شاد عظیم آبادی

سید علی محمد نام اور شاد تخلص تھا۔والد کا نام سید عباس مرزا تھا جو الہ آباد کے رہنے والے تھے اور چودہ پندرہ برس کی عمر میں عظیم آباد (پٹنہ) چلے گئے۔شاد عظیم آبادی پٹنہ میں 1846ء میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم عربی اور فارسی میں حاصل کی اور بعد میں کچھ عرصے تک انگریزی بھی پڑھی مگر یہ سلسلہ بعد میں منقطع ہوگیا۔شاد کی تربیت سرسیداحمدخان کی نگرانی میں ہوئی۔ان کی تعلیم وتربیت بڑے ہی ادبی ماحول میں انجام ہوئی۔ اپنی ذاتی قابلیت اور اچھے اساتذہ کی تربیت سے اردو، فارسی و عربی زبانوں کے ساتھ ساتھ مذہبی علوم اور فن شعر میں ایسی مہارت حاصل کی کہ ان کا شمار دور جدید کے اہل علم شعراء میں ہوتا ہے۔

اسلامی علوم کی تفصیل کے ساتھ ساتھ شاد نے عیسائیوں، پارسیوں اور ہندوؤں کی مذہبی کتابیں بھی پڑھی تھیں۔ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے 1891ء میں انہیں خان بہادر کا خطاب دیا۔شاد نے 32 سال تک اعلی اختیارات کے ساتھ آنریری مجسٹریٹ کے فرائض انجام دیے۔اور 14 سال تک حکومت کی طرف سے نامزد کردہ میونسپل کمشنر رہے انہیں سرکار کی طرف سے ایک ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ ملتا رہا۔شاد عظیم آباد میں پیدا ہوئے اس لیے شاد عظیم آبادی کہلائے۔ادبیات اور فنون شاعری کے لیے انھوں نے کئی اساتذہ کی شاگردگی اختیار کی۔لیکن شعری تربیت کی تکمیل سید الفت حسین فریاد کے ہاتھوں ہوئی۔شعر گوئی میں شاد کے یہاں لکھنو اور دہلی کا امتزاج پایا جاتا ہے۔شاد نے طویل عمر پائی اور ساری عمر شعر و ادب کی خدمت میں صرف کردی۔بلآخر 3جنوری 1927ءکو عظیم آباد میں انتقال فرمایا۔

شاعرانہ عظمت


شاد بڑے قادرالکلام شاعر تھے۔انہوں نے مختلف اصناف سخن پر طبع آزمائی کی لیکن ان کے خاص میدان غزل اور مرثیہ رہے۔مرثیہ میں انہوں نے میر انیس کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کی ہے اور خیال و زبان میں انیس جیسی لطافت، چاشنی اور تاثیر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔شاد کے کلام میں دہلی اور لکھنو کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔انہوں نے غالب اور مومن کے مقبول ترین رنگ کی تقلید کی اور پھر اسی سے اپنا ایک منفرد رنگ پیدا کیا جس کی وجہ سے ان کا شمار اردو غزل گو شعراء کی صف اول میں ہوتا ہے۔

شاد نے مثنوی، غزل، قصیدہ، مرثیہ اور دوسری اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن ان کی شہرت کا باعث ان کی غزلیں ہیں جو سادگی اور گھلاوٹ، ترنم و شرینی، کیف و سرور اور تازگی و تاثیر کی بدولت توجہ کے لائق ہیں۔شاد کے زمانے میں غزل کا زور اور اثر کم ہونے لگا تھا لیکن شاد نے اسے نکھارنے،سنوارنے اور استحکام بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔

شاد عظیم آبادی کا شمار اردو کے کلاسیکی شعراء میں ہوتا ہے۔ان کا شعری لہجہ منفرد بھی ہے اور موثر بھی۔وہ اگر قدیم شعری لہجے کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں تو اپنے دور کے جدید طرز اظہار سے بھی پوری طرح آشنا ہیں۔شاد کی شاعری کا خاص وصف زبان کی صفائی اور سادگی ہے ان کے ہاں بندش میں روانی اور چستی پائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ جذبات کی پاکیزگی اور لطافت بھی شاد کی اہم خصوصیت ہے۔واردات قلبی کے اظہار کے ساتھ ساتھ انہوں نے غزل میں اخلاقی، فلسفیانہ، عارفانہ اور توحید سے متعلق موضوعات کو غزل میں سمویا ہے۔ان کی شاعری میں داخلی رنگ کے ساتھ ساتھ خارجی رنگ بھی نمایاں ہے۔انہوں نے اپنی غزلوں میں حمد، نعت اور منقبت کے مضامین کو اس طرح سے پرویا ہے کہ ان سے انکی غزلوں کو ایک نئی معنویت حاصل ہوگئی ہے۔

شعلۂ نار و سقر سے جو بچا لے وہ شراب
حشر میں گرتے ہوؤں کو جو سنبھالے وہ شراب

غزل کے بنیادی موضوعات عشق و محبت کی باتیں کرنا ہے۔ان موضوعات میں بھی شاد نے اپنی ایک شناخت قائم کی ہے۔ان کا عشق والہانہ ہے اور اس میں وہ بڑی بے باکی سے کہتے ہیں:

