شفیق فاطمہ شعریٰ

شفیق فاطمہ شعریٰ حیدرآباد کی معروف شاعرہ گزری ہیں۔ ان کی ولادت 1930 میں ناگپور میں ہوئی۔ ان کے والد سید شمشاد علی سہانپور، اترپردیش کے رہنے والے تھے۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد اورنگ آباد چلے آئے۔ شعریٰ اپنے والدین کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اس لیے ہر دل عزیز تھیں۔ کتابوں کا شوق انھیں ان کے والد سے ملا۔ ان کے والد نے تاریخ میں ایم اے کیا تھا۔ اس لیے ان کے گھر میں تاریخی، ادبی، اور تصوفانہ کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ شعریٰ کو پریم چند کی ناول پڑھنے کا شوق تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے مہابھارت، رامائن، اور ضربِ کلیم وغیرہ کتابوں کا مطالعہ بھی کر رکھا تھا۔

شعریٰ کی ابتدائی تعلیم اورنگ آباد میں مکمل ہوئی۔ انھیں اردو، عربی اور فارسی پر فوقیت حاصل تھی۔ 1957 میں گریجویشن مکمل کیا پھر مرہٹھوڑا یونیورسٹی سے 1960 میں بی- ایڈ کیا۔ اور دو سال بعد 1962 میں ناگپور یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔  بعد ازاں ممتاز کالج میں بطور معلمہ پڑھانے لگیں۔

شعریٰ نے کم عمری سے ہی شاعری گوئی کا آغاز کیا۔ ان کا تخلص شعریٰ ہے۔ 1953 میں ان کی پہلی نظم فصیلِ اورنگ آباد منظرِ عام پر آئی۔ اس نظم میں ان کی اورنگ آباد سے وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظم کے ذریعے انھوں نے ایک کرب، درد و اضطراب کو بیان کیا ہے کہ کس طرح لوگوں کے چلے جانے کے بعد صرف ان کے نقوش رہ جاتے ہیں۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام گلۂ صفورہ تھا جو 1965 میں لکھا گیا تھا لیکن اس کی اشاعت 1987 میں ہوئی۔ دوسرا مجموعہ آفاقِ نوا بھی 1987 میں شائع ہوا۔ بعد ازاں کرن کرن یادداشت اور سلسلۂ مکالمات 2006 میں جاری ہوۓ۔

شعریٰ ہمیشہ ہی دانشورانہ موضوعات، مذہب اور تصوف پر مبنی شاعری لکھتی تھیں۔ انھوں نے اپنی نظموں میں عورتوں کے عکس کو مذہبی حوالات کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کی نظم اسیر اس کی عمدہ مثال ہے۔ علامتی انداز میں شعریٰ عورتوں کی زندگی کا عکس ہمارے سامنے لاتی ہیں کہ کس طرح سے خواتین جذبات و بندشوں کی کشمکش میں مبتلا ہوتی ہیں۔

شعریٰ نئے زمانہ کی بھینٹ چڑھتے روایات و تہذیب سے پریشان نظر آتی تھیں۔ ان کے نزدیک جہان میں امن و امان کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ دنیا کے شور شرابے میں انسان اپنی تہذیب و اصولوں کو فراموش کر رہا ہے۔ اگر دنیا اسی طرح گمراہی کا شکار رہی تو پھر انسانوں کا نام و نشاں باقی نہیں رہے گا۔ چونکہ ان کا انداز علامتی تھا اس لیے جذبات کی شدت ان کی شاعری میں کم ملتی ہے البتہ ایک خاموش احتجاج اور التجا ملتی ہے جو امن و امان کا پیغام دیتی ہے۔ دہشت گردی، خون خرابہ، جنگ و تشدد سے دور رہنے کی تجویز دیتی ہے۔ شفیع الرحم اور افتاد گاہیں نجوم کی اسی سلسلہ کی نمایاں نظمیں ہیں۔

شفیق فاطمہ شعریٰ کی شاعری میں جذبات و احساسات کی ترجمانی، مذہب و روایت کا اقدار، گہری و شعوری سوچ اور عصری حالات کا اظہار منفرد انداز میں ملتا ہے۔ 2010ء میں وہ جگر کی بیماری میں مبتلا ہوئیں اور اسی بیماری سے لڑتے ہوئے 13 اگست 2012 ء کو ان کا انتقال ہوا۔

written by

Tehreem Shaikh

Close