Advertisement

حالات زندگی

سید ابرار حسین نقوی مہنڈر قصبہ کے ایک علمی و ادبی اور جانے پہچانے سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی پیدائش 1984 میں ہوئی۔ان کے دادا مرحوم سید عبداللہ شاہ ولی خدا ترس اور اپنے وقت کے عارف تھے جن کا تعلق روحانیت سے تھا۔ اپنے علاقے میں دین داری اور ایمانداری میں ایک منفرد مقام حاصل تھا۔ دور دور سے لوگ ان کے پاس آ کر قرآن پاک اور دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان کی وفات سن 1962 میں ہوئی اور اس کے بعد ان کے والد سید عالم شاہ نے اپنے والد کے علمی سلسلے کو جاری رکھا جو کہ ایک نیک اور بزرگ شخص ہیں۔ جن کا تعلق کئی سماجی اور سیاسی تنظیموں سے رہا ہے۔

سید ابرار حسین نقوی جو کہ ایک مشہور پیشہ ور وکیل ہیں اور ادبی میدان میں بہت شوق رکھتے ہیں۔ انھیں اردو ادب سے بے انتہا محبت ہے۔ ابرار نقوی اردو شاعری سمجھنے کی قوت اور سننے کا شوق رکھتے ہیں اور اپنی انقلابی اور مذہبی شاعری سے اردو ادب کی بے مثال خدمت کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے ہی چچا کے پرائیویٹ اسکول مقدس اکیڈمی مہنڈر سے حاصل کی اور پھر میڈیکل سبجیکٹس میں بارہویں کا امتحان بھی وہیں سے پاس کیا۔ اس کے بعد آپ میر انیس، مرزا دبیر اور جوش ملیح آبادی کے شہر لکھنؤ چلے گئے جہاں سے انہوں نے بی اے لا کی ڈگری حاصل کی اور ایم اے سیاسیات میں کیا۔

موصوف اردو ادب کے مشہور و معروف شہر لکھنو میں آٹھ سال تک مقیم رہے جہاں پر مشاعروں میں شرکت کرتے رہے اور یہیں سے ادبی ذوق و شوق پیدا ہوا۔ 2012 میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس اپنے گھر آگئے۔ 2012 میں میں وکالت کے پیشے کا آغاز کیا اور مہنڈر سے پوچھ منتقل ہوگئے جہاں پر بحیثیت وکیل پہچان بنائی اور بہت کم عرصے میں وکلاء کی صف اول کی فہرست میں اپنا نام پیش کیا۔

شاعرانہ عظمت

سید ابرار نقوی کا جو تعلق ادبی دنیا سے شروع ہوا تھا اسے جاری رکھتے ہوئے شاعری کا آغاز کیا۔ ابرار نقوی نے 2007 میں اپنا پہلا کلام لکھنؤ کی ایک محفل میں قصیدہ کی شکل میں پیش کیا جس کو بہت سراہا گیا۔ یہ وہ کلام تھا جس نے انھیں اردو شاعری میں بہت جلد پہچان دلوائی اور لکھنو جیسے ادبی شہر میں بھی شعرا سے داد و تحسین حاصل کی۔ ان کی مذہبی اور انقلابی شاعری کی وجہ سے ان کا ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام ہے۔ ان کا پہلا کلام جس کے چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں؀

تلوار کی ہمت ٹوٹ گئی شبیر کا سجدہ باقی ہے
سب تعریفیں غرق ہوئیں عاشور کا قصہ باقی ہے

ہر وقت نہر فرات سے بس ایک صدا یہ آتی ہے
مر گئے پانی روکنے والے آج بھی پیاسا باقی ہے

اس منقبت کے بعد ابراہیم نقوی نعت، مرثیہ، قصیدہ، نظم، غزل اور منقبت جیسے کئی کلام لکھ چکے ہیں۔ ابرار نقوی ریاست جموں و کشمیر کے کئی مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں اور لکھنو میں محفلوں کی زینت بن چکے ہیں۔ مذہبی شاعری گو کہ ایک مشکل ترین عمل ہے مگر تاریخ اسلام پر پختہ دسترس اور مذہبی تعلیم اور حدیث پر گہرا مطالعہ ہونے کی وجہ سے موصوف مذہبی شاعری کو بہت خوبصورتی سے پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ابرار نقوی نے نعت گوئی میں بھی خوب نام کمایا ہے۔ نعتیہ کلام کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں؀

