لفظ کے حروف ادل بدل کر سارے کے سارے دوسرے میں آجائیں تو یہ سب تقلیب کی صورتیں ہیں۔اس کی تین صورتیں ہیں۔ جن میں قلب کل، قلب بعض اور قلب مستوی شامل ہیں۔ صنعت قلب کی ایک مثال دیکھتے ہیں۔

دنیا میں ہے خزانہ لڑائی کا گھر صدا
از رو غور گنج کو الٹو تو جنگ ہے

اس شعر میں لفظ "گنج” کو الٹنے پر لفظ جنگ بنتا ہے۔ لہذا اس شعر میں صنعت قلب کا استعمال ہوا ہے۔

Mock Test Dec. 2009 Paper

صنائع لفظی کی اقسام 1
Close