ویران کیجئے کے دلوں کو بسائیے
مے کش تمام آپ کے میخانہ آپکا

شاد کو محبوب کے اس تجاہل عارفانہ سے بھی آگاہی ہے جو دلوں کو ویران تو کرتا ہے مگر ذہن سے یادوں کو نہیں مٹاتا۔اس لیے کسی کی یاد شاد کے یہاں نگاہ ناز کی برچھی تو بنتی ہے لیکن وہ اس راز سے بھی واقف ہیں کہ نیا فسوں ساز نئے انداز کے ساتھ آیا ہے۔وہ شکوہ و شکایت اپنے محبوب سے نہیں کرتے بلکہ اپنے جذبوں کو کچھ یوں ادا کرتے ہیں:

پوچھو نہ حال چشم دل آویز یار کا
کھولو نہ راز گردش لیل و نہار کا

پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے

شاد کا عشق اس بنیادی انسانی فطرت سے تعلق رکھتا ہے جہاں جنس ایک مسلم قوت کی حیثیت سے ابھرتی ہے۔شاد کی عشقیہ غزلیں اپنے اندر اس رس کی کیفیت رکھتی ہیں جو ہندوستانی نظریات کی پہچان ہیں۔

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا
چشمۂ تر تو نے مجھ کو کھو دیا

نگہ کی برچھیاں جو سہ سکے سینہ اسی کا ہے
ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے

تجھ سے مایوس ہزاروں ہیں تصدق تجھ پر
تو سلامت رہے تجھ سے ہے تمّنا باقی

اوپر درج کئے گئے اشعار سے ایک خاص طرح کی فکر، ذہنی پختگی اور سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔اس کے علاوہ شاد کے یہاں ان کا ایک اور رنگ ہے جسے ہم بےحد دلآویز کہہ سکتے ہیں۔

ایک ستم اور لاکھ ادائیں اُف ری جوانی ہائے زمانے
ترچھی نگاہیں، تنگ قبائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے

کالی گھٹائیں، باغ میں جھولے، دھانی دوپٹے لٹ چھٹکائے
مجھ پہ یہ قدغن آپ نہ آئیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے

شاد نہ وہ دیدار پرستی، اور نہ وہ بے نشہ کی مستی
تجھ کو کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے

یہ پوری غزل اپنا منفرد لب و لہجہ رکھتی ہے۔شاد کا عشق اسی دنیا کا عشق ہے، اسی مادری و فانی دنیا کا عشق،جی ہاں لیکن ان کے عشق میں ایک طرح کی طرح داری پائی جاتی ہے۔انہیں یہ بھی احساس تھا کہ یہ دنیا یوں ہی چلتی رہے گی اس کی محفل اسی طرح رنگ برنگی اور پرکشش بنی رہے گی۔

شاد کی غزلوں سے ان کے ذہن کی پختگی، مزاج کی شاستگی اور طرز فکر کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔شاد نے عشقیہ مضامین بھی باندھے ہیں اور محبوب کی پیکر تراشی بھی۔لیکن انہوں نے ہر جگہ اپنا ایک معیار قائم رکھا ہے۔کہیں بھی کوئی بات اعتدال سے ہٹ کر نہیں کی۔انہوں نے اپنے لئے ایک معیار بنائے رکھا اور کلام میں ایک سنجیدگی کی فضا ہمیشہ قائم رکھی۔شاد کے چند ایسے شعر جو مادی محبت اور عشق مجازی سے تعلق رکھتے ہیں یہاں پیش کئے گے ہیں جس سے یہ اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے کہ ان کا عشق ایک مذہب شخص کا تجربۂ حیات ہے،جس میں چاہنے اور چاہے جانے کا جذبہ پوری طرح موجود ہے۔

شاد نے اپنی زبان کو کبھی بھی دہلی اور لکھنو کے دبستانوں میں مقید نہیں کیا۔البتہ دونوں سے زبان کی ہمواری، محاوروں کے استعمال، روزمرہ کی برجستگی، لفظوں کے در و بست اور ان کی معنوی قدروقیمت سے استفادہ ضرور کیا۔شاد صناۂع و بداۂع کے استعمال کو بہت اہمیت نہیں دیتے تھے،لیکن کہیں کہیں رعایت لفظی سے کام ضرور لیتے تھے۔اس طرح شاد کی غزل گوئی اپنے انفرادی لب و لہجے کے باعث اردو کی غزلیہ شاعری میں ایک اہم اور منفرد آواز بن کر ہمارے سامنے آتی ہے۔

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

شاد کے دیوان میں 1200 غزلیں ہیں جن میں گیارہ ہزار پانچ سو گیارہ شعر ہیں۔ شاد کی غزلوں کا دیوان ان کے شاگرد حمید عظیم آبادی نے 1928ء میں مرتب کرکے "نغمہ الہام” کے نام سے شائع کیا۔ نثر و نظم دونوں میں شاد نے کئی تصانیف یادگار چھوڑیں جو قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔شاد کی تصانیف نثر و نظم، فارسی و اردو، مطبوعہ و غیر مطبوعہ سب ملا کر قریب 32 ہیں۔ آپ کی شعری تصانیف میں ‘حیات فریاد’ ‘رباعیات شاد’ ‘سروش مستی’ ‘میخانہ الہام’ ‘نغمہ الہام’ ‘نالہ شاد’ ‘اندھیر نگری(دیوان)’ ‘مثنوی مادر وطن’ ‘تاریخ بہار’ ‘نوائے وطن’ اور خود نوشت”شاد کی کہانی شاد کی زبانی” خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

A post shared by Urdu Notes (@urdu_notes) on Jul 24, 2018 at 3:53am PDT

Close