میرے مولا میری تقدیر کو اعلی کردے
نور احمد سے میرے گھر میں اجالا کر دے

مال دولت کی ضرورت نہیں مولا مجھ کو
مجھ کو سرکار کا بس چاہنے والا کر دے

شاہ لولاک کی مدحت کو اٹھایا ہے قلم
تو میری فکر کی پرواز دوبالا کردے

حسن یوسف کا طلبگار یہ ابرار نہیں
عشق سرکار دے چاہے مجھے کالا کر دے

سید ابرار حسین نقوی نے جو کہ نظم اور غزل کے میدان میں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوانے میں پیچھے نہیں رہے، ان کی ایک نظم جو سال 2015 کے ایک مشاعرے میں انہوں نے پیش کی، اس کے پڑھنے اور سننے کے بعد کچھ اہل ادب لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جوش ملیح آبادی اور علامہ اقبال کی شاعری کی جھلک عصر حاضر میں نظر آ رہی ہے جس میں نوجوانوں کو فکر اور تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

اس دور حوادث کے افکار بدل ڈالو
بچوں کے ذہن بدلو کردار بدل ڈالو

تہذیب و تمدن تعلیم نہ ہو جن میں
تم ایسے اداروں کے معمار بدل ڈالو

لکھتا ہو جو ظالم کو مظلوم کے زمرے میں
واجب ہے تم ایسے اخبار بدل ڈالو

رہنے سے جہاں عزت جانے کا اندیشہ ہو
وہ سارے گلی کوچے ابرارؔ بدل ڈالو

اس کے علاوہ سید ابرار حسین نقوی کی ایک اور نظم جو کہ منظر عام پر آنے کے بعد بے حد مشہور و معروف ہوئی جس میں انہوں نے امت مسلمہ پر ہونے والے مظالم کو مدنظر رکھتے ہوئے ظالم حکومت کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے؀

کچے ہیں اگر اب بھی مکانات ہمارے
پختہ ہیں بہت پھر بھی خیالات ہمارے

تم کو میسر ہیں سب آسائش دنیا
پوچھو نہ کیسے کٹتے ہیں دن رات ہمارے

افکار پہ تالے ہیں تو پابند زبان ہے
گھٹتے ہیں مگر سینے میں جذبات ہمارے

خود اشیاں ہی اپنا قفس ہے بنا ہوا
ابرار سنے کون یہ صدمات ہمارے

سید ابرار نقوی نے کئی طرحی مشاعرے میں شرکت کی جہاں پر وہ اپنے مخصوص لب و لہجے اور مخصوص انداز کی وجہ سے سامعین کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔

قصائد کی دنیا میں ابرار نقوی نے خوب نام کمایا ہے۔ ان کے قصائد میں جذبات اور احساسات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ مداح اھلبیت میں انہیں ایک الگ مقام حاصل ہے۔

عبث نمازیں فضول روزے اگر علی کی ولا نہیں ہے
نماذ جب علی نہ چھوڑے وگرنہ اس کی قضا نہیں ہے

حکیم لقمان سے لے کے اب تک طبیت سارے یہ کہہ رہے ہیں
مریض بغض علی ہے ایسا کہ جس کی کوئی دوا نہیں ہے

علی سے کینہ ہے دلمیس جس کے وہ کرے ابرار عمل بھی جتنے
نمازیں روزے وہ حج بھی کرے، بروز محشر شفا نہیں ہے

سید ابرار حسین نقوی نے کربلا کے حوالے سے جو اشعار کہے ہیں وہ ایک الگ ہی انداز میں کربلا کو بیان کرتے ہیں۔ مثلاً ان کا ایک شعر ہے جو روایات سے بالکل ہٹ کے ہے؀

او تم کرب و بلا میں یہ بھی منظر دیکھ لو
کیسے خنجر کا گلا کٹا ہے خون کی دھار سے

سید ابرار حسین نقوی ایک نوجوان شاعر ہیں جو کہ عصر حاضر میں اردو ادب کی خدمت نہایت ہی خلوص سے کر رہے ہیں۔ ظاہری شان و شوکت سے بے نیاز ہو کر خاموشی سے پس پردہ اپنی شاعری کو عروج کی بلندیوں تک لے گئے ہیں۔سید ابرار حسین نقوی کا شعری مجموعہ ”سرمایہ نجات“ کے نام سے اشاعت کے مراحل طے کر رہا ہے جو بہت جلد اہل ادب کے ہاتھوں میں ہوگا